بابر اعظم کپتان 34

بابر اعظم کپتان ،شان مسعود کی ٹیسٹ کپتانی سے چھٹی

پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان مقرر کر دیا ہے، جبکہ شان مسعود کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ آئندہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) سیریز سے قبل کیا گیا، جس کا مقصد قومی ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لانا اور قیادت میں استحکام پیدا کرنا ہے۔

یہ اعلان پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اتوار کو قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے ساتھ کیا گیا۔ بابر اعظم دوسری مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سنبھالیں گے۔

وہ اس سے قبل 2020 سے 2023 تک قومی ٹیم کے ٹیسٹ کپتان رہ چکے ہیں، تاہم 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد انہوں نے تمام فارمیٹس کی کپتانی چھوڑ دی تھی، جس کے بعد شان مسعود کو ریڈ بال ٹیم کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

 

شان مسعود کی قیادت کیوں ختم ہوئی؟

 

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سلیکشن پینل کے سربراہ عاقب جاوید نے اسکواڈ کے اعلان کے موقع پر کہا کہ سلیکٹرز نے ٹیم کے نتائج اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

عاقب جاوید کے مطابق سلیکشن کمیٹی کو محسوس ہوا کہ بابر اعظم ٹیم کی بہتر انداز میں قیادت کر سکتے ہیں، جبکہ شان مسعود کی انفرادی کارکردگی کے باوجود ٹیم کے مجموعی نتائج اطمینان بخش نہیں تھے۔

شان مسعود کی قیادت کا دور نتائج کے اعتبار سے مشکل ثابت ہوا۔ نومبر 2023 میں کپتان مقرر ہونے کے بعد پاکستان نے ان کی قیادت میں 16 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں صرف چار کامیابیاں حاصل ہوئیں جبکہ 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان گزشتہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں نویں اور آخری پوزیشن پر رہا، جبکہ موجودہ سائیکل میں بھی بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ 2-0 کی سیریز شکست کے بعد ٹیم دوبارہ نچلے درجے پر موجود ہے۔

بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے اختتام پر شان مسعود نے اپنی کپتانی کے مستقبل کا فیصلہ پی سی بی پر چھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ٹیم کی کارکردگی پر صرف معذرت ہی کر سکتے ہیں۔

 

بابر اعظم کے سامنے نئے چیلنجز

 

بابر اعظم اب ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ اور اس کے بعد انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان کی قیادت کریں گے۔ دونوں سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

بطور ٹیسٹ کپتان بابر اعظم نے اپنے پہلے دور میں 20 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کی، جن میں 10 فتوحات، چار ڈرا اور چھ شکستیں شامل تھیں۔ اب ان پر نہ صرف ٹیم کے نتائج بہتر بنانے بلکہ ریڈ بال کرکٹ میں استحکام بحال کرنے کی بھی ذمہ داری ہوگی۔

پی سی بی نے آئندہ دوروں کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں کئی نئے چہروں کو بھی شامل کیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی نے مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت چار غیر تجربہ کار (Uncapped) کھلاڑیوں کو بھی موقع دیا ہے تاکہ ٹیم میں نئی توانائی اور مسابقت پیدا کی جا سکے۔

 

بابر اعظم کپتان بننے پر مبصرین کی رائے

 

کرکٹ مبصرین کا خیال ہے کہ بابر اعظم کی واپسی ٹیم کو تجربہ اور تسلسل فراہم کر سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان مسلسل ناقص نتائج سے دوچار ہے۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بار بار کپتانی تبدیل کرنا طویل المدتی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور ٹیم کو مستقل قیادت کی ضرورت ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ فیصلہ مکمل طور پر ٹیم کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں