سپریم جوڈیشل کونسل 37

سپریم جوڈیشل کونسل کے نئے قوانین اور ججز کی آزادی پر سوالات

پاکستان کی عدالتی تاریخ ہمیشہ سے ہی طاقت کے توازن، آزادی اور احتساب کے گرد گھومتی رہی ہے۔ حال ہی میں سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی ہیں، جن کے تحت ججوں کو سماجی، سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ شرط بظاہر سادہ ہے: متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت۔

تاہم، قانونی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا یہ فیصلہ واقعی ججوں کو معاشرے سے جوڑنے کی ایک کڑی ہے، یا پھر عدلیہ کے اندرونی نظام کو مزید مرکزیت (Centralization) کی طرف لے جانے کا ایک اور قدم؟

سپریم جوڈیشل کونسل ، ماضی کی پابندیاں اور اختلافی آوازیں

 

اس حالیہ پیش رفت کو سمجھنے کے لیے ہمیں کچھ ماہ پیچھے، اکتوبر کی طرف دیکھنا ہوگا۔ اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل نے ججوں پر کسی بھی قسم کی سماجی یا سیاسی تقریب میں شرکت کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس فیصلے پر کونسل کے اندر سے ہی مضبوط اختلافی آوازیں ابھری تھیں۔

جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے اس پابندی کو عدالتی آزادی کے منافی قرار دیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اختیارات کو ایک جگہ مرکوز کرنا اور ایسے ضوابط لانا دراصل ان ججوں کو خاموش کرنے کا باعث بن سکتا ہے جو اختلافِ رائے رکھنے کی ہمت کرتے ہیں۔

اجازت کا مخمصہ اور چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات

 

نئی ترمیم کے تحت ججز تقریب میں تو جا سکتے ہیں، لیکن چیف جسٹس کی اجازت سے۔ یہاں ایک بہت ہی منطقی اور چبھتا ہوا سوال پیدا ہوتا ہے: چیف جسٹس کو ایسی تقریبات میں جانے کے لیے کس کی اجازت درکار ہوگی؟

قانونی ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ چیف جسٹس کے صوابدیدی اختیارات (Discretionary Powers) — چاہے وہ ججوں کی چھٹیاں منظور کرنا ہوں، مقدمات کی الاٹمنٹ ہو، یا اب تقریبات میں شرکت کی اجازت — کو کسی باقاعدہ اصول کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹسز کی تقرری میں انتظامیہ (Executive) کا ممکنہ اثر و رسوخ، ججوں کی آزادی کو بالواسطہ طور پر متاثر کر سکتا ہے۔

اداراتی تبدیلیاں اور بیرونی دباؤ سے نمٹنے کا طریقہ کار

 

ضابطہ اخلاق میں محض تقریبات کے حوالے سے ہی تبدیلی نہیں آئی، بلکہ اس کا عنوان بھی تبدیل کر کے اس میں "وفاقی آئینی عدالت” (Federal Constitutional Court) کو شامل کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، ججوں پر کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے حوالے سے آرٹیکل 15 میں ایک تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے:

  • رپورٹنگ: کسی بھی بیرونی دباؤ کی صورت میں جج فوری طور پر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، چیف جسٹس آف پاکستان، اور وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ کے دو سینیئر ترین ججز کو تحریری طور پر آگاہ کرے گا۔

  • کمیٹی کا قیام: ہائی کورٹ کا چیف جسٹس دو دن کے اندر تین ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے گا۔

  • فیصلہ سازی: یہ کمیٹی پندرہ دن کے اندر معاملے کا فیصلہ کرے گی۔ اگر متعلقہ حکام مقررہ وقت میں کارروائی نہیں کرتے، تو سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت براہِ راست اس معاملے کو دیکھے گی۔

یہ نیا طریقہ کار بظاہر ایک منظم نظام کی عکاسی کرتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر شفافیت پر ہوگا۔

کیا یہ آزاد آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے؟

 

وکلاء برادری کی جانب سے ان ترامیم پر سخت تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ گزشتہ سال آرٹیکل 5 میں کی گئی ترمیم کے تحت ججوں پر میڈیا سے بات کرنے یا عوامی مباحثوں (بالخصوص سیاسی سوالات) میں حصہ لینے پر سخت پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی جیسے ناقدین کا ماننا ہے کہ یہ نیا ضابطہ اخلاق ججوں کے آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ ان کا بجا طور پر یہ سوال ہے کہ، "جو جج خود اپنا حقِ اظہار استعمال نہیں کر سکتے، وہ عام شہریوں کے آزادیِ اظہار کا تحفظ کیسے کریں گے؟”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں