سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے مالی اور جائیدادی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم اور دور رس فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو اس کے والدین، رشتہ داروں، شوہر یا سسرال کی جانب سے ذاتی استعمال اور فائدے کے لیے دیا جانے والا سونا، زیورات، جہیز، دلہن کے تحائف یا دیگر قیمتی اشیا مکمل طور پر اسی کی ملکیت ہیں۔ ان پر نہ شوہر اور نہ ہی اس کے اہل خانہ کسی قسم کا قانونی یا ملکیتی حق جتا سکتے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جہیز اور ذاتی املاک کی واپسی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کے دوران یہ فیصلہ دیا، جبکہ چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں اس بنیادی قانونی اصول کو واضح کیا کہ کسی بھی تحفے یا جائیداد کی ملکیت کا تعین اس کے نام یا عنوان سے نہیں بلکہ اس نیت سے کیا جائے گا جس کے تحت وہ دلہن کو دی گئی تھی۔ اگر کوئی چیز شادی کے موقع پر خاتون کے ذاتی استعمال، تحفظ یا فائدے کے لیے دی گئی ہے تو وہ بلاشرکتِ غیرے اسی کی ملکیت تصور ہوگی، چاہے اسے جہیز کہا جائے، برائیڈل گفٹ، تحفہ یا ذاتی سامان۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر شوہر یا اس کے اہل خانہ ایسی جائیداد، زیورات یا دیگر تحائف کو اپنی تحویل میں رکھیں، واپس کرنے سے انکار کریں، یا ان پر ناجائز قبضہ برقرار رکھیں تو یہ خاتون کے قانونی ملکیتی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ ایسی صورت میں متاثرہ خاتون فیملی کورٹ سے رجوع کرکے اپنی املاک کی واپسی کا قانونی حق رکھتی ہے۔
87 تولہ سونے کا مقدمہ
یہ فیصلہ ایک ایسے مقدمے میں سامنے آیا جس میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے والدین نے شادی کے وقت اسے 87 تولہ سونے کے زیورات اس کے ذاتی استعمال اور مستقبل کے تحفظ کے لیے تحفے میں دیے تھے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر ایسی اشیا دلہن کے ذاتی فائدے کے لیے دی گئی ہوں تو ان کی ملکیت صرف اسی کی ہوگی اور کوئی دوسرا شخص ان پر حق نہیں جتا سکتا۔
زیورات صرف رسم نہیں، خواتین کا معاشی تحفظ بھی
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں معاشرتی حقائق کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ برصغیر کے معاشرے میں شادی کے موقع پر دیے جانے والے زیورات صرف رسم یا زیبائش کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ اکثر خواتین کے لیے مالی تحفظ، معاشی خودمختاری اور مشکل حالات میں سہارا بھی ثابت ہوتے ہیں۔ اسی لیے قانون ایسے اثاثوں کو خصوصی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
فیملی کورٹس کو خصوصی اختیار
عدالت نے اپنے فیصلے میں فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے سیکشن 5 کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بیوی کی ذاتی املاک، جہیز، زیورات اور دیگر ذاتی سامان سے متعلق تنازعات سننے اور ان کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار فیملی کورٹس کو حاصل ہے۔ اس قانون کا مقصد خواتین کے معاشی اور جائیدادی حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنانا ہے۔
یہ اصول پہلے بھی موجود تھا، حالیہ فیصلہ مزید مضبوط بنا گیا
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کوئی نیا قانون متعارف نہیں کراتا بلکہ پہلے سے موجود قانونی اصول کو مزید واضح اور مضبوط انداز میں دہراتا ہے۔ ماضی میں بھی سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے زیورات ، تحائف اور جہیز اس کی ذاتی ملکیت ہیں اور طلاق یا ازدواجی تنازع کی صورت میں بھی شوہر یا اس کے خاندان کو ان پر کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔
حالیہ فیصلے کی خاص بات یہ ہے کہ عدالت نے پہلی مرتبہ نہایت واضح الفاظ میں یہ اصول بیان کیا کہ ملکیت کا فیصلہ کسی چیز کے نام سے نہیں بلکہ دینے والے کی نیت اور دلہن کے خصوصی حق کی بنیاد پر ہوگا۔ اس کے ساتھ عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ایسی جائیداد کو روکنا، واپس نہ کرنا یا ناجائز طور پر اپنے قبضے میں رکھنا خاتون کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جس کے خلاف وہ فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ دلہن کو ملنے والے زیورات کو اس کی مکمل ملکیت قرار دینے کا یہ فیصلہ نہ صرف خواتین کے املاک سے متعلق حقوق کو مزید مضبوط بناتا ہے بلکہ مستقبل میں جہیز، برائیڈل گفٹس اور شادی کے موقع پر دیے گئے سونے اور زیورات سے متعلق مقدمات میں بھی ایک اہم نظیر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔