انڈونیشیا 10

حج 2026: انڈونیشیا کے حجاج کی سب سے بڑی تعداد

حج ایک ایسا روح پرور سفر ہے جو ہر مسلمان کے دل کی سب سے گہری خواہش ہے۔ جیسے ہی ذوالحجہ کا چاند نظر آتا ہے، ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور دور بیٹھے لوگوں کے دل بھی مکہ مکرمہ کی گلیوں میں دھڑکنے لگتے ہیں۔

اس سال یعنی 2026 کا حج بحمداللہ کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکا ہے (مناسک 24 مئی سے 30 مئی کے درمیان ادا کیے گئے)، اور اب حجاج کرام کی اپنے اپنے وطن واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

اس سال بھی اللہ کے مہمانوں کا ایک سمندر غلافِ کعبہ کے سائے اور میدانِ عرفات میں جمع ہوا، لیکن کچھ اہم باتیں ایسی ہیں جو اس سال کے حج کو پچھلے سالوں سے قدرے مختلف بناتی ہیں۔

انڈونیشیا سب سے آگے: ایک ایمان افروز منظر

 

 اس سال بھی انڈونیشیا نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ حجاج بھیجنے کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، انڈونیشیا کے لیے اس سال 2 لاکھ 21 ہزار (221,000) حجاج کا کوٹہ مختص تھا، جو کہ دنیا میں کسی بھی ملک کا سب سے بڑا کوٹہ ہے۔

انڈونیشیا کے بعد دوسرا بڑا نمبر پاکستان کا تھا، جہاں سے لگ بھگ 1 لاکھ 79 ہزار سے زائد عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی۔

انڈونیشیا سے آنے والے حجاج کا جذبہ اس لیے بھی دیدنی ہوتا ہے کیونکہ وہاں کے لوگ اس مقدس سفر کے لیے کئی دہائیوں تک اپنی جمع پونجی اکٹھی کرتے ہیں اور بعض اوقات باری آنے کے لیے 20 سے 30 سال تک کا طویل انتظار کرتے ہیں۔

حج 2026 میں کیا نیا اور مختلف تھا؟

 

سعودی حکومت نے حجاج کرام کی حفاظت، صحت اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے اس سال چند اہم تبدیلیاں اور سخت اصول متعارف کروائے:

  • عمر کی حد کا فیصلہ (Age Limit): اس سال مئی کے اوائل میں سعودی حکومت نے اچانک اعلان کیا تھا کہ 15 سال سے کم عمر کے بچے حج نہیں کر سکیں گے، جس سے وہ خاندان شدید پریشان ہو گئے جو اپنے بچوں کے ساتھ تیاری کر چکے تھے۔ لیکن خوش قسمتی سے چند ہی دنوں بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا اور عمر کی حد کو دوبارہ کم کر کے 12 سال کر دیا گیا، جس سے والدین نے سکھ کا سانس لیا۔

  • صحت کے کڑے اصول: اس سال صحت پر خاصا زور دیا گیا۔ کووڈ-19 (COVID-19) کی ویکسین کو تمام حجاج کے لیے لازمی قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ، ماضی کی طرح کوئی حاجی خود سے اپنی صحت کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکتا تھا، بلکہ ایک مستند ڈاکٹر کی رپورٹ لازمی قرار دی گئی۔

    ایسے افراد جو گردوں کے فیل ہونے (ڈائلیسس) یا دل کے شدید امراض میں مبتلا تھے، انہیں اس سال سفر کی اجازت نہیں دی گئی تاکہ دورانِ حج انہیں کسی جانی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • بغیر پرمٹ داخلے پر مکمل پابندی: مکہ مکرمہ کو ہجوم سے بچانے کے لیے اس سال سیکیورٹی انتہائی سخت تھی۔ صرف ان لوگوں کو مکہ میں داخل ہونے دیا گیا جن کے پاس حج کا باقاعدہ پرمٹ تھا یا وہ مکہ کے رہائشی تھے۔ حتیٰ کہ عام لوگوں کے لیے عمرہ پرمٹ کو بھی 31 مئی تک مکمل طور پر معطل رکھا گیا۔

اہل غزہ رواں سال بھی حج سے محروم 

 

جہاں برادر اسلامی ممالک سے لاکھوں کے قافلے حج کو پہنچے وہیں مسلسل تیسرے سال بھی اہل غزہ فریضہ حج کی ادائیگی  سے محروم رہے۔

 

حج کا یہ خوبصورت اور تھکا دینے والا سفر ہمیشہ اپنے پیچھے یادوں کا ایک انمول خزانہ چھوڑ جاتا ہے۔ وہ لاکھوں ہاتھ جو عرفات کے میدان میں دعاؤں کے لیے اٹھے تھے، اب اپنے ساتھ بے شمار رحمتیں سمیٹ کر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں