ڈرپ یا انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
شریعت کے طے کردہ اصولوں سے اکثر ناواقفیت کی وجہ سے ہم کم علمی کی بنا پر اپنا روزہ خراب کر بیٹھتے یا توڑ بیٹھتے ہیں۔

رمضان المبارک میں عموماً ایک سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ انجیکشن لگوانے سے، ڈرپ لگوانے سے، یا اگر کوئی مریض ہے — مثلاً شوگر کا مریض ہے اور وہ شوگر چیک کرنے کے لیے خون نکلواتا ہے — یا کسی کو خون دینا پڑتا ہے، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ احادیث کی روشنی میں فقہاء نے روزہ ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا کیا معیار مقرر کیا ہے۔
انجیکشن یا ڈرپ لگوانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں
مفتی انعام اللہ شاہ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ احادیث کی روشنی میں فقہاء نے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا ایک معیار مقرر کیا ہے۔
مفتی انعام اللہ شاہ کے مطابق روزہ ٹوٹنے کا معیار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں مختلف راستے رکھے ہیں جن کے ذریعے چیزیں پیٹ تک اور دماغ تک پہنچتی ہیں۔
تو قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی روزہ توڑنے والی چیز "جوفِ بطن” یا "جوفِ دماغ” میں "منفذِ اصلی” (یعنی قدرتی اور حقیقی راستے) کے ذریعے پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
جوفِ بطن میں پھیپھڑے بھی شامل ہیں، معدہ بھی شامل ہے اور آنتیں بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی روزہ توڑنے والی چیز ان تک یا دماغ تک اپنے اصل اور قدرتی راستے سے پہنچ جائے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
اب اس معیار کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب انجیکشن یا ڈرپ کے ذریعے دوا یا پانی جسم میں جاتا ہے تو کیا حکم ہے؟
دوا یا پانی کا اثر ہوتا ہے، وہ معدے تک بھی پہنچ سکتا ہے اور آنتوں تک بھی، لیکن چونکہ انجیکشن یا ڈرِپ کے ذریعے جو دوا جا رہی ہے وہ "منفذِ اصلی” یعنی قدرتی راستوں (جیسے منہ یا ناک) کے ذریعے نہیں جا رہی، اس لیے انجیکشن یا ڈرِپ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
منفذِ اصلی کیا ہے؟ یہ منہ ہے، یہ ناک ہے — یعنی وہ راستے جو قدرتی طور پر بنائے گئے ہیں۔ اگر ان راستوں کے ذریعے کوئی دوا، پانی یا کوئی بھی روزہ توڑنے والی چیز جوفِ بطن تک پہنچ جائے تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا۔
خون دینے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟
دوسرا اصول یہ ہے کہ حدیث کے مطابق روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو جسم کے اندر داخل ہو، نہ کہ اس سے جو جسم سے خارج ہو۔
لہٰذا خون نکلوانے سے — خواہ ٹیسٹ کے لیے ہو یا کسی کو خون دینے کے لیے — کوئی چیز جسم سے باہر جا رہی ہے، اس لیے اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
ماحصل
شریعت کے طے کردہ اصولوں سے اکثر ناواقفیت کی وجہ سے ہم کم علمی کی بنا پر اپنا روزہ خراب کر بیٹھتے یا توڑ بیٹھتے ہیں۔ ایسی صورت میں کوشش کی جائے کے فرضی باتوں سے نتیجہ اخذ کرنے کی بجائے کسی عالمِ دین سے رابطہ کر لیا جائے تا کہ روزہ ضائع نہ ہو۔
اسی طرح رمضان المبارک میں اکثر تھلیسیمیا اور دوسرے مریض جنہیں خون کی اشد ضرورت ہوتی لیکن روزہ دارا اس ڈر سے کہ روزہ نہ ٹوٹ جائیں خون دینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ رہتا ہے۔



