فوربز 30 انڈر 30 24

فوربز 30 انڈر 30 ایشیا 2026: پاکستان کی سات شخصیات شامل

پاکستان کے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اور جب بھی انہیں موقع ملتا ہے، وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔

حال ہی میں مشہور امریکی جریدے ‘فوربز’ (Forbes) نے اپنی سال 2026 کی فوربز 30 انڈر 30 ایشیا فہرست جاری کی ہے، جس میں 7 ایسے باصلاحیت پاکستانیوں کو شامل کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

آرٹ اور انٹرٹینمنٹ سے لے کر سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی خدمات تک، ان نوجوانوں کی کہانیاں نہ صرف متاثر کن ہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ محنت اور لگن سے ہر خواب سچ کیا جا سکتا ہے۔

آئیے ان سات پاکستانیوں کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں  نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا ہے:

1. ہانیہ عامر (انٹرٹینمنٹ)

 

ہانیہ عامر کا نام اب کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ اس وقت پاکستان کی سب سے مقبول اور سب سے زیادہ فالو کی جانے والی (انسٹاگرام پر 2 کروڑ فالوورز کے ساتھ) خاتون اداکارہ ہیں۔

‘سنگِ ماہ’ اور ‘کبھی میں کبھی تم’ جیسے ہٹ ڈراموں میں شاندار اداکاری کے بعد، اب وہ نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ‘جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو’ میں جلوہ گر ہونے جا رہی ہیں۔

فوربز نے انہیں ان کی اداکاری کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی ویمن نیشنل گڈ ول ایمبیسڈر کے طور پر ان کی شاندار خدمات پر بھی سراہا ہے۔

2. سمن کامران (انٹرٹینمنٹ)

 

سمن کامران ایک ایسی نوجوان فلم ساز ہیں جو ان موضوعات پر بات کرنے سے نہیں گھبراتیں جنہیں معاشرے میں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کی شارٹ فلم ‘دی بیڈ شی میڈ’ (The Bed She Made) نے بوسان انٹرنیشنل شارٹ فلم فیسٹیول میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

اس فلم میں ماحولیاتی تبدیلیوں اور خواتین کے مسائل جیسے حساس اور پیچیدہ موضوعات کو بڑی خوبصورتی اور گہرائی سے اجاگر کیا گیا تھا۔

3. ڈاکٹر ماہیرہ غنی (ہیلتھ کیئر اور سائنس)

 

ڈاکٹر ماہیرہ غنی ہمارے لیے سائنس کے میدان میں ایک روشن ستارہ ہیں۔ انہوں نے 2025 میں کیمبرج یونیورسٹی سے میٹریلز سائنس میں پی ایچ ڈی کی اور اب الٹرا تھن سیمی کنڈکٹرز پر پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچ کر رہی ہیں۔

انہوں نے ‘WinSci Pakistan’ کے نام سے ایک پروجیکٹ بھی شروع کیا جو لڑکیوں کو سائنس کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کی اس شاندار کاوش پر انہیں عالمی سطح پر ‘نیچر انسپائرنگ ویمن ان سائنس ایوارڈ’ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

4. سید اسماعیل (کنزیومر اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی)

 

کراچی سے تعلق رکھنے والے سید اسماعیل نے 2021 میں ‘صراف’ (Saraaf) نامی اسٹارٹ اپ کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد اجناس (جیسے روئی اور اونکس) کی سپلائی اور تجارت کو ڈیجیٹل اور شفاف بنانا ہے۔

ان کا یہ پلیٹ فارم خریداروں اور بیچنے والوں کے لیے شپمنٹ ٹریکنگ، ڈیجیٹل کنٹریکٹس اور لائیو چیٹ جیسی جدید سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس شاندار آئیڈیا کو ‘شارک ٹینک پاکستان’ میں 5.3 ملین ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی پیشکش بھی مل چکی ہے۔

5 اور 6. محمد فرقان کریم قدوائی اور سرفراز شاہد حسین (فنانس اور وینچر کیپیٹل)

 

حبیب یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ان دو دوستوں نے مل کر سنگاپور میں ‘پلوٹون اے آئی’ (Plouton AI) کی بنیاد رکھی۔

یہ ایک ایسا جدید پلیٹ فارم ہے جو درمیانے درجے کی کمپنیوں کو ان کے فنانس اور اکاؤنٹنگ کے کاموں کو آٹومیٹ (automate) کرنے میں مدد دیتا ہے۔

انہوں نے محسوس کیا کہ اب بھی بہت سی کمپنیاں اپنا ریکارڈ رکھنے کے لیے ایکسل اور ای میلز پر انحصار کرتی ہیں، چنانچہ انہوں نے ایک ایسا سسٹم بنایا جو انوائسنگ، پے رول اور مہینے کے آخر کی کلوزنگ جیسے مشکل کاموں کو خودکار اور تیز تر بناتا ہے۔

7. فہد شہباز (سوشل امپیکٹ)

 

فہد شہباز پاکستان کے وہ باشعور نوجوان لیڈر ہیں جنہوں نے محض 18 سال کی عمر میں 2015 میں یوتھ جنرل اسمبلی’ کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو حکومت، پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا تھا۔

فہد ان چند عالمی نوجوان رہنماؤں میں سے ہیں جنہیں برطانیہ کا باوقار ‘ڈیانا ایوارڈ’ بھی مل چکا ہے اور اب فوربز 30 انڈر 30 کی فہرست میں بھی ان کا نام شامل ہو گیا ہے۔ وہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل اور انتھک محنت کر رہے ہیں۔

فوربز 30 انڈر 30 ایشیاء؛ پاکستان کا بڑا حصہ

یہ سات نوجوان اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ جب ارادے پختہ ہوں تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کا راستہ نہیں روک سکتی۔ ان کی یہ کامیابیاں نہ صرف ان کے اپنے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔

ہمیں امید ہے کہ ان کی کہانیاں پڑھ کر مزید پاکستانی نوجوان اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے نئی ہمت اور لگن کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں