فیملی ہب 29

بچے کی زندگی کے پہلے 1001 دن: برطانیہ کا انقلابی فیملی ہب ماڈل

ایک بچے کی زندگی کب شروع ہوتی ہے؟ زیادہ تر لوگ کہیں گے کہ پیدائش کے دن۔ لیکن جدید تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ بچے کی زندگی کی بنیاد دراصل اس سے کہیں پہلے، ماں کے حمل کے دوران ہی رکھ دی جاتی ہے۔

 

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ میں گزشتہ چند برسوں سے "1001 Critical Days” یعنی "پہلے ایک ہزار ایک اہم دن” کا تصور قومی پالیسی کا حصہ بن چکا ہے۔

 

یہ 1001 دن بچے کے وجود میں آنے (Conception) سے لے کر اس کی دوسری سالگرہ تک کے عرصے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہی وہ مدت ہے جس میں بچے کا دماغ سب سے تیزی  سے نشوونما پاتا ہے، جذباتی تعلقات کی بنیاد بنتی ہے اور مستقبل کی صحت کے امکانات تشکیل پاتے ہیں۔

 

فیملی ہب کیا ہے؟

 

برطانیہ نے اس نظریے کو عملی شکل دینے کے لیے "Family Hubs” قائم کیے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، فیملی ہب ایک ایسی جگہ ہے جہاں والدین کو مختلف دفاتر اور اداروں کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔ حمل سے لے کر بچے کی ابتدائی عمر تک درکار خدمات ایک ہی نظام کے تحت دستیاب ہوتی ہیں۔

 

اگر ایک خاتون حاملہ ہو تو اسے الگ سے معلومات تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ فیملی ہب کے ذریعے اسے دائی (Midwife)، ہیلتھ وزیٹر، ذہنی صحت کے ماہرین، بریسٹ فیڈنگ سپورٹ، والدین کی تربیت، حفاظتی ٹیکوں کی معلومات اور دیگر ضروری خدمات تک رسائی مل جاتی ہے۔

 

ماں صرف جسمانی نہیں، ذہنی طور پر بھی اہم ہے

 

پاکستان سمیت کئی معاشروں میں حمل اور زچگی کو صرف طبی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن برطانیہ کے اس ماڈل میں ماں کی ذہنی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

اگر ماں پریشانی، ڈپریشن یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اس کا اثر براہ راست بچے کی نشوونما پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے فیملی ہبز میں Perinatal Mental Health Support یعنی حمل اور زچگی کے دوران ذہنی صحت کی خدمات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

صرف علاج نہیں، رہنمائی بھی

 

فیملی ہبز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ صرف بیماری کا انتظار نہیں کرتے بلکہ پہلے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

والدین کو سکھایا جاتا ہے:

  • نومولود بچے کی ضروریات کیسے سمجھیں؟
  • بریسٹ فیڈنگ کے درست طریقے کیا ہیں؟
  • بچے کے ساتھ جذباتی تعلق کیسے مضبوط بنایا جائے؟
  • ابتدائی نشوونما میں کھیل اور گفتگو کی کیا اہمیت ہے؟
  • گھر میں محفوظ ماحول کیسے بنایا جائے؟

یہ چھوٹی لگنے والی باتیں دراصل بچے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

 

پاکستان کے لیے اس میں کیا سبق ہے؟

 

پاکستان میں ہر سال لاکھوں خواتین ماں بنتی ہیں۔ لیکن بہت سی مائیں ایسی ہیں جو حمل کے دوران مناسب رہنمائی، غذائی مشورے، ذہنی صحت کی معاونت یا بعد از زچگی مدد سے محروم رہ جاتی ہیں۔

ہمارے بنیادی مراکز صحت، BHUs، رورل ہیلتھ سینٹرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ماں بچہ پروگرام پہلے سے موجود ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نظام بالکل نہیں ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ خدمات بکھری ہوئی ہیں۔

اگر پاکستان میں "فیملی ہب” طرز کا نظام متعارف کرایا جائے تو:

  • حاملہ خواتین کو ایک ہی جگہ جامع خدمات مل سکتی ہیں۔
  • ماں اور بچے کی صحت کے نتائج بہتر ہو سکتے ہیں۔
  • بعد از زچگی ڈپریشن کی بروقت شناخت ممکن ہو سکتی ہے۔
  • بریسٹ فیڈنگ کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
  • بچوں کی ابتدائی نشوونما بہتر ہو سکتی ہے۔
  • کم آمدنی والے خاندانوں کو زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

اصل سرمایہ کاری سڑکوں میں نہیں، بچوں میں ہوتی ہے

 

برطانیہ کے 1001 دن کے ماڈل کی سب سے اہم سوچ یہ ہے کہ اگر معاشرہ اپنی آنے والی نسل کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو اسے زندگی کے آغاز پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

 

ایک صحت مند، پُراعتماد اور محفوظ ماں دراصل ایک صحت مند بچے کی بنیاد ہے۔ اور ایک صحت مند بچہ مستقبل کے بہتر معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔

 

پاکستان میں جب ہم ترقی کی بات کرتے ہیں تو اکثر سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک اور سوال پوچھیں:

کیا ہم اپنے بچوں کی زندگی کے پہلے 1001 دنوں کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں جتنی ترقی کے دوسرے منصوبوں کو دیتے ہیں؟ کیونکہ قوموں کا مستقبل ہسپتالوں اور اسکولوں میں نہیں، بلکہ ماں کی گود میں تشکیل پاتا ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں