کیئر اسٹارمر 32

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر مستعفیٰ ہو گئے

برطانیہ کی سیاست میں ایک بار پھر بھونچال آ گیا ہے۔ پیر کے روز برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر (Keir Starmer) نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد وہ گزشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کے ساتویں تبدیل ہونے والے رہنما بن گئے ہیں۔

10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (10 Downing Street) کے باہر صحافیوں سے انتہائی جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے، اسٹارمر کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پارٹی کے فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں اور اپنے جانشین کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کریں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:

"میں نے جو بھی فیصلہ کیا، وہ اس ملک کو مقدم رکھنے کے لیے تھا جس سے میں محبت کرتا ہوں، اور یہی وجہ ہے کہ میں لیبر پارٹی کے رہنما کی حیثیت سے مستعفی ہو جاؤں گا۔”

کیر اسٹارمر کتنے عرصے تک وزیرِ اعظم رہے؟

 

کیئر اسٹارمر نے جولائی 2024 کے عام انتخابات میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی تھی اور لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت (174 نشستوں کی برتری) کے ساتھ اقتدار میں لائے تھے۔ تاہم، ان کا دورِ حکومت دو سال سے بھی کم عرصے پر محیط رہا۔ اتنے شاندار مینڈیٹ اور تاریخی کامیابی کے باوجود، اتنی جلدی ان کا زوال برطانوی تاریخ کے حیران کن سیاسی واقعات میں سے ایک ہے۔

استعفے کی نوبت کیوں آئی؟

 

کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان مسلسل بحرانوں اور دباؤ کا نقطہ عروج ہے جس کا انہیں پچھلے کچھ عرصے سے سامنا تھا۔ ان کے زوال کی چند بنیادی وجوہات یہ ہیں:

  • معاشی جمود اور عوامی ناراضگی: ان کے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے وعدے پورے نہ ہو سکے۔ عوام کو مہنگائی اور ‘کاسٹ آف لیونگ’ (Cost of Living) کے شدید بحران کا سامنا رہا، جس سے ان کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آیا۔

  • بلدیاتی انتخابات میں شکست اور بغاوت: مئی 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کو شدید دھچکا لگا اور انہوں نے ایک ہزار سے زائد کونسل سیٹیں گنوا دیں۔ اس کے بعد ‘میکر فیلڈ’ کے ضمنی انتخاب میں سابق میئر اینڈی برنہم (Andy Burnham) کی شاندار کامیابی نے لیبر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ احساس پیدا کر دیا کہ اسٹارمر اب اگلے انتخابات میں پارٹی کو جتوانے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔

  • متنازعہ بھرتیاں اور خارجہ پالیسی: اسٹارمر کی جانب سے پیٹر مینڈیلسن (جن کا نام ماضی میں متنازعہ شخصیات سے جڑتا رہا ہے) کو امریکہ میں برطانوی سفیر مقرر کرنے کے فیصلے پر انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ یوکرین اور ایران کی جنگوں پر ان کی پالیسی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔

  • پالیسیوں پر ‘یو ٹرن’ (U-Turns): بزرگ شہریوں کے لیے سردیوں کے ایندھن کے الاؤنس (Winter Fuel Payments) جیسے اہم فلاحی فیصلوں کو واپس لینے سے انہیں ایک کمزور رہنما کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

آگے کیا ہوگا؟

 

کیئر اسٹارمر فوری طور پر وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ نہیں چھوڑیں گے۔ وہ ستمبر میں پارلیمنٹ کے دوبارہ اجلاس تک نگران (Caretaker) وزیرِ اعظم کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اس دوران لیبر پارٹی میں نئے قائد کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اینڈی برنہم، جنہیں پارٹی کے سینئر ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم اور لیبر پارٹی کے رہنما بنیں گے۔

اپنے الوداعی خطاب کے اختتام پر اسٹارمر آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ جب وہ ملک کی اس سب سے بڑی اور کٹھن ذمہ داری سے سبکدوش ہوں گے، تو وہ اپنا زیادہ تر وقت اس اہم ترین کام کو دیں گے جس کا وہ ہمیشہ سے ارادہ رکھتے ہیں— یعنی اپنی اہلیہ وکٹوریہ کے لیے ایک بہترین شوہر اور اپنے بچوں کے لیے ایک شفیق باپ بننا، جو ان کا اصل فخر ہیں۔

یہ استعفیٰ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ سیاست میں وقت کتنی تیزی سے بدلتا ہے؛ جو رہنما دو سال قبل ملک کا سب سے مقبول لیڈر تھا، آج اسے حالات اور اپنی ہی پارٹی کے دباؤ کے سامنے اقتدار چھوڑنا پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں