سرخ مرچ 100

سرخ مرچ پاؤڈر میں افلاٹاکسن کا بڑھتا خطرہ اور صحتِ عامہ کے لیے سنگین سوالات

پاکستان کے تقریباً ہر گھر کے باورچی خانے میں استعمال ہونے والی سرخ مرچ محض ایک مصالحہ نہیں بلکہ روزمرہ خوراک کا لازمی جزو ہے۔

تاہم ماہرینِ صحت، زرعی سائنس دانوں اور غذائی تحفظ سے متعلق اداروں کی تحقیق ایک ایسے خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر طویل عرصے میں انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

یہ خطرہ افلاٹاکسن بی ون (Aflatoxin B1) نامی ایک زہریلے مادے کا ہے، جو مخصوص پھپھوندی (فنگس) کے ذریعے پیدا ہوتا ہے اور اسے دنیا کے خطرناک ترین کینسر پیدا کرنے والے مادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

حالیہ عرصے میں موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی، پانی کی قلت اور غیر متوقع مون سون کے باعث سندھ میں مرچ کی کاشت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں افلاٹاکسن کی آلودگی میں اضافے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

افلاٹاکسن کیا ہے اور یہ بنتا کیسے ہے؟

افلاٹاکسن ایک قدرتی زہریلا مادہ ہے جو Aspergillus flavus اور Aspergillus parasiticus نامی پھپھوندی پیدا کرتی ہیں۔

یہ فنگس عموماً اس وقت تیزی سے نشوونما پاتی ہے جب:

  • درجہ حرارت بہت زیادہ ہو۔
  • فصل پانی کی کمی کا شکار ہو۔
  • نمی زیادہ ہو۔
  • فصل کو مناسب طریقے سے خشک یا ذخیرہ نہ کیا جائے۔

ماہرین کے مطابق افلاٹاکسن صرف کھیت میں ہی نہیں بنتا بلکہ کٹائی کے بعد ناقص خشک کرنے، نمی والی گوداموں میں ذخیرہ کرنے یا غیر معیاری پیکنگ کے دوران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

سندھ کے مرچ کے کاشتکار کیوں پریشان ہیں؟

پاکستان میں پیدا ہونے والی سرخ مرچ کا بڑا حصہ سندھ کے اضلاع عمرکوٹ، کنری اور میرپورخاص سے آتا ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں شدید ہیٹ ویوز، طویل خشک سالی، بے ترتیب بارشیں، اور آبپاشی کے مسائل نے مرچ کی فصل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

پودا جب گرمی اور پانی کی کمی کے باعث کمزور ہوتا ہے تو فنگس کے حملے کا امکان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

باورچی خانے تک پہنچنے والا خاموش خطرہ

غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف فصل خراب ہونے تک محدود نہیں رہتا۔ اگر آلودہ مرچ کو پیس کر مصالحہ بنا دیا جائے تو افلاٹاکسن ختم نہیں ہوتا۔

یہ عام پکانے، بھوننے، تلنے یا ابالنے سے بھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ یہ انتہائی حرارت برداشت کرنے والا زہریلا مرکب ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آلودہ مرچ روزانہ سالن، سبزی، دال یا گوشت میں استعمال ہو رہی ہے تو خاندان کے افراد مسلسل اس کے سامنے آ رہے ہوتے ہیں۔

تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟

پاکستان میں مختلف جامعات اور تحقیقی اداروں کی جانب سے کیے گئے مطالعات میں کئی مرتبہ مارکیٹ سے حاصل کیے گئے مرچ پاؤڈر کے نمونوں میں افلاٹاکسن کی مقدار بین الاقوامی معیار سے کہیں زیادہ پائی گئی ہے۔

بعض مطالعات میں پسی ہوئی سرخ مرچ میں افلاٹاکسن کی اوسط مقدار تقریباً 80 مائیکروگرام فی کلوگرام رپورٹ کی گئی، جبکہ یورپی یونین خشک مرچ میں افلاٹاکسن بی ون کی زیادہ سے زیادہ حد 5 مائیکروگرام فی کلوگرام مقرر کرتی ہے۔

یہ اعداد و شمار اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف برآمدات تک محدود نہیں بلکہ مقامی صارفین کے لیے بھی تشویش کا باعث ہو سکتا ہے۔

افلاٹاکسن صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی تحقیقی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC) نے افلاٹاکسن بی ون کو گروپ ون کارسینوجن قرار دیا ہے، یعنی ایسا مادہ جس کے بارے میں سائنسی شواہد موجود ہیں کہ وہ انسانوں میں سرطان پیدا کر سکتا ہے۔

طبی تحقیقات کے مطابق طویل عرصے تک مسلسل افلاٹاکسن کے استعمال سے جگر کے کیسنر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، مدافعتی نظام متاثر ہو سکتا ہے، بچوں کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور غذائی قلت کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو پہلے ہی ہیپاٹائٹس بی کا وائرس لاحق ہو تو افلاٹاکسن کے باعث جگر کے سرطان کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان کی برآمدات پر بھی اثر

یہ مسئلہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔

گزشتہ برسوں میں پاکستانی مرچ اور دیگر زرعی مصنوعات کی متعدد کھیپیں یورپی ممالک میں افلاٹاکسن کی زیادہ مقدار کے باعث مسترد کی جا چکی ہیں۔

برآمد کنندگان کو اضافی لیبارٹری ٹیسٹ، معائنوں اور سخت قواعد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔

صرف پاکستان میں استعمال کے لیے ایک تشویشناک دعویٰ

حالیہ اداریوں اور بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ کچھ مرچ کی مصنوعات پر "Only for Consumption in Pakistan” جیسا لیبل لگایا جاتا ہے۔

اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر جامع تحقیقات یا باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم اگر ایسا عمل واقعی ہو رہا ہو تو یہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا وہ مصنوعات جو بین الاقوامی معیار پر پوری نہیں اترتیں، مقامی مارکیٹ میں فروخت کی جا رہی ہیں؟

غذائی تحفظ کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے دعوؤں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ صارفین کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔

خاموش خطرہ، فوری توجہ کا متقاضی

پاکستان میں سرخ مرچ روزانہ لاکھوں گھروں میں استعمال ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افلاٹاکسن کا مسئلہ کسی ایک فصل یا ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ قومی صحت کا معاملہ بن چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ساتھ کاشت، ذخیرہ اور خوراک کی نگرانی کے نظام میں بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ خاموش خطرہ مستقبل میں صحتِ عامہ اور معیشت دونوں کے لیے سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

خوراک میں معیار اور حفاظت صرف برآمدی منڈیوں کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے بنیادی حق سے جڑا ہوا سوال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں