چارلی چپلن 125

چارلی چپلن کی موت کے بعد اسکی لاش کیساتھ کیا ہوا

مجھے بارش میں چلنا بہت پسند ہے کیوں کہ بارش میں کوئی میرے آنسو نہیں دیکھ سکتا- دوستو یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جس نے اپنی لاجواب اداکاری سے پوری دنیا کو مسکرانے پر مجبور کیا-

دنیا اس شخص کو چارلی چپلن کہ نام سے جانتی ہے- جس کی لاش کو چوری کر لیا گیا-

 

چارلی چپلن ، زندگی کے ابتدائی ایام:

چارلی چپلن 1889 میں انگلینڈ میں پیدا ہوا- اس کے ماں باپ اسٹیج اداکار تھے لیکن بد قسمتی سے دونوں ہی چارلی اور اس کے بھائی سڈنی کو دنیا میں تنہا چھوڑ گئے-

دنیا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والے چارلی نے پیٹ کی خاطر بہت سے کام کیے- اس نے اخبار بیچے، اس نے بچوں کے کھلونے بنانے والی کمپنی میں بھی ملازمت کی اور ایک ڈاکٹر کے ہیلپر کے طور پر بھی کام کیا- غرض اپنا اور اپنے بھائی کا پیٹ پالنے کے لئے ہر کام کیا-

لیکن اپنے ماں باپ کی طرح چارلی چپلن کے اندر بھی ایک فنکار چھپا بیٹھا تھا- لہٰذا اس نے ملازمت کے ساتھ ساتھ اسٹیج پر بھی کام کرنا شروع کر دیا-

چھوٹے چھوٹے کردار ادا کر کے چارلی لوگوں کی نظروں میں آ گیا اور ایک ڈرامہ بنانے والی کمپنی کے ساتھ امریکہ جانے کا موقع ملا- یہیں سے اس کی قسمت کا ستارہ چگمگانا شروع ہوا-

چارلی کے کیرئیر پر مختصر نظر:

1912 میں چارلی کو ایک فلم کی آفر ہوئی جس نے اسے امریکہ میں بہت مشہور بنا دیا- اس کے بعد ایک سے بڑھ ایک فلم اسے ملتی گئی اور کامیڈی کی سائلنٹ فلموں کا بے تاج بادشاہ بن گیا-

چارلی نے 4 شادیاں کی اور اس کے 8 بچے تھے- اس نے 4 کتابیں بھی لکھیں اور موسیقی کے آلات پر بھی اسے کافی عبور حاصل تھا-

 

چارلی چپلن کی وفات اور لاش کی چوری:

 

دسمبر، 1977 کرسمس والے دن چارلی چپلن 88 سال کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کر گیا- دو دن بعد سوئٹزر لینڈ میں اس کی آخری رسومات ادا کر کے اس کے گھر کے باہر ہی دفنا دیا گیا-

لیکن آگے کیا ہونے جا رہا تھا کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا- چارلی چپلن کے انتقال کے تقریبا 2 ماہ بعد اس کی بیوی کو سوئٹزر لینڈ کی پولیس کی طرف سے کال آئی- پولیس نے اونا چپلن کو ایسی بات بتائی جس نے اس کے پاؤں تلے زمین کھسکا دی-

پولیس کے مطابق چارلی مردہ جسم اس کی قبر سے غائب تھا- کسی نے اس کا جسم چرا لیا تھا- پوری دنیا اس عجیب و غریب حرکت کو سن کر حیران رہ گئی-

پولیس نے چوری کی اس انوکھی واردات پر تحقیقات شروع کر دیں- کچھ دنوں بعد چارلی چپلن کی بیوی کو ایک کال آئی جو چارلی کا جسم چرانے والوں نے کی تھی- مجرموں نے چارلی کے مردہ جسم کے بدلے 6 لاکھ ڈالرز کا مطالبہ کیا-

یہ ایک بہت عجیب واقعہ تھا کیوں کہ ایک لاش کی خاطر تاوان مانگا جا رہا تھا- چارلی کی بیوی نے اتنی بڑی رقم دینے سے انکار کر دیا- جس پر اغوا کاروں نے اس کے بچوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی-

 

ملزمان کی گرفتاری:

اس زمانے میں فون بوتھ سے کال کی جاتی تھی- لہٰذا پولیس نے اس علاقے کے 200 کے قریب فون بوتھز کی نگرانی شروع کر دی جو کامیاب ہوئی- پولیس نے چارلی چپلن کی لاش چرانے کا الزام میں 4 لوگوں کو گرفتار کر لیا-

ان چوروں نے سوئٹزر لینڈ میں پناہ لی ہوئی تھی اور یہ مکینک تھے- انہوں نے چارلی کے جسم کو چوری کر کے اس کے گھر سے ایک میل دور کھیتوں میں دفن کر دیا تھا-

پولیس نے ان کی موجودگی میں چارلی کے تابوت کو کھیتوں سے نکالا اور پھر سے اس کی اصل قبر میں دفنا دیا- پھر اس کی قبر کو کنکریٹ سے پکا کر دیا گیا تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے- مجرموں کو قید کی سزا سنا دی گئی- ان لوگوں نے چارلی کی بیوی سے معافی بھی مانگی اور انہیں معاف بھی کر دیا گیا-

لیکن اس عجیب واقعہ نے پوری دنیا کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا تھا- کامیڈی فلموں کا بے تاج بادشاہ چارلی چپلن کی قبر آج بھی سوئٹزر لینڈ میں ہی موجود ہے-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں