پاکستان میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ بعض اوقات ذاتی دشمنی، غلط فہمی، اختیارات کے مبینہ غلط استعمال یا دیگر وجوہات کی بنا پر افراد کو منشیات، خصوصاً چرس کے مقدمات میں جھوٹا ملوث کر دیا جاتا ہے۔
اگرچہ ہر مقدمے کی حقیقت عدالت میں شواہد کی بنیاد پر طے ہوتی ہے، لیکن اگر کوئی شخص خود کو ایسے مقدمے کا شکار سمجھتا ہے تو قانون اسے اپنے دفاع کے لیے مختلف ذرائع فراہم کرتا ہے۔
معروف قانون دان میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں ایسے افراد کے لیے چند اہم قانونی نکات بیان کیے ہیں، جن پر بروقت عمل کرکے اپنے دفاع کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
1۔ جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کروائیں
میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ کے مطابق منشیات کا جھوٹا مقدمہ ہو جائے تو سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ایف آئی آر میں جس مقام کو جائے وقوعہ قرار دیا گیا ہے اور جہاں سے پولیس نے گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، اس جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج فوری طور پر محفوظ کروانے اور حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
اگر وہ علاقہ سیف سٹی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو مجاز اتھارٹی یا عدالت کے ذریعے بروقت درخواست دی جا سکتی ہے۔ چونکہ سی سی ٹی وی ریکارڈ محدود مدت کے لیے محفوظ رہتا ہے، اس لیے تاخیر نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
2۔ اگر کیمرہ موجود نہ ہو تو CDR طلب کریں
اگر جائے وقوعہ پر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ موجود نہ ہو یا فوٹیج دستیاب نہ ہو تو میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ کے مطابق اگلا اہم قدم کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر میں درج متعلقہ پولیس اہلکار کے موبائل نمبر کی بنیاد پر دفعہ 94 کے تحت ٹرائل کورٹ میں درخواست دی جا سکتی ہے تاکہ کال ڈیٹیل ریکارڈ طلب کیا جا سکے۔
3۔ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ
اپنے ویڈیو بیان میں میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جو جسٹس فیاض اللہ لاسی نے تحریر کیا ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مناسب قانونی بنیاد موجود ہو تو مقدمے کے دوران عدالت سے متعلقہ کال ڈیٹیل ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست دی جا سکتی ہے، اور عدالت قانون کے مطابق اس پر فیصلہ کر سکتی ہے۔
4۔ CDR دفاع میں کیسے مدد دے سکتا ہے؟
میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ کے مطابق اگر عدالت کی اجازت سے حاصل کیا گیا CDR یہ ظاہر کرے کہ متعلقہ پولیس اہلکار، مدعی یا دیگر افراد وقوعے کے وقت اس مقام پر موجود ہی نہیں تھے جہاں موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تو اس ریکارڈ کی بنیاد پر شہادت کے دوران گواہوں سے جرح کی جا سکتی ہے۔
اگر اس عمل سے بیانات میں تضادات سامنے آئیں اور یہ ثابت ہو جائے کہ سرکاری مؤقف اور دستیاب شواہد میں مطابقت نہیں، تو یہ دفاع کے حق میں ایک اہم قانونی نکتہ بن سکتا ہے، جسے عدالت شواہد کے ساتھ ملحوظِ خاطر رکھ سکتی ہے۔
اگر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بن جائے تو یاد رکھیں
ہر مقدمہ اپنے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر الگ نوعیت رکھتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز منشیات کا جھوٹا مقدمہ کا سامنا کر رہا ہے، تو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر ایک تجربہ کار وکیل سے قانونی مشورہ کریں، شواہد محفوظ کریں اور تمام قانونی کارروائی مقررہ وقت کے اندر مکمل کریں۔
نوٹ: یہ مضمون میاں عبدالمتین ایڈووکیٹ کے ویڈیو بیان میں دی گئی قانونی معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ کسی بھی مقدمے کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت دستیاب شواہد اور قانون کے مطابق کرتی ہے۔
