دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں اور ‘لبیک اللھم لبیک’ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، لیکن غزہ کے خیموں اور ملبے کے ڈھیروں پر بیٹھے فلسطینیوں کے لیے یہ مناظر خوشی کے ساتھ ساتھ ایک گہرا دکھ بھی لے کر آئے ہیں۔
مسلسل تیسرے سال غزہ کے مسلمان اس فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم ہیں۔ اسرائیلی ناکہ بندی اور رفح کراسنگ کی بندش نے ان سے صرف ان کا گھر نہیں چھینا، بلکہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور مقدس خواب، یعنی ‘حج’، بھی چھین لیا ہے۔
موبائل سکرینوں پر سمٹتا ہوا کعبہ کا طواف
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، غزہ کے 10 ہزار سے زائد شہری پچھلے تین سالوں سے حج پر جانے کے منتظر ہیں، مگر سرحدوں کی بندش کے باعث وہ سفر نہیں کر سکے۔
اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا حقیقت یہ ہے کہ قرعہ اندازی میں حج کے لیے منتخب ہونے والے کم از کم 71 خوش نصیب فلسطینی ایسے تھے جو مکہ جانے کی حسرت دل میں لیے اس جنگ کے دوران دنیا سے رخصت ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ کو مقامی افراد نے بتایا کہ "جنگ تو رک گئی اور ہمیں امید تھی کہ ہم حج کر سکیں گے، لیکن تین سال ہو گئے، ہم یہاں سے نکلنے کے قابل ہی نہیں رہے۔”
مذہبی سیاحت کا معاشی قتلِ عام
اس محرومی کا اثر صرف روحانی نہیں، بلکہ شدید معاشی بھی ہے۔ غزہ کی وزارتِ اوقاف اور ماہرین کے مطابق حج اور عمرہ کا سیکٹر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
غزہ میں رجسٹرڈ تمام 78 ٹریول کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی ہیں جس سے 40 لاکھ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے اور اس شعبے سے وابستہ 1500 سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔
فلسطین سینٹر فار پولیٹیکل سٹڈیز نے اس منظم تباہی کو "معاشی اور ساختی نسل کشی” (Structural Economic Genocide) قرار دیا ہے۔ جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی شہری حقوق کے قوانین کے تحت لوگوں کو ان کے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکنا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
قربانی کے جانوروں کا شدید بحران
فریضہ حج کی محرومی کے ساتھ ساتھ عیدالاضحیٰ کی خوشیاں بھی غزہ میں مانند پڑ چکی ہیں۔ مسلسل تیسرے سال غزہ کے مسلمان سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے قربانی کے جانوروں سے محروم ہیں
۔
جنگ کے دوران مویشیوں کے فارمز، چارے کے گودام اور ویٹرنری مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
سرحدوں کی بندش کے باعث اکتوبر 2023 سے غزہ میں زندہ جانوروں اور چارے کی درآمد تقریباً "صفر” ہو چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب عید سے قبل غزہ میں 10 سے 20 ہزار گائے اور 40 ہزار کے قریب بھیڑیں لائی جاتی تھیں، لیکن آج مارکیٹیں سنسان ہیں۔
جو چند جانور بچ گئے ہیں، ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں:
جانوروں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ: تاجروں کے مطابق، جو بھیڑ پہلے 300 ڈالر میں مل جاتی تھی، اب اس کی قیمت 4,000 سے 6,000 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
خوراک کا بحران: بیشتر خاندان ایسے ہیں جنہوں نے سالوں سے تازہ گوشت کی شکل تک نہیں دیکھی۔
عید کی اشیاء کی قلت: عید کے دن خیموں میں رہنے والے بچے چاکلیٹ اور مٹھائیوں سے بھی محروم ہیں کیونکہ ایک کلو عام چاکلیٹ کی قیمت بھی 30 ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو کہ جنگ سے پہلے کی قیمتوں سے چار گنا زیادہ ہے۔
عالمی برادری سے اپیل
غزہ کی وزارتِ اوقاف اور عام شہریوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مذہبی فرائض اور عبادات کو سیاسی اور عسکری ہتھکنڈوں سے الگ رکھا جائے۔ عیدالاضحیٰ کا تہوار، جو کبھی غزہ میں ملنے ملانے، قربانی کے گوشت کی تقسیم اور دعوتوں کا دن ہوا کرتا تھا، اب محض سوگ اور خاموش مزاحمت کی ایک علامت بن کر رہ گیا ہے۔
دنیا بھر کے مسلمان جب عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، تو غزہ کے خیموں میں بسنے والے یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ان کے لیے فریضہ حج کی ادائیگی اور سنتِ ابراہیمی کی پیروی محض یادیں اور حسرتیں بن کر رہ جائیں گی؟