سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ایک جعلی ویڈیو نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
ویڈیو میں سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کی آواز اور چہرے کی نقل کرتے ہوئے یہ جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ کرکٹ لیجنڈ وسیم اکرم دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں۔ یہ ویڈیو تیزی سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی، تاہم بعد ازاں یہ خبر مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوئی۔
شانیرا اکرم نے ویڈیو جاری کر کے افواہوں کی تردید کر دی
افواہوں کے زور پکڑنے پر وسیم اکرم کی اہلیہ شانیرا اکرم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تازہ ویڈیو شیئر کی، جس میں وسیم اکرم جم میں ورزش کرتے ہوئے نظر آئے۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ریکارڈنگ ان جعلی خبروں اور اے آئی ویڈیوز کے جواب میں شیئر کی جا رہی ہے، تاکہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ وسیم اکرم خیریت سے ہیں اور مکمل طور پر صحت مند ہیں۔
جعلی ویڈیو کیسے تیار کی گئی؟
رپورٹس کے مطابق وائرل کلپ میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے شعیب اختر کی آواز، اندازِ گفتگو اور چہرے کی نقل کی گئی تھی۔ ویڈیو اس قدر حقیقت سے قریب تھی کہ بہت سے صارفین نے اسے سچ سمجھ لیا اور بغیر تصدیق کے آگے شیئر کرتے رہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی ویڈیوز کو ڈیپ فیک (Deepfake) کہا جاتا ہے، جو جدید اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔
وسیم اکرم نے بھی خاموشی توڑ دی
افواہوں کے بعد خود وسیم اکرم نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا اور طنزیہ انداز میں ان خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں اور لوگوں کو ایسی جھوٹی خبروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا کہ کسی بھی سنسنی خیز خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کریں۔
سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل
شانیرا اکرم کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مداحوں نے اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ بڑی تعداد میں صارفین نے اے آئی کے غلط استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی۔ متعدد افراد نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو صرف ویوز، توجہ یا مالی فائدے کے لیے جھوٹی اور گمراہ کن ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔
اے آئی اور ڈیپ فیک: بڑھتا ہوا خطرہ
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی غلط معلومات پھیلانے کا مؤثر ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو چاہیے کہ کسی بھی غیر معمولی یا چونکا دینے والی خبر پر یقین کرنے سے پہلے معتبر ذرائع یا متعلقہ شخصیت کے سرکاری بیانات سے اس کی تصدیق کریں، تاکہ جھوٹی خبروں اور افواہوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
صحافتی اداروں کو بھی جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے حوالے سے اپنے سٹاف کو ٹریننگ دیتے رہنا چاہیے تا کہ کسی ادارے کا ایسی فیک خبر پھیلانے میں کردار نہ ہو کیونکہ یہ پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔
