حکومت نے ‘اکنامک سروے آف پاکستان’ 2026 پیش کر دیا ہے۔ جب بھی بجٹ کا موسم آتا ہے تو ٹی وی اور اخبارات میں اس سروے کا بہت ذکر ہوتا ہے، لیکن ایک عام شہری کے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ آخر یہ اکنامک سروے ہوتا کیا ہے اور بجٹ سے ایک دن پہلے اسے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟
آئیے اسے روایتی معاشی اصطلاحات سے ہٹ کر، بالکل سادہ الفاظ میں سمجھتے ہیں۔
اکنامک سروے آف پاکستان کیا ہے؟
اگر ایک جملے میں کہا جائے تو اکنامک سروے کسی بھی ملک کی معیشت کا ‘سالانہ رپورٹ کارڈ’ ہوتا ہے۔
جس طرح ایک طالب علم کے سالانہ رپورٹ کارڈ سے پتا چلتا ہے کہ اس نے سال بھر کیسی کارکردگی دکھائی، کن مضامین میں وہ اچھا رہا اور کن میں فیل ہوا، بالکل اسی طرح اکنامک سروے بتاتا ہے کہ گزشتہ مالی سال (جولائی سے جون) کے دوران ملکی معیشت کا حال کیسا رہا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اس دستاویز میں معیشت کے تمام اہم شعبوں کا تفصیلی جائزہ ہوتا ہے، جیسے کہ:
زراعت: ہماری فصلوں (گندم، کپاس، چاول وغیرہ) کی پیداوار کیسی رہی؟
صنعت: کارخانوں اور فیکٹریوں نے کیسا کام کیا؟ کیا نئی صنعتیں لگیں یا پرانی بند ہوئیں؟
خدمات کا شعبہ: ٹیلی کام، آئی ٹی، اور بینکنگ وغیرہ کے شعبوں میں کتنی ترقی ہوئی؟
عوام کا حال: مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی شرح کیا رہی؟
تجارت: ہم نے دنیا کو کتنا سامان بیچا (برآمدات) اور باہر سے کتنا خریدا (درآمدات)؟
قرضے: حکومت نے ملکی اور غیر ملکی سطح پر کتنا نیا قرضہ لیا؟
اس سروے کی اہمیت کیا ہے؟
یہ محض اعداد و شمار کی ایک موٹی سی بورنگ کتاب نہیں ہے، بلکہ اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے:
حقائق کا آئینہ: حکومتیں اکثر بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں، لیکن اکنامک سروے ان دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کو واضح کر دیتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ حکومت نے پچھلے سال ترقی کے جو ہدف مقرر کیے تھے، وہ پورے ہوئے یا نہیں۔
معاشی صحت کا اندازہ: غیر ملکی سرمایہ کار، عالمی مالیاتی ادارے (جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) اور مقامی تاجر اسی سروے کو دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کس سمت جا رہی ہے اور کیا یہاں سرمایہ کاری کرنا محفوظ ہے یا نہیں۔
شفافیت اور احتساب: یہ عوام کو حقائق جاننے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں استعمال ہوا اور اس کے کیا معاشی اثرات مرتب ہوئے۔
بجٹ اور اکنامک سروے کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟
بجٹ ہمیشہ اکنامک سروے کے فوراً بعد (عام طور پر اگلے دن) پیش کیا جاتا ہے۔ ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے جسے ان تین نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:
ماضی اور مستقبل کا تعلق: اکنامک سروے "ماضی” (گزرے ہوئے سال) کی کارکردگی کی تصویر دکھاتا ہے، جبکہ بجٹ "مستقبل” (آنے والے سال) کی منصوبہ بندی اور خوابوں کا نام ہے۔
بجٹ کی بنیاد: ذرا سوچیں، آپ اپنے گھر کا بجٹ اسی وقت بنا سکتے ہیں جب آپ کو اپنی موجودہ آمدنی، پچھلے سال کے خرچوں اور موجودہ قرضوں کا ٹھیک سے اندازہ ہو۔ بالکل اسی طرح، حکومت آئندہ سال کا بجٹ اکنامک سروے میں دیے گئے حقائق کی بنیاد پر ہی بناتی ہے۔
پالیسی سازی (بیماری اور علاج): اگر سروے کی رپورٹ میں پتا چلے کہ زراعت کا شعبہ تباہ حالی کا شکار ہے یا برآمدات گر گئی ہیں، تو بجٹ میں حکومت ان شعبوں کے لیے خصوصی پیکج، ٹیکس میں چھوٹ یا سبسڈی کا اعلان کرے گی۔ یعنی سروے معیشت کے مرض کی تشخیص کرتا ہے اور بجٹ اس کا علاج تجویز کرتا ہے۔
اکنامک سروے آف پاکستان ہمارے مستقبل کی کہانی
اکنامک سروے آف پاکستان صرف ہندسوں کا گورکھ دھندا نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری قومی زندگی، ہماری جیب، اور ہمارے مستقبل کی کہانی ہے۔ اس رپورٹ کارڈ کو سمجھے بغیر، اگلے دن پیش ہونے والے بجٹ کے اعداد و شمار کو پوری طرح سمجھنا اور اس کا تجزیہ کرنا ناممکن ہے۔