
لاہور کی پارک ویو سٹی سے دل دہلا دینے والی ویڈیوز موصول ہو رہی ہیں جس میں سیلابی پانی تمام ترحفاظتی انتظامات توڑ کر رہائشی بلاک میں گھس چکا ہے۔
سیلاب نے صرف ہاؤسنگ سوسائٹی کو ہی نہیں بلکہ ساتھ کئی گھرانوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی کو بھی ڈبو دیا ہے۔
شہری اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں کیونکہ یہاں انہیں چند سہانے خواب دکھا کر لایا گیا تھا اور انہوں نے زندگی بھر کی جمع پونجی یہاں لگا دی تھی جو اب دریا برد ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
پارک ویو سٹی لاہور سمیت، اسلام آباد ، کراچی اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر مضفافاتی علاقوں میں قائم کردہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ایسا ہی منظر نامہ پیش کر رہی ہیں۔
#قومی_لیڈر_بےگناہ_بےقصور#floodinpakistan #LahoreFloods
پارک ویو سٹی کی اپ ڈیٹ pic.twitter.com/ogfWLrWpCP— MAP. عدیل عادی (@Adeel9559) August 30, 2025
ماہرین ماحولیات اور دیگر اداروں کی تمام تر وارننگز کے باوجود دریا کا راستہ کاٹ کر یہاں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بسا دی گئیں۔
یہ سوسائٹیاں ایک رات میں کھڑی نہیں کی گئیں، ان کی سالوں مارکیٹنگ کی گئی ، تب جا کر عوام یہاں اپنی جمع پونجی لگانے پر راضی ہوئی۔
لیکن اب اپنا سرمایہ ڈوبتا دیکھ کر شہری دہائی دے رہے ہیں تو سوال اٹھ رہا ہے کہ ریگولیٹری ادارے اس وقت کہاں تھے جب یہ منصوبے بنائے جا رہے تھے۔
ان اداروں کی اپنی ہی کچھ مجبوریاں ہیں، جن میں سے طاقت کے آگے سرنگوں کر دینا پہلی مبجوری ہے۔
مثال کے طور پر پارک ویو سٹی اہم سیاسی شخصیت کی ملکیت ہے۔ اب ریگولیٹری ادارے چاہ کر بھی اس پر اپنا رعب و دبدبہ نہیں چلا پائیں گے۔ نتیجتاً عوام کی جمع پونجی ہی ڈوبے گی۔
نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور عوم کا ڈوبتا پیسہ، ذمہ دار کون؟
موجودہ سیلابی صورتحال کو اب میڈیا اور عوام کی جانب سے قدرتی آفت نہیں بلکہ انسان کی پیدا کردہ آفت سے تشبیہ دی جارہی ہے۔
اس سیلابی صورتحال نے کئی مقامات پر متوسط طبقے کی 2 سے 3 کروڑ تک کی آمدنی ڈبو دی ہے جو کہ زندگی بھر کی جمع پونجی تھی ۔
راتوں رات زندگی بھر کی جمع پونجی لٹ جانے کے بعد معاوضے کی واپسی کی امید بھی نہ ہونے کے برابر ہے ۔
مضحکہ خیز بات یہ کے ان سوسائیٹوں میں ایسے بلاک جو کہ دریا کے نزدیک تھے، وہاں کے باسیوں سے یہ کہہ کر زیادہ پیسے بٹور لئے گئے کہ انہیں دریا کے خوشنما منظر دیکھنے کو ملیں گے۔
ستم ظریفی دیکھیں کہ دریا نے پہلے انہی عمارتوں کواپنی زد میں لیا، اور ساتھ بہا لے گیا۔
یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسی کیا وجوہات تھیں جنہوں نے لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی چند لمحات میں ڈبو دی۔
بنا اجازت ہاؤسنگ منصوبوں کو پھیلاؤ اور قبضہ:
سیلاب میں رہائشی منصوبوں کے بہہ جانے کی یہ خبریں 2025 میں کوئی انوکھی خبر نہیں ہے۔
وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑیوں کے اطراف تیزی سے تعمیر ہوتے رہائشی اور کمرشل منصوبے، کراچی میں نکاسی کیلئے مختص نالوں پر تعمیر کی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور سوات سمیت دیگر تفریحی مقامات پر بنا اجازت اور پانی کے رستے میں بنائے گئے کمرشل منصوبے سب اسی وباء کا حصہ ہیں۔
ان منصوبوں کی تعمیر کا اعلان ہوتے ہی ماحولیاتی ماہرین، شہری اپنے تحفظات سے آگاہ کرنا شروع کر دیتے۔
لیکن ان مشوروں کو اس وقت تک خاطر میں نہیں لایا جاتا جب تک قدرتی آفت سب کچھ بہا نہ لے جائے۔
جنگلات کی کٹائی اور دیگر ماحولیاتی بگاڑ:
پاکستان میں جنگلات کا رقبہ جنوبی ایشیاء میں سب سے کم تصور کیا جاتا ہے اور اس میں تیزی سے کمی بھی واقع ہو رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ماحول میں تیزی سے تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
اس جنگلات کی کٹائی نے زمینی کٹاؤ،سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ وغیرہ کو دعوت دی ہے ۔
دریا اپنا راستہ واپس لے کر رہتا ہے، بزرگوں کا یہ قول 100 فیصد درست ثابت ہورہا ہے۔ اس لئے دریا کاٹ کر بنائی گئی یہ سوسائٹیاں اب دریا برد ہونے لگی ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے پانی کے مسائل؛بھارت کا پانی بطور ہتھیار استعمال یا ہماری بدانتظامی
سیلابی صورتحال سے رہائشی منصوبے متاثر، حل کیا ہے؟
پانی اپنا راستہ واپس لے کر رہتا ہے، اس لئے انہی گھروں/ رہائشی کالونیوں میں بسے رہنا مزید تباہی کو دعوت دینا ہے۔ اس لئے آگے کا راستہ نکالنا ناگزیر ہو گیا ہے، جس کے چند ممکنہ حل ہو سکتے ہیں۔
- ہائی رسک علاقوں میں رہائشی اور کمرشل منصوبوں کو فوری طور پر ہٹانا۔ متاثرین کو معقو معاوضہ واپس کرنا تا کہ وہ دوبارہ آباد کاری کر سکیں۔
- تعمیرات سے متعلق قوانین میں حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتری لانا اور سختی سے عملدرآمد کرانا۔
- ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور کالونیوں کو ماحولیاتی اہداف سے منسلک کرنا جیسا کہ اتنے درخت لگائے جائیں وغیرہ۔ اہداف سے انحراف کی صورت میں این و سی کینسل کرنا۔
- بلدیاتی محکموں کو جدید سطحوں پر استوار کرانا اور خود مختار بنانا۔
- فرد واحد سے لیکر صوبائی اور وفاقی حکومتوں تک ہر ایک کو ماحولیاتی مسائل سے متعلق حساس بنانا اور ضروری تربیت دینا۔
2025 کے مون سون سے ہمارے سیکھنے کے اسباق:
پاکستان میں 2025 کے مون سون نے تبار کاریوں کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے عملی اقدامات کی مانگ کی ہے۔ یہ مسئلہ اب "اگلے سال دیکھا جائے گا” کی سوچ سے بڑھ کر مؤثر حکمت عملی کا طلب گار ہے۔
پانی کی کمی ہو یا پانی کی زیادتی سے سیلابی صورتحال ، ہمیں سمجھ آ جانی چاہیے کہ پاکستان میں اس کے پیچھے وجہ قدرتی آفات نہیں ہماری اپنی بدانتظامی ہے۔
آنے والے چند ماہ ہماری آئندہ کی سمت طے کریں گے کہ کیا ہم ماحولیاتی حدود کا احترام کرنے والے ملک کے باسی بنتے ہیں یا نہیں۔