پاکستانی کرنسی نوٹ صرف لین دین کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ قومی شناخت اور تاریخی ورثے کی بھی علامت ہیں۔ ہر پاکستانی نے اپنی زندگی میں بے شمار مرتبہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی وہی معروف تصویر دیکھی ہوگی جو ہر مالیت کے کرنسی نوٹ پر نمایاں ہوتی ہے۔
آپ نے اکثر مزاح میں سنا ہوگا کہ جہاں پر کام نہ بن رہا ہو وہاں قائد اعظم کی تصویر کام آجاتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کرنسی نوٹ پر قائد اعظم کی یہ تصویر کب کی ہے اور یہ کس مقصد کیلئے کھینچی گئی تو جو بعدازاں کرنسی نوٹوں کی زینت بن گئی۔
کرنسی نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر کب کی ہے؟
کرنسی نوٹ پر قائد اعظم کی تصویر دراصل ان کے پاسپورٹ کے لیے 1943 میں کراچی میں بنوائی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب 24 ستمبر 1957 کو پاکستان میں پہلی مرتبہ 100 روپے کا کرنسی نوٹ جاری کیا گیا تو اسی تصویر کو نوٹ پر جگہ دی گئی۔
بعد ازاں آنے والے برسوں میں جتنے بھی نئے کرنسی نوٹ متعارف کرائے گئے، ان پر بھی قائدِ اعظم کی یہی تصویر برقرار رکھی گئی۔
قائداعظم کی ایک ہی تصویر مسلسل کیوں استعمال ہوتی ہے؟
ایک ہی تصویر مسلسل استعمال کرنے کی ایک اہم وجہ عوام کے لیے آسان شناخت فراہم کرنا تھی۔ اس زمانے میں پاکستان کی ایک بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی تھی، جہاں شرح خواندگی بھی کم تھی۔
ایسے حالات میں اگر ہر کرنسی نوٹ پر قائدِ اعظم کی ایک ہی معروف تصویر موجود ہو تو عام شہریوں کے لیے نوٹ کو پہچاننا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک ہی تصویر کے مسلسل استعمال سے جعلی نوٹوں کی ابتدائی شناخت میں بھی مدد ملتی ہے۔ عوام جب ہر نوٹ پر ایک ہی چہرہ اور ایک جیسی بنیادی شناخت دیکھتے ہیں تو کسی غیر معمولی فرق کی صورت میں انہیں شک ہو سکتا ہے کہ نوٹ اصلی نہیں۔ اگرچہ جعلی نوٹ کی شناخت کے لیے جدید سیکیورٹی فیچرز زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، تاہم عوامی سطح پر یہ تصور بھی کافی عرصے سے مقبول ہے۔
دوسری جانب مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی شخصیات کی ایک ہی مستند تصویر یا پورٹریٹ کو طویل عرصے تک کرنسی پر برقرار رکھتے ہیں تاکہ قومی شناخت میں تسلسل قائم رہے۔ اسی لیے پاکستان میں بھی قائدِ اعظم کی یہی تصویر کئی دہائیوں سے قومی کرنسی کا مستقل حصہ سمجھی جاتی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی یہی مسکراتی ہوئی تصویر گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی کرنسی کی پہچان بن چکی ہے۔
نئی نسل سے لے کر بزرگوں تک ہر پاکستانی اس تصویر کو قومی وقار، آزادی کی جدوجہد اور ملک کے بانی کی یاد کے طور پر دیکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ پورٹریٹ آج بھی پاکستان کے کرنسی نوٹوں کا سب سے نمایاں اور منفرد حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
