گرین گریٹ وال 24

47 برس میں 66 ارب درختوں سے بنی چین کی گرین گریٹ وال

تقریباً نصف صدی قبل شروع ہونے والا چین کا عظیم شجرکاری منصوبہ، جسے دنیا "گریٹ گرین وال” (Great Green Wall) یا "تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ پروگرام” (Three-North Shelterbelt Program) کے نام سے جانتی ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت لگائے گئے اربوں درخت قدرتی جنگلات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے نشوونما پا رہے ہیں۔

 

1978 میں شروع ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا شجرکاری منصوبہ

 

چین نے 1978 میں ملک کے شمالی علاقوں میں پھیلتے ہوئے گوبی اور تکلامکان صحراؤں کا راستہ روکنے، زرعی زمینوں کو محفوظ بنانے، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے اور گرد آلود طوفانوں کی شدت گھٹانے کے لیے ایک وسیع شجرکاری منصوبہ شروع کیا۔

اس منصوبے کے تحت اب تک تقریباً 66 ارب درخت لگائے جا چکے ہیں، جبکہ اس کا دائرہ کار ہزاروں کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ منصوبے کا ہدف صرف درخت لگانا نہیں بلکہ ماحول کو بحال کرنا، زمین کی زرخیزی بہتر بنانا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا بھی ہے۔

نئی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

 

سائنسی جریدے Geophysical Research Letters میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق، چین کے ان لگائے گئے جنگلات میں پتوں کی افزائش اور سبزے کی بڑھوتری قدرتی جنگلات کے مقابلے میں اوسطاً 66 فیصد زیادہ تیز دیکھی گئی۔

تحقیق میں صرف ظاہری سبزہ نہیں دیکھا گیا بلکہ سائنس دانوں نے جنگلات کی عمر، موسم، بارش، درجہ حرارت، درختوں کی اقسام اور دیگر ماحولیاتی عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔

ان تمام عوامل کو الگ کرنے کے بعد بھی معلوم ہوا کہ مصنوعی طور پر لگائے گئے جنگلات قدرتی جنگلات کے مقابلے میں تقریباً 4.6 فیصد زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

تیز رفتار نشوونما کی اصل وجوہات کیا ہیں؟

 

ماہرین کے مطابق اس گرین گریٹ وال کی تیز رفتار بڑھوتری کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ان جنگلات کے بیشتر درخت نسبتاً نوجوان ہیں۔ نوجوان درخت اپنی ابتدائی عمر میں قدرتی طور پر زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں۔

دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ چین نے کئی علاقوں میں پاپلر اور یوکلپٹس جیسے تیزی سے بڑھنے والے درختوں کی اقسام کا انتخاب کیا، جن کی افزائش قدرتی جنگلات میں موجود بہت سے درختوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ان جنگلات کی باقاعدہ دیکھ بھال، آبپاشی، کیڑوں سے تحفظ، مناسب فاصلے پر شجرکاری اور دیگر انتظامی اقدامات بھی ان کی بہتر نشوونما میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

کیا اس کا مطلب ہے کہ قدرتی جنگلات کم اہم ہیں؟

تحقیق کے مصنفین اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ لگائے گئے جنگلات اپنی ابتدائی دہائیوں میں فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) نسبتاً تیزی سے جذب کر سکتے ہیں، لیکن قدرتی جنگلات کی اہمیت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔

قدرتی جنگلات نہ صرف سینکڑوں اقسام کے جانوروں، پرندوں، حشرات اور پودوں کا مسکن ہوتے ہیں بلکہ وہ طویل عرصے تک کاربن ذخیرہ رکھنے، پانی کے قدرتی نظام کو برقرار رکھنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

اسی لیے ماہرین کے مطابق مصنوعی جنگلات، قدرتی جنگلات کی جگہ نہیں لے سکتے بلکہ دونوں کی اپنی الگ اہمیت ہے۔

منصوبے کو کن مشکلات کا سامنا بھی رہا؟

 

اگرچہ چین کے اس منصوبے کو دنیا کی بڑی ماحولیاتی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم اس دوران کئی چیلنجز بھی سامنے آئے۔

ابتدائی برسوں میں خشک علاقوں میں لگائے گئے لاکھوں درخت پانی کی کمی کے باعث زندہ نہ رہ سکے۔ بعض مقامات پر ایک ہی قسم کے درخت لگانے سے بیماریوں اور کیڑوں کے حملوں کا خطرہ بھی بڑھا۔

کچھ ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ بعض تیزی سے بڑھنے والے درخت زیر زمین پانی زیادہ استعمال کرتے ہیں، جس سے خشک علاقوں میں پانی کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔

بعد ازاں چین نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے مقامی اقسام کے درختوں، مخلوط جنگلات اور ماحول سے ہم آہنگ شجرکاری کو زیادہ ترجیح دینا شروع کی۔

دنیا کے لیے اس تحقیق کا کیا پیغام ہے؟

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے شجرکاری انتہائی ضروری ہے، لیکن صرف زیادہ سے زیادہ درخت لگانا کافی نہیں۔

درختوں کی درست اقسام کا انتخاب، مقامی ماحول سے مطابقت، پانی کی دستیابی، حیاتیاتی تنوع اور طویل المدتی منصوبہ بندی بھی اتنی ہی اہم ہے۔

تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگر مناسب منصوبہ بندی کے ساتھ شجرکاری کی جائے تو مصنوعی جنگلات ابتدائی برسوں میں ماحول کے لیے نمایاں فوائد فراہم کر سکتے ہیں، تاہم قدرتی جنگلات کا تحفظ اب بھی عالمی ماحولیاتی پالیسی کا بنیادی ستون ہونا چاہیے۔

چائنہ کی گرین گریٹ وال پر تحقیق کیا کہتی ہے؟

 

نئی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ چین کے شجرکاری منصوبے کے تحت لگائے گئے جنگلات ابتدائی مرحلے میں قدرتی جنگلات کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور فضا سے کاربن جذب کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم سائنس دان واضح کرتے ہیں کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مصنوعی جنگلات قدرتی جنگلات کا متبادل بن سکتے ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے لیے بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ ایک طرف نئے درخت لگائے جائیں، جبکہ دوسری طرف موجود قدرتی جنگلات، ان کی حیاتیاتی تنوع اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے۔ یہی متوازن راستہ دنیا کو موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے میں حقیقی مدد فراہم کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں