یوم عرفہ 11

یوم عرفہ: آنسوؤں، دعاؤں اور رب کی بے پناہ رحمت کا دن

مکہ مکرمہ کی تپتی دوپہر، میدانِ عرفات کا وسیع رقبہ، اور لاکھوں انسانوں کا ایک بے کراں سمندر۔ مگر اس سمندر میں دنیاوی ہنگاموں کا کوئی شور نہیں، بس ایک ہی صدا گونج رہی ہے، "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ” (حاضر ہوں میرے رب، میں حاضر ہوں)۔

آج یوم عرفہ ہے۔ یہ صرف اسلامی کیلنڈر کی نویں ذوالحجہ نہیں، بلکہ یہ وہ دن ہے جب زمین پر آسمان سے رحمتوں کی سب سے موسلادھار برسات ہوتی ہے۔ آج کا دن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، اس کے رب کی رحمت اس کے غضب پر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔

یوم عرفہ: ایک لباس، ایک مقام، اور ایک سی آہیں

میدان عرفات میں کھڑے ان لاکھوں افراد کو دیکھ کر انسان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ کوئی بادشاہ ہے یا فقیر، کسی بڑی کمپنی کا مالک ہے یا کوئی عام سا مزدور، سب نے اپنے دنیاوی مرتبے، عہدوں اور فخر کو اتار کر دو سفید، ان سلے کپڑوں (احرام) میں خود کو لپیٹ لیا ہے۔

یہ منظر ہمیں بڑی خاموشی سے یاد دلاتا ہے کہ اس دنیاوی چمک دمک کے پردے کے پیچھے ہم سب اندر سے کتنے محتاج اور کتنے بے بس ہیں۔ اللہ کے دربار میں سب برابر ہیں، نہ کوئی پروٹوکول، نہ کوئی وی آئی پی۔

آنسو جو دل کا بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں

 

ذرا تصور کریں! چلچلاتی دھوپ میں، کھلے آسمان کے نیچے، ہاتھ اٹھائے ایک شخص، جس کی آنکھوں سے مسلسل ندامت کے آنسو بہہ رہے ہیں۔ وہ اپنے رب سے کچھ نہیں چھپا رہا۔ وہ اپنی تمام کمزوریوں، لغزشوں، ٹوٹے ہوئے وعدوں اور گناہوں کا اعتراف کر رہا ہے۔

آج کے دن انسان کا اپنے رب کے سامنے گڑگڑانا، اور اپنے دل کا سارا غبار اور درد آنسوؤں کی صورت میں بہا دینا، وہ سکون دیتا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت، کوئی ڈیجیٹل پروڈکٹ یا کوئی کامیابی نہیں خرید سکتی۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک انسان اپنے خالق سے براہ راست بات کرتا ہے، بغیر کسی واسطے کے۔ ٹوٹے ہوئے دلوں کی آواز سیدھی عرش تک جاتی ہے۔

دور بیٹھے دلوں کی دھڑکن

اور جو لوگ آج میدانِ عرفات میں موجود نہیں، ان کے دل بھی وہیں دھڑک رہے ہیں۔ دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان آج روزے کی حالت میں ہیں، کیونکہ ان کے نبی محترم ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

یہ ایک دن پوری امت مسلمہ کو، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، ایک روحانی دھاگے میں پرو دیتا ہے۔

ایک نئی شروعات کا پیغام

غروبِ آفتاب کے وقت جب حاجی میدانِ عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں، تو ان کے تھکے ہوئے مگر پرسکون چہروں پر ایک عجیب سا طمانیت کا نور ہوتا ہے۔ وہ اس غیر متزلزل یقین کے ساتھ لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف کر دیے گئے ہیں اور وہ اس نوائیدہ بچے کی طرح پاک ہو چکے ہیں جس نے ابھی اس دنیا میں آنکھ کھولی ہو۔

یوم عرفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی سب سے بڑی ہار ہے۔ ہم زندگی کی دوڑ میں چاہے کتنی ہی بار کیوں نہ گریں، ہمارا رب ہمیشہ ہمیں اٹھانے، سینے سے لگانے اور معاف کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ آج کے دن ہمیں بھی اپنے دلوں کو نفرتوں، رنجشوں اور کدورتوں سے پاک کرنا چاہیے، اور اس ربِ کریم سے اپنے لیے، اپنے پیاروں کے لیے اور پوری انسانیت کے لیے خیر، عافیت اور سلامتی کی دعا مانگنی چاہیے۔

آج کا دن مانگنے کا دن ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر مانگیں، کیونکہ آج وہ دینے پر آیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں