ایمان زینب مزاری 30

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے لیے عالمی اعزاز اور نظامِ انصاف پر سوال

بین الاقوامی سطح پر جب بھی پاکستان کا نام انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے سامنے آتا ہے، تو دل میں بیک وقت فخر اور ایک گہرا دکھ ابھرتا ہے۔

فخر اس بات پر کہ اسی مٹی نے ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ جیسے نڈر اور بااصول وکیل پیدا کیے، اور دکھ اس بات کا کہ جنہیں دنیا سر آنکھوں پر بٹھا رہی ہے، ہمارے اپنے نظام نے انہیں مٹی میں رولنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

منگل کے روز یہ خوش آئند اور معتبر خبر سامنے آئی کہ پاکستانی وکلاء اور انسانی حقوق کے علمبردار جوڑے—ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ—کو سال 2026 کے باوقار "لڈووک ٹراریو انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پرائز” (Ludovic Trarieux International Human Rights Prize) سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ ان کی مظلوموں، پسماندہ طبقات اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بے خوف جدوجہد کا بین الاقوامی اعتراف ہے۔

اس ایوارڈ کی اہمیت: یہ محض ایک ٹرافی نہیں

 

"لڈووک ٹراریو پرائز” دنیا بھر میں وکلاء کو دیا جانے والا انسانی حقوق کا ایک انتہائی معتبر اور قدیم ترین بین الاقوامی اعزاز ہے۔ یہ کوئی معمولی ایوارڈ نہیں ہے؛ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے سب سے پہلے وصول کنندگان میں عظیم نیلسن منڈیلا شامل تھے، جنہیں 1985 میں نسلی امتیاز کے خلاف لڑنے پر اس وقت یہ اعزاز دیا گیا جب وہ جیل میں تھے۔

یہ ایوارڈ ان وکلاء کو دیا جاتا ہے جو اپنی جان، مال اور آزادی کو خطرے میں ڈال کر مظلوموں کے حقوق اور قانون کی حکمرانی کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایمان اور ہادی کو یہ اعزاز ملنا اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان میں کٹھن حالات، دھمکیوں اور ریاستی جبر کے باوجود، ان دونوں نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔ انہوں نے ان لوگوں کے لیے عدالتوں میں آواز اٹھائی جن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں تھا۔

ایک تلخ حقیقت اور گہرا افسوس

 

جہاں یہ خبر ہمارے لیے بین الاقوامی سطح پر عزت کا باعث ہے، وہیں یہ ہمارے عدالتی اور انتظامی ڈھانچے پر ایک زوردار طمانچہ بھی ہے۔

کتنے افسوس اور ملامت کی بات ہے کہ جن وجودوں کو دنیا ان کی انسانیت پسندی اور قانون پسندی کی وجہ سے معتبر ترین اعزازات سے نواز رہی ہے، انہیں اپنے ہی ملک میں ایک بے بنیاد، من گھڑت اور مضحکہ خیز مقدمے میں پھنسا کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

کچھ عرصہ قبل، وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی آڑ لے کر اس جوڑے کے خلاف ایک ایسا بے تکا اور فضول ٹرائل چلایا گیا جس کا مقصد انصاف فراہم کرنا نہیں، بلکہ صرف اور صرف ان کی آواز کو دبانا اور انہیں ذہنی و جسمانی اذیت دینا تھا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں سنگین جرائم کے مرتکب آزاد گھومتے ہیں، وہاں انسانی حقوق کے وکلاء کو ایک جھوٹے مقدمے کا نشانہ بنا کر جیل بھیج دیا گیا تاکہ ایک مثال قائم کی جا سکے کہ جو بھی مظلوم کا ساتھ دے گا، اس کا یہی حشر ہوگا۔

یہ ٹرائل اور جیل بھیجنے کا عمل ہمارے پورے نظامِ انصاف کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں قانون طاقتور کے ہاتھ کا کھلونا اور کمزور کو دبانے کا اوزار بن چکا ہے۔

فخر اور امید کا سفر

 

ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ملنے والا یہ ایوارڈ یہ ثابت کرتا ہے کہ سچائی اور انصاف کی گونج کو کسی جیل کی دیواریں یا جھوٹے مقدمات دبا نہیں سکتے۔ جب ملکی عدالتیں اور ادارے خاموش یا بے بس نظر آئیں، تو تاریخ اور عالمی برادری ایسے جرات مند کرداروں کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے۔

ہمیں ایمان اور ہادی پر فخر ہے، لیکن اس فخر کے ساتھ ہمارے دلوں میں ایک شرمندگی بھی ہے کہ ہم بحیثیت معاشرہ اور ریاست اپنے ہیروز کو وہ مقام اور تحفظ نہ دے سکے جس کے وہ حقدار تھے۔ امید ہے کہ یہ بین الاقوامی اعزاز ہمارے اربابِ اختیار کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہوگا کہ طاقت کے زور پر آوازیں تو بند کی جا سکتی ہیں، مگر ضمیر کو قید نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں