قدرتی آفات انسان سے سب کچھ چھین سکتی ہیں، لیکن وہ انسان کے اندر چھپی انسانیت، ہمت اور ایثار کو بھی دنیا کے سامنے لے آتی ہیں۔
وینزویلا زلزلہ کے دوران ایک ترک شہری، ابراہیم ایسر نے ایسی ہی مثال قائم کی جسے لوگ برسوں یاد رکھیں گے۔
39 سیکنڈ میں بدل گئی زندگی
24 جون کو وینزویلا کے ساحلی شہر لا گوائیرا میں صرف 39 سیکنڈ کے وقفے سے دو طاقتور زلزلے آئے۔ چند لمحوں میں بلند و بالا عمارتیں لرزنے لگیں، دیواریں زمین بوس ہو گئیں، سڑکیں گرد و غبار سے بھر گئیں اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ یہ منظر کسی جنگ زدہ شہر سے کم نہیں تھا۔
انہی لمحوں میں ابراہیم ایسر اپنے دفتر میں موجود تھے۔ اچانک فرنیچر اور الماریاں گرنے لگیں، مگر اس ہولناک صورتحال میں ان کے ذہن میں سب سے پہلے اپنی جان نہیں، بلکہ اپنی اہلیہ اور بچوں کا خیال آیا، جو ایک ایسی عمارت کے پیچھے رہتے تھے جو چند لمحوں بعد زمین بوس ہو گئی۔
سب سے پہلے خاندان کی حفاظت
وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے گھر کی طرف دوڑے۔ راستے میں تباہی کا ایسا منظر تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ ٹوٹی ہوئی عمارتوں سے ملبہ گر رہا تھا، لوگ خوف کے مارے بھاگ رہے تھے اور ہر طرف گرد کے بادل چھائے ہوئے تھے۔
گھر پہنچ کر انہوں نے سب سے پہلے اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ ہر شخص یہی سوچتا کہ اب جان بچا کر اس خطرناک علاقے سے نکل جانا چاہیے، لیکن ابراہیم ایسر نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے انہیں دوسروں سے منفرد بنا دیا۔
جب سب باہر جا رہے تھے، وہ اندر جا رہا تھا
اپنے خاندان کے محفوظ ہونے کا یقین ہوتے ہی وہ دوبارہ اسی تباہ شدہ علاقے کی طرف دوڑ پڑے، جہاں ہر لمحہ مزید عمارتیں گرنے اور آفٹر شاکس آنے کا خطرہ موجود تھا۔
لوگ جان بچا کر باہر نکل رہے تھے، مگر وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر اندر جا رہے تھے۔ ان کے نزدیک اگر ان کا خاندان محفوظ تھا تو اب ان کی ذمہ داری ان لوگوں تک پہنچنا تھی جو ملبے کے نیچے زندگی اور موت کی کشمکش میں پھنسے ہوئے تھے۔
خالی ہاتھ، مگر حوصلہ پہاڑ جیسا
ابراہیم ایسر کئی گھنٹوں تک بغیر کسی جدید مشینری کے، صرف اپنے ہاتھوں سے بھاری کنکریٹ، پتھر اور لوہے کے ملبے کو ہٹاتے رہے۔ ہر آواز پر رک جاتے، ہر آہٹ پر امید باندھتے کہ شاید کوئی زندہ انسان مدد کا منتظر ہو۔
ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں چالیس کے قریب زخمی افراد کو ملبے سے نکال کر محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔ ان میں ان کے پڑوسی بھی تھے اور وہ لوگ بھی جنہیں وہ پہلے کبھی نہیں جانتے تھے۔ اس لمحے ان کے لیے سب کی پہچان صرف ایک تھی: "یہ ایک انسان ہے، اور اسے بچانا ہے۔”
بعد ازاں ابراہیم ایسر نے بتایا کہ ملبے کے نیچے سے مدد کے لیے پکارنے والی آوازیں آج بھی ان کے ذہن میں گونجتی ہیں۔ کئی لوگوں کو زندہ نکالنے میں کامیابی ملی، مگر کچھ ایسے بھی تھے جن تک وہ پوری کوشش کے باوجود بروقت نہیں پہنچ سکے۔ یہی لمحے ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ رہے۔
جب مشینیں نہیں تھیں، انسانیت کام آ رہی تھی
وینزویلا زلزلہ کے بعد ابتدائی کئی گھنٹوں تک بہت سے علاقوں میں بھاری ریسکیو مشینری موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے مقامی شہری اور رضاکار اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر لوگوں کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ ابراہیم ایسر بھی انہی بہادر رضاکاروں میں شامل تھے، جنہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دوسروں کی زندگیاں بچانے کو ترجیح دی۔
انسانیت کی اصل پہچان
دنیا میں ہیرو وہ نہیں ہوتے جن کے پاس غیر معمولی طاقت ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو خوف کے عالم میں بھی انسانیت کا دامن نہیں چھوڑتے۔ وینزویلا زلزلہ کے دوران ابراہیم ایسر کی کہانی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حقیقی بہادری صرف اپنے گھر والوں کو بچانے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی اپنی جان خطرے میں ڈالنے میں ہے۔
قدرتی آفات بہت کچھ تباہ کر دیتی ہیں، لیکن ایسے کردار امید کا وہ چراغ روشن کر دیتے ہیں جو اندھیری راتوں میں بھی بجھتا نہیں۔ ابراہیم ایسر نے ثابت کیا کہ جب انسانیت آواز دیتی ہے تو کچھ لوگ اپنی حفاظت سے پہلے دوسروں کی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں، اور یہی لوگ تاریخ میں احترام کے ساتھ یاد رکھے جاتے ہیں۔
