وائلڈ لائف سفاری پارک 19

پاکستان کا پہلا عالمی معیار کا وائلڈ لائف سفاری پارک

ذرا تصور کیجیے کہ آپ ایک کھلے میدان سے گزر رہے ہیں۔ چند ہی فاصلے پر ہرنوں کا ریوڑ دوڑ رہا ہے، ایک طرف ہاتھی پانی میں کھیل رہے ہیں، دور شیر آرام سے درختوں کے سائے میں بیٹھے ہیں اور آپ یہ سب کچھ کسی پنجرے کے باہر نہیں بلکہ ایک محفوظ سفاری بس سے دیکھ رہے ہیں۔

اب تک ایسے مناظر دیکھنے کے لیے پاکستانی سیاحوں کو جنوبی افریقہ، کینیا، دبئی یا سنگاپور کا رخ کرنا پڑتا تھا، مگر اگر حکومتی منصوبہ کامیاب ہو گیا تو آنے والے برسوں میں یہ تجربہ اسلام آباد میں بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے قریب ملپور فاریسٹ پارک کو پاکستان کے پہلے عالمی معیار کے وائلڈ لائف سفاری پارک کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کی ابتدائی منصوبہ بندی اور فزیبلٹی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ اگلا مرحلہ تعمیر اور عمل درآمد کا ہوگا۔

لیکن سوال صرف یہ نہیں کہ سفاری پارک کہاں بنے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ پارک کیوں بنایا جا رہا ہے، اس سے فائدہ کس کو ہوگا اور اس کی کامیابی کن چیزوں پر منحصر ہوگی؟

 

صرف ایک تفریحی مقام نہیں

 

عام طور پر جب لوگ سفاری پارک کا نام سنتے ہیں تو ذہن میں جانور اور سیاحت آتی ہے، مگر جدید دنیا میں سفاری پارکوں کا مقصد اس سے کہیں آگے جا چکا ہے۔

آج دنیا کے کامیاب سفاری پارک نایاب جانوروں کی افزائش، زخمی جنگلی حیات کی بحالی، سائنسی تحقیق، ماحولیاتی تعلیم اور قدرتی ماحول کے تحفظ کا مرکز بن چکے ہیں۔ اگر اسلام آباد کا منصوبہ بھی انہی اصولوں پر استوار کیا جاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

 

وائلڈ لائف سفاری پارک کیلئے ملپور کیوں؟

 

یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت نے ملپور فاریسٹ پارک ہی کا انتخاب کیوں کیا۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ یہاں پہلے سے قدرتی جنگلات موجود ہیں، زمین نسبتاً وسیع ہے اور مقام اسلام آباد کے شہری علاقوں سے زیادہ دور بھی نہیں۔ اس طرح جانوروں کے لیے نسبتاً قدرتی ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے جبکہ سیاح بھی آسانی سے یہاں پہنچ سکیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے میں جنگل کو ختم کرنے کے بجائے اسی قدرتی ماحول کو استعمال کیا جائے گا تاکہ جانور پنجرے کے بجائے کھلے اور قدرتی طرز کے احاطوں میں رہ سکیں۔

 

منصوبے میں کیا کچھ ہوگا؟

 

ابتدائی معلومات کے مطابق سفاری پارک میں مختلف تھیم والے زونز، سفاری روٹس، وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر، جدید ویٹرنری سہولیات، تعلیمی مراکز، وزیٹر کمپلیکس، بچوں کے لیے آگاہی پروگرام اور ہزاروں جانوروں کے لیے قدرتی طرز کے مسکن بنانے کی تجویز شامل ہے۔

اگر یہ منصوبہ منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہوتا ہے تو پاکستان میں پہلی مرتبہ ایسا سفاری پارک وجود میں آ سکتا ہے جو صرف جانور دکھانے کے بجائے تحفظ اور تحقیق کا مرکز بھی ہو۔

 

پاکستان کو اس کی ضرورت کیوں؟

 

پاکستان قدرتی حسن اور حیاتیاتی تنوع سے مالا مال ملک ہے، مگر بدقسمتی سے جنگلی حیات کے تحفظ پر ہماری توجہ ہمیشہ محدود رہی ہے۔

مارخور، برفانی چیتا، کالا ریچھ، اڑیال، چنکارہ اور کئی نایاب پرندے ایسے ہیں جن کی آبادی مختلف وجوہات کی بنا پر دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر جدید سفاری پارک تحقیق، افزائش نسل اور عوامی آگاہی کے مراکز بن جائیں تو یہ نایاب انواع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

 

وائلڈ لائف سفاری پارک معیشت اور سیاحت پر کیا اثر پڑے گا؟

 

دنیا بھر میں سفاری پارک صرف تفریح نہیں بلکہ بڑی معاشی سرگرمی بھی ہوتے ہیں۔

اگر اسلام آباد میں عالمی معیار کا پارک قائم ہو جاتا ہے تو نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس سے ہوٹل، ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، مقامی کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے اپنی سیاحتی صنعت کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے منصوبے اگر کامیاب ہوں تو ملک کی مثبت شناخت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

 

لیکن کچھ سوال بھی ہیں

 

ہر بڑا منصوبہ اپنے ساتھ سوالات بھی لاتا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر منصوبہ احتیاط سے نہ بنایا گیا تو موجودہ جنگلات اور مقامی جنگلی حیات متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح جانوروں کی خریداری، دیکھ بھال، طبی سہولیات اور مستقل اخراجات بھی ایک بڑا چیلنج ہوں گے۔

سب سے اہم سوال شفافیت کا ہے۔ عوام جاننا چاہیں گے کہ اس منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی، فنڈز کہاں سے آئیں گے اور اس کی نگرانی کیسے ہوگی۔

 

اصل کامیابی کس چیز میں ہوگی؟

 

پاکستان میں پہلے بھی کئی بڑے منصوبے بلند دعووں کے ساتھ شروع ہوئے مگر وقت کے ساتھ مسائل کا شکار ہو گئے۔

اس لیے اس وائلڈ لائف سفاری پارک کی کامیابی صرف خوبصورت نقشوں یا افتتاحی تقاریب سے نہیں ناپی جائے گی بلکہ اس بات سے ہوگی کہ کیا یہاں جانور واقعی بہتر زندگی گزار سکیں گے؟ کیا یہ جگہ تحقیق اور تحفظ کا مرکز بنے گی؟ کیا عام شہری، طلبہ اور سیاح یہاں سے ماحول اور جنگلی حیات کے بارے میں کچھ سیکھ کر واپس جائیں گے؟

اگر ان سوالوں کا جواب "ہاں” میں ملا تو یہ منصوبہ پاکستان کے لیے ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں