پاکستانی عوام کی زندگی میں شاید ہی کوئی خبر ایسی ہو جو پیٹرول کی قیمت میں کمی کی خبر جتنی تیزی سے پھیلتی ہو۔
آج جب حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تو لاکھوں لوگوں نے کچھ اطمینان کا سانس لیا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مہنگائی نے تنخواہوں، کاروبار اور گھریلو بجٹ کا دم گھونٹ رکھا ہو، وہاں پیٹرول کی قیمت میں یہ کمی یقیناً خوش آئند خبر ہے۔
لیکن پاکستان میں خوشی زیادہ دیر خالص نہیں رہتی۔ یہاں ہر اچھی خبر کے فوراً بعد کریڈٹ کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت کم ہوئی نہیں کہ مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما میدان میں آ گئے۔ کسی نے اسے اپنی حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا، کسی نے اپنی آواز کا اثر بتایا، اور کسی نے اسے اپنی جدوجہد کی فتح بنا کر پیش کیا۔ اس دوڑ میں حافظ نعیم الرحمٰن بھی پیچھے نہیں رہے۔
کریڈٹ صرف جماعت اسلامی
یہ بات درست ہے کہ جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی کے بلوں اور عوامی مسائل پر مسلسل احتجاج کرتی رہی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کا یہی کردار ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، حکومتی مالیاتی فیصلے، درآمدی لاگت، ٹیکس پالیسی اور بین الاقوامی معاشی عوامل کو نظر انداز کر کے ہر کمی کا کریڈٹ ایک سیاسی جماعت کو دیا جا سکتا ہے؟
پاکستانی سیاست میں ایک عجیب روایت جنم لے چکی ہے۔ اگر بارش ہو جائے تو دعوے شروع ہو جاتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوئیں۔ اگر بجلی آ جائے تو کہا جاتا ہے ہماری جدوجہد رنگ لائی۔ اگر پیٹرول سستا ہو جائے تو پریس ریلیز جاری ہو جاتی ہے کہ یہ ہماری کامیابی ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض سیاست دانوں کے نزدیک کائنات کا ہر مثبت واقعہ ان کی کوششوں کا نتیجہ اور ہر منفی واقعہ کسی اور کی ناکامی ہے۔
عوام کا مسئلہ مگر کچھ اور ہے۔
گوجرانوالہ کا رکشہ ڈرائیور، کراچی کا ڈیلی ویجر، لاہور کا موٹر سائیکل سوار اور فیصل آباد کا چھوٹا تاجر یہ نہیں سوچ رہا کہ کریڈٹ کس کو ملے گا۔ وہ صرف یہ حساب لگا رہا ہے کہ آج اس کی جیب میں کتنے روپے بچیں گے۔ اس کے لیے اصل خبر پیٹرول کی قیمت میں کمی ہے، نہ کہ اس کمی کی سیاسی ملکیت۔
بدقسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں عوامی ریلیف سے زیادہ سیاسی تشہیر اہم ہو چکی ہے۔ لوگ ریلیف کو نہیں، ریلیف کے اشتہار کو بیچنے لگے ہیں۔
جماعتِ اسلامی کمی کے کریڈٹ کے ساتھ اضافہ کی ذمہ داری بھی قبول کرے
اگر جماعت اسلامی آج کی کمی کا کریڈٹ لے سکتی ہے تو پھر ایک اصولی سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ جب گزشتہ برسوں میں پیٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، جب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتی رہی، جب رکشہ ڈرائیور اور مزدور کا بجٹ ٹوٹتا رہا، تو اس کا حساب کس کے کھاتے میں لکھا جائے؟ اگر کامیابی اجتماعی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ صرف ایک جماعت کی جدوجہد کا ثمر ہے تو پھر ناکامیوں کی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کو قبول کرنی چاہیے۔
اصل مسئلہ حافظ نعیم الرحمٰن یا جماعت اسلامی نہیں۔ اصل مسئلہ وہ سیاسی رویہ ہے جس میں ہر جماعت عوام کو باشعور شہری نہیں بلکہ ایک ایسا ہجوم سمجھتی ہے جسے چند نعروں اور چند تصویروں سے قائل کیا جا سکتا ہے۔
عوام اب پہلے سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں صرف دھرنوں، جلسوں اور پریس کانفرنسوں سے طے نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے عالمی مارکیٹ، حکومتی پالیسیاں، ڈالر کی قیمت اور درجنوں معاشی عوامل کام کرتے ہیں۔
اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں "کریڈٹ کی سیاست” سے آگے بڑھیں۔ عوام کو یہ بتانے کے بجائے کہ ہر اچھا کام انہوں نے کیا، انہیں یہ بتانا چاہیے کہ مستقبل میں وہ معیشت کو کیسے مستحکم کریں گے، مہنگائی کو کیسے قابو کریں گے اور عوام کو مستقل ریلیف کیسے دیں گے۔
کیونکہ سچ یہ ہے کہ عوام کو کریڈٹ نہیں، ریلیف چاہیے۔
اور جب سیاست دان ہر چھوٹی بڑی خبر پر کریڈٹ لینے دوڑ پڑتے ہیں تو پھر عوام کے ذہن میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے:
"اگر ہر کمی آپ کی جدوجہد کا نتیجہ ہے تو ہر اضافہ کس کی جدوجہد کا نتیجہ تھا؟”