بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز اور سابق کپتان ویرات کوہلی کے حوالے سے پچھلے کچھ عرصے سے یہ خبریں مسلسل گردش میں ہیں کہ وہ اپنی اہلیہ انوشکا شرما اور بچوں کے ہمراہ مستقل طور پر لندن منتقل ہو چکے ہیں۔
جہاں مداح ویرات کوہلی لندن منتقل ہونے کے اس فیصلے کی وجوہات جاننے کے لیے بے تاب تھے، وہیں انگلش کرکٹر لیام لیونگ اسٹون نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں ویرات کوہلی کی شخصیت کے ان پہلوؤں پر سے پردہ اٹھایا ہے، جنہیں جان کر ان کے مداحوں کی ان کے لیے محبت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
دو مختلف روپ: کریز کی جارحیت سے گھر کے سکون تک
کرکٹ کی دنیا ویرات کوہلی کو ان کے جارحانہ انداز، فیلڈ پر بے پناہ انرجی اور مخالف ٹیم کو دباؤ میں رکھنے والی باڈی لینگویج کے لیے جانتی ہے۔ لیکن لیونگ اسٹون کا کہنا ہے کہ اسکرین پر نظر آنے والا ‘کنگ کوہلی’ کیمرے کے پیچھے بالکل ایک مختلف انسان ہے۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں لیونگ اسٹون نے کہا:
"میدان میں جو کوہلی آپ کو نظر آتا ہے، وہ اس کی شخصیت کا صرف ایک پیشہ ورانہ حصہ ہے۔ جب آپ اس سے ذاتی زندگی میں ملتے ہیں، تو آپ کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ وہی شخص ہے جو گراؤنڈ میں آگ برسا رہا تھا۔ وہ نجی زندگی میں انتہائی نرم مزاج، دوستانہ اور سب سے بڑھ کر اپنے خاندان سے بے پناہ محبت کرنے والا انسان ہے۔”
لندن منتقلی کی اصل وجہ: فیملی اور پرائیویسی
لیونگ اسٹون کی اس گفتگو سے یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ کوہلی کا بھارت چھوڑ کر لندن میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کسی کرکٹ یا کاروباری حکمت عملی کا حصہ نہیں، بلکہ ایک خالصتاً ‘فیملی مین’ کا فیصلہ ہے۔
بھارت میں ویرات کوہلی اور انوشکا شرما کے لیے ایک عام انسان جیسی زندگی گزارنا تقریباً ناممکن ہے۔
وہاں ان کی ہر حرکت پر میڈیا کی نظر ہوتی ہے، لیکن لندن میں وہ ایک عام شہری کی طرح سڑکوں پر چہل قدمی کر سکتے ہیں، کافی شاپس پر جا سکتے ہیں اور اپنے بچوں (وامیکا اور اکشے) کے ساتھ ایک پرسکون اور نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔
لیونگ اسٹون کے انکشافات کے اہم نکات:
دوستانہ رویہ: میدان کی گرمجوشی کے برعکس، ڈریسنگ روم یا نجی محفلوں میں کوہلی کا رویہ ساتھی کرکٹرز کے ساتھ انتہائی عاجزانہ اور دوستانہ ہوتا ہے۔
خاندان پہلی ترجیح: کوہلی اپنی تمام تر عالمی شہرت اور مصروفیات کے باوجود اپنے خاندان کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
ذہنی سکون کی تلاش: کرکٹ کے زبردست پریشر کے بعد انہیں ایک ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں وہ صرف ایک شوہر اور باپ بن کر رہ سکیں۔
ایک انسان کے طور پر کوہلی کی پہچان
یہ خبر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چاہے کوئی انسان کتنا ہی بڑا سپر اسٹار کیوں نہ بن جائے، دن کے اختتام پر اسے بھی اسی سکون، محبت اور خاندانی وقت کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی بھی عام انسان کو چاہیے۔ لیام لیونگ اسٹون کی ان باتوں نے ویرات کوہلی کا وہ انسانی اور نرم پہلو دنیا کے سامنے رکھا ہے، جو اکثر کرکٹ کے شور اور گلیمر میں چھپ جاتا ہے۔
مداحوں کے لیے یہ بات یقیناً جذباتی ہے کہ وہ اپنے ہیرو کو اب بھارت کی سڑکوں پر شاید زیادہ نہ دیکھ سکیں، لیکن انہیں اس بات کی خوشی ضرور ہے کہ ان کا پسندیدہ کرکٹر اب وہ زندگی جی رہا ہے جس میں اسے وہ سکون اور پرائیویسی میسر ہے، جس کا وہ بجا طور پر حقدار ہے۔