ریسکیو 1122 23

ریسکیو 1122 میانوالی کے جوانوں کا موت کو مات دینے والا 3 کلومیٹر طویل پیدل سفر

کہتے ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ اس قول کی شاندار اور عملی تفسیر 11 جون کو ریسکیو 1122 میانوالی کے جوانوں نے پیش کی، جب ایک زخمی نوجوان کی سانسوں کی ڈور کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے انہوں نے وہ کر دکھایا جو کسی فلمی کہانی سے کم نہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک سچا اور جذبے سے بھرپور واقعہ ہے۔

زندگی اور موت کی دوڑ

 

یہ 11 جون کا دن تھا جب میانوالی سے ایک شدید زخمی نوجوان کو تشویشناک حالت میں راولپنڈی کے بڑے ہسپتال ریفر کیا گیا۔ وقت کم تھا اور فاصلہ زیادہ، لیکن ریسکیو 1122 کی ایمبولینس اپنے سائرن کی گونج کے ساتھ امید کی کرن بن کر راولپنڈی کی جانب رواں دواں تھی۔ سفر کٹتا رہا اور منزل قریب آتی گئی، لیکن جب ہسپتال صرف چند کلومیٹر کی دوری پر رہ گیا تو ایک اچانک اور سنگین رکاوٹ نے راستہ روک لیا۔

جب سڑکیں بند اور وقت تھمتا ہوا محسوس ہوا

 

راولپنڈی پہنچتے ہی ہسپتال سے چندکلومیٹر  دور احتجاج کے باعث ٹریفک بلاک تھی۔  حدِ نگاہ تک گاڑیوں کی لمبی اور بے ہنگم قطاریں لگی تھیں اور اگلے کئی گھنٹوں تک ٹریفک بحال ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہ تھا۔ ایمبولینس کے اندر لیٹے زخمی مریض کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی تھا اور یہ بند سڑک اس کے لیے موت کا پروانہ بن سکتی تھی۔ وقت تیزی سے ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہا تھا۔

ایک جرات مندانہ فیصلہ

 

ایسے مایوس کن اور اعصاب شکن موقع پر، جہاں کوئی عام انسان شاید حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا یا ٹریفک کھلنے کا انتظار کرتا، ریسکیو 1122 میانوالی کے فرض شناس جوانوں نے ایک تاریخی فیصلہ کیا۔ انہوں نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے مریض کو اسٹریچر سمیت ایمبولینس سے باہر نکالا۔

ٹریفک کے اس ہجوم اور بند سڑک پر انہوں نے پیدل ہی اپنا راستہ بنانا شروع کر دیا۔ یہ کوئی عام چہل قدمی نہیں تھی، بلکہ موت اور زندگی کے درمیان ایک کٹھن دوڑ تھی۔ جوانوں نے مریض کو اسٹریچر اٹھائے، گاڑیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے، مسلسل 3 کلومیٹر کا صبر آزما سفر پیدل طے کیا۔ ان کے ماتھے پر پسینہ ضرور تھا، لیکن قدموں میں ایک انسان کو بچانے کا غیر متزلزل عزم تھا۔

منزل کا حصول اور نئی زندگی کی نوید

 

اس طویل اور تھکا دینے والی مسافت کے بعد وہ بالآخر ایک ایسے مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں سے ٹریفک کا دباؤ کم تھا۔ وہاں سے فوری طور پر ایک اور مقامی ایمبولینس کا بندوبست کیا گیا اور مریض کو تیزی سے اس ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں اسے پہنچنا تھا۔

ان جوانوں کے اس بروقت، بہادرانہ اور ہمت سے بھرپور اقدام کی بدولت، مریض کو وہ قیمتی وقت مل گیا جس میں اس کا علاج شروع ہوا، اور یوں ایک جوان کی جان بچ گئی۔

ریسکیو 1122: قوم کا اصل فخر

 

آج وہ نوجوان اگر اپنے پیاروں کے درمیان زندہ سلامت ہے، تو اس کا سارا کریڈٹ ریسکیو 1122 کے ان گمنام ہیروز کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی ڈیوٹی کو محض نوکری نہیں، بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھ کر ادا کیا۔

بلاشبہ ریسکیو 1122 کا ادارہ ہمارے معاشرے میں امید کا ایک روشن استعارہ ہے۔ میانوالی کی اس ٹیم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس ادارے سے وابستہ افراد کے دلوں میں ہمدردی، فرض شناسی اور انسان دوستی کا وہ جذبہ موجزن ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہ جوان ہم میں موجود وہ حقیقی ہیروز ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر دوسروں کی زندگیاں محفوظ بناتے ہیں۔ پوری قوم ان کے اس عظیم کارنامے پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں