کالج اور یونیورسٹیاں‌ 32

پنجاب میں‌سکولوں کے بعد کالج اور یونیورسٹیاں‌بھی پرائیوٹ ہونے کا خدشہ

کبھی پاکستان میں سرکاری سکول، کالج اور یونیورسٹیاں‌ صرف عمارتیں نہیں ہوتی تھیں، یہ غریب اور متوسط طبقے کے خوابوں کی پناہ گاہیں تھیں۔

 

ایک کسان کا بیٹا، ایک مزدور کی بیٹی یا ایک چھوٹے دکاندار کا بچہ انہی اداروں کے ذریعے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی اور بیوروکریٹ بنتا تھا۔ تعلیم ریاست اور شہری کے درمیان ایک خاموش معاہدہ تھی کہ اگر تم محنت کرو گے تو ہم تمہیں آگے بڑھنے کا موقع دیں گے۔ آج اس معاہدے کی بنیادیں ہلتی محسوس ہو رہی ہیں۔

 

پنجاب میں کالج اعلیٰ تعلیمی ادارے پرائیوٹ پارٹنرشپ سے چلانے کا فیصلہ

 

پنجاب میں پہلے ہزاروں سرکاری سکول پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت دیے گئے۔ اب کالج اور یونیورسٹیاں‌ اسی ماڈل کے تحت چلانے کی بات ہو رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے معیار بہتر ہوگا، وسائل آئیں گے اور ادارے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں گے۔

سوال یہ نہیں کہ معیار بہتر ہونا چاہیے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بہتری کی قیمت کون ادا کرے گا؟

پاکستان میں پہلے ہی اعلیٰ تعلیم ایک مہنگا خواب بنتی جا رہی ہے۔ نجی یونیورسٹیوں کی فیسیں لاکھوں روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی اور غریب طبقہ قرض لے کر بچوں کو تعلیم دلوانے پر مجبور ہے۔ ایسے میں اگر سرکاری کالج اور بعد ازاں یونیورسٹیاں بھی آہستہ آہستہ نجی انتظام کے تحت چلی گئیں تو کیا تعلیم ایک بنیادی حق کے بجائے صرف ایک خریدی جانے والی سہولت بن کر نہیں رہ جائے گی؟

دنیا کے کامیاب ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ فن لینڈ، جرمنی، ناروے اور دیگر ترقی یافتہ ریاستوں نے تعلیم کو منافع بخش کاروبار نہیں بلکہ عوامی سرمایہ کاری سمجھا۔ انہوں نے یونیورسٹیوں کو بیچا نہیں بلکہ مضبوط کیا۔ اساتذہ کو بہتر بنایا، تحقیق پر خرچ کیا اور طلبہ کے لیے دروازے کھلے رکھے۔

 

اصلاح مشکل ضرور ناممکن نہیں

 

ہمارے ہاں مسئلہ یہ نہیں کہ سرکاری ادارے ناقابلِ اصلاح ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اصلاح کے بجائے ذمہ داری منتقل کرنے کو آسان راستہ سمجھنے لگے ہیں۔

 

اگر کسی کالج میں طلبہ کم ہیں تو سوال ہونا چاہیے کہ کیوں کم ہیں؟ وہاں اساتذہ کی کمی ہے؟ لیبارٹریاں ناکارہ ہیں؟ نصاب فرسودہ ہے؟ ٹرانسپورٹ اور سہولیات ناکافی ہیں؟ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے اگر ادارہ نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے تو گویا بیماری کا علاج کرنے کے بجائے مریض کو کسی اور کے سپرد کر دیا گیا۔

 

اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج کم داخلوں والے کالج PPP کے تحت دیے جا سکتے ہیں تو کل کیا مالی مشکلات یا انتظامی کمزوریوں کے نام پر یونیورسٹیاں بھی اسی راستے پر چل پڑیں گی؟

یہ خدشہ غیر منطقی نہیں۔ دنیا بھر میں نجکاری اکثر چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہے اور پھر بتدریج پورے شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

 

تعلیمی کو صرف معاشی پیمانے سے نہ ناپا جائے

 

تعلیم کو صرف معاشی پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ ایک دور افتادہ علاقے کا کالج شاید منافع بخش نہ ہو، لیکن وہ سینکڑوں خاندانوں کے لیے امید کا واحد چراغ ہو سکتا ہے۔ ایک سرکاری یونیورسٹی شاید مالی طور پر خود کفیل نہ ہو، لیکن وہ ہزاروں نوجوانوں کو سماجی ترقی کا راستہ دکھاتی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف سڑکیں بنانا یا عمارتیں کھڑی کرنا نہیں۔ ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری مواقع کی برابری پیدا کرنا ہے۔ جب تعلیم مہنگی ہوتی ہے تو صرف کلاس روم خالی نہیں ہوتے، معاشرے میں طبقاتی فاصلے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

آج پنجاب کے تعلیمی مستقبل پر بحث صرف انتظامی ماڈل کی بحث نہیں۔ یہ دراصل اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے کہ کیا تعلیم حق رہے گی یا سہولت؟ کیا یونیورسٹی علم کا مرکز رہے گی یا کاروباری ماڈل؟

شاید حکومت کے پاس اپنے دلائل ہوں، اور بعض اداروں میں واقعی اصلاحات کی ضرورت ہو۔ لیکن کسی بھی پالیسی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ غریب کے بچے پر کیا اثر ڈالتی ہے۔

اگر آنے والے برسوں میں ہونہار طالب علم صرف اس لیے کالج اور یونیورسٹیاں‌ میں نہیں  جا سکے کہ اس کے والدین فیس ادا نہیں کر سکتے، تو پھر چاہے عمارتیں کتنی ہی جدید کیوں نہ ہوں، ہم ایک تعلیمی کامیابی نہیں بلکہ ایک سماجی ناکامی کے گواہ ہوں گے۔

تعلیم بازار کی چیز نہیں، معاشرے کا ضمیر ہوتی ہے۔ اور ضمیر کو کبھی نیلام نہیں کیا جاتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں