مفت سفری سہولت 19

پنجاب میں مفت سفری سہولت کا خاتمہ

کل 13 جون کی صبح جب پنجاب کا مزدور، طالب علم اور سفید پوش دفتر جانے والا شخص اپنے گھر سے نکلے گا، تو اس کے کاندھوں پر ایک نیا معاشی بوجھ لاد دیا گیا ہوگا۔

پچھلے کچھ عرصے سے اورنج لائن ٹرین، میٹرو اور سپیڈو بسوں میں مفت سفر کی جو سہولت عوام کو میسر تھی، وہ آج رات ختم کی جا رہی ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے طبقے کے لیے یہ محض ایک سفری سہولت کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔

 مفت سفری سہولت کوئی عیاشی نہیں، ضرورت تھی

پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والا طبقہ کوئی اشرافیہ نہیں ہے۔ یہ وہ طالب علم ہیں جو بمشکل اپنی فیسیں پوری کرتے ہیں اور روزانہ بچنے والے کرائے سے دوپہر کا کھانا کھا لیتے ہیں۔ یہ وہ دیہاڑی دار مزدور اور نچلے درجے کے ملازمین ہیں جن کی کل تنخواہ کا ایک چوتھائی حصہ صرف کام پر آنے جانے میں لگ جاتا ہے۔

جب ریاست نے انہیں  مفت سفر کی سہولت دی، تو یہ ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ اس سے ان کی زندگانی میں جو تھوڑا سا سکھ اور سکون آیا تھا، اسے اتنی جلدی واپس لے لینا ایک انتہائی ظالمانہ اور غیر ہمدردانہ قدم محسوس ہوتا ہے۔

"حکومت کا سر درد” اور ریاست کی ذمہ داری

اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ حکومت کے پاس اتنا بجٹ نہیں اور سب کو مفت سفر کروانا خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ (یا سر درد) ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاستیں بنتی کس لیے ہیں؟ کیا ریاست کا کام صرف ٹیکس اکٹھا کرنا اور دفتری کارروائیاں پوری کرنا ہے؟

ایک فلاحی حکومت کا تو بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ عوام کے دکھ درد سمیٹے اور معاشی مشکلات کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ اگر حکومت اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ، بیوروکریسی کی مراعات، سرکاری گاڑیوں کے پٹرول اور پروٹوکولز کا بوجھ ہنس کر برداشت کر سکتی ہے، تو غریب کی بس کا ٹکٹ حکومت کے لیے اتنا ناقابلِ برداشت سر درد کیوں بن گیا؟

ایک عام آدمی ریاست سے اور مانگتا ہی کیا ہے؟ سستی روٹی، علاج اور سفر کی سہولت۔ اگر ریاست یہ چند بنیادی چیزیں بھی فراہم نہیں کر سکتی تو پھر حکومتی ترجیحات پر سوالیہ نشان اٹھنا لازمی ہے۔

سہولت کیسے جاری رکھی جائے؟

 مفت سفری سہولت کو جاری رکھنے کے لیے کسی پیچیدہ نظام یا لمبی چوڑی پالیسیوں کی ضرورت نہیں، بلکہ صرف ترجیحات کے تعین کی ضرورت ہے۔

اس مسئلے کا سب سے ریشنل حل یہ ہے کہ حکومت اپنی غیر ضروری اور غیر ترقیاتی (Non-developmental) اخراجات پر کٹ لگائے۔ سرکاری محکموں کی شاہ خرچیوں، اشتہارات اور پروٹوکول کے بجٹ کا محض ایک چھوٹا سا حصہ اگر پبلک ٹرانسپورٹ کی سبسڈی کی طرف موڑ دیا جائے، تو یہ سہولت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھی جا سکتی ہے۔

پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ ہونے والا پیسہ کوئی "خسارہ” نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی سرمائے (Human Capital) پر کی جانے والی سرمایہ کاری ہے۔ جب مزدور وقت پر اور سکون سے کام پر پہنچے گا، اور طالب علم بغیر کسی معاشی پریشانی کے تعلیمی ادارے جائے گا، تو اس کا براہِ راست فائدہ اسی ملک کی معیشت اور معاشرے کو ہوگا۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ مفت سفری سہولت ختم کرنے کے  اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔ غریب کو ملنے والے اس چھوٹے سے ریلیف کو بند کرنے کے بجائے، حکومت یہ سر درد خندہ پیشانی سے برداشت کرے، کیونکہ اسی کا نام اصل حکمرانی اور ریاستِ مدینہ کا تصور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں