کبھی کبھی کرکٹ میں ایک ایسا دن آتا ہے جب ایک نیا چہرہ اچانک پوری کہانی کا مرکزی کردار بن جاتا ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلے ون ڈے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، جہاں ڈیبیو کرنے والے نوجوان اسپنر عرفات منہاس نے اپنی پہلی ہی ون ڈے پیشی کو یادگار بنا دیا اور آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ کو ایسی الجھن میں ڈالا کہ کینگروز سنبھل ہی نہ سکے۔
عرفات منہاس کی شاندار باؤلنگ کے سامنے کینگروز کی ایک نہ چلی
پاکستانی ٹیم ایک نئے دور کے آغاز کی باتیں کر رہی تھی، نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دیے جا رہے تھے، اور اسی سلسلے کی ایک کڑی عرفات منہاس بھی تھے۔
شاید بہت کم لوگوں نے سوچا ہوگا کہ 21 سالہ نوجوان اپنی پہلی ہی ون ڈے میں تاریخ رقم کر دے گا۔ لیکن راولپنڈی کی خشک وکٹ پر جب گیند ان کے ہاتھ سے نکلنا شروع ہوئی تو آسٹریلوی بلے بازوں کے لیے ہر اوور ایک نیا امتحان بن گیا۔
آسٹریلیا نے بیٹنگ شروع کی تو ابتدا میں ایسا محسوس ہوا کہ وہ ایک بڑا مجموعہ ترتیب دے سکتے ہیں، لیکن پھر عرفات منہاس میدان میں آئے۔
ان کی گیندوں میں اعتماد بھی تھا، چالاکی بھی اور وہ بے خوف انداز بھی جو اکثر نوجوان کھلاڑیوں میں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے آسٹریلوی بیٹنگ آرڈر کو تہس نہس کرتے ہوئے 32 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں اور یوں وہ ون ڈے ڈیبیو پر پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم، جس نے دنیا بھر کے اسپنرز کو کھیلنے کا وسیع تجربہ حاصل کر رکھا ہے، عرفات کی سادگی میں چھپی ہوئی چالاکی کو سمجھ نہ سکی۔ کبھی گیند ٹرن لے رہی تھی، کبھی سیدھی رہ جاتی تھی اور کبھی رفتار بلے باز کو دھوکہ دے جاتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پوری آسٹریلوی ٹیم صرف 200 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ )
اگرچہ میتھیو رینشا نے 61 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی اور میتھیو شارٹ نے بھی کچھ مزاحمت دکھائی، لیکن پاکستانی اسپنرز کے سامنے آسٹریلوی بیٹنگ یونٹ زیادہ دیر ٹک نہ سکا۔ عرفات منہاس کے ساتھ ابرار احمد نے بھی اہم کردار ادا کیا اور آسٹریلیا کی اننگز کو سمیٹنے میں بھرپور حصہ ڈالا۔
پاکستان کی جوابی اننگز
جواب میں پاکستان نے 5 وکٹوں کے نقصان پر مقررہ ہدف حاصل ہرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
پاکستانی شائقین کے لیے اس کامیابی کی اہمیت صرف ایک جیت تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسے نوجوان کی آمد کا اعلان بھی ہے جو مستقبل میں پاکستان کی اسپن بولنگ کا اہم ستون بن سکتا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ہمیشہ نوجوان ٹیلنٹ پیدا کرنے کے حوالے سے مشہور رہی ہے، اور عرفات منہاس کی یہ کارکردگی اسی روایت کا تسلسل محسوس ہوتی ہے۔
راولپنڈی کے اس میدان میں جب عرفات منہاس اپنی پانچویں وکٹ لینے کے بعد ساتھیوں کے گھیرے میں آئے تو یہ صرف ایک جشن نہیں تھا، بلکہ ایک خواب کے پورا ہونے کا منظر تھا۔ ہر نوجوان کرکٹر اپنے ڈیبیو پر اچھا کھیلنے کا خواب دیکھتا ہے، مگر آسٹریلیا جیسی ٹیم کے خلاف تاریخ رقم کرنا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔
پاکستان نے سیریز کا آغاز جیت کے ساتھ کیا، لیکن اس میچ کی سب سے بڑی خبر اسکور بورڈ نہیں بلکہ ایک نوجوان کا نام تھا — عرفات منہاس۔ ایسا نام جسے آج راولپنڈی نے زور سے پکارا، اور جسے شاید آنے والے برسوں میں دنیا کی بڑی کرکٹ اسٹیجز پر بار بار سنا جائے گا۔