دنیا ابھی پچھلی وباؤں کے اثرات سے پوری طرح سنبھلی بھی نہیں تھی کہ صحت عامہ کے ایک اور سنگین خطرے نے دروازے پر دستک دے دی ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی جانب سے ایبولا (Ebola) وائرس کے پھیلاؤ کو ‘عالمی ایمرجنسی’ قرار دیے جانے کے بعد، پوری دنیا میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس نئی صورتحال کے پیشِ نظر، پاکستان نے بھی فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اپنے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مسافروں کی اسکریننگ انتہائی سخت کر دی ہے۔
یہ وائرس کیا ہے، یہ انسانی جسم کو کیسے متاثر کرتا ہے، اور اس نئی عالمی ایمرجنسی کا ہماری روزمرہ زندگی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟ آئیے ان تمام سوالات کے جوابات تفصیل سے جانتے ہیں۔
ایبولا وائرس آخر ہے کیا؟
ایبولا وائرس (Ebola Virus Disease – EVD) ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے جو انسانوں اور بعض جانوروں (جیسے چمگادڑ اور بندر) کو متاثر کرتی ہے۔
یہ کوئی نیا وائرس نہیں ہے؛ اس کی دریافت پہلی بار 1976 میں افریقہ کے دریائے ایبولا کے قریب ہوئی تھی، جس کے نام پر اس کا نام رکھا گیا۔
تاہم، اس کی حالیہ لہر نے ماہرینِ صحت کو اس لیے پریشان کر دیا ہے کیونکہ یہ وائرس انتہائی تیزی سے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے، یہ کورونا وائرس کی طرح ہوا کے ذریعے (Airborne) نہیں پھیلتا۔
یہ صرف متاثرہ شخص کے جسمانی رطوبتوں (خون، پسینہ، لعاب وغیرہ) کے براہ راست رابطے میں آنے سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔
یہ وائرس انسانی جسم کے ساتھ کیا کرتا ہے؟
ایبولا وائرس جسم کے مدافعتی نظام (Immune System) پر انتہائی بے رحمی سے حملہ کرتا ہے اور اندرونی اعضاء کو تیزی سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کی علامات عام طور پر وائرس جسم میں داخل ہونے کے 2 سے 21 دن کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔
ابتدائی اور سنگین علامات:
اچانک اور تیز بخار: جسم کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھنا۔
پٹھوں اور جوڑوں میں شدید درد: مریض کو انتہائی کمزوری اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
گلے کی سوزش اور سر درد: جو وقت کے ساتھ شدت اختیار کر جاتا ہے۔
نظام انہضام کی خرابی: قے، متلی اور شدید پیٹ درد۔
اندرونی اور بیرونی خون بہنا (خطرناک ترین مرحلہ): مسوڑھوں، آنکھوں یا اندرونی اعضاء سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے، جو اس بیماری کو انتہائی جان لیوا بناتا ہے۔
دنیا ایک نئی ایمرجنسی کی لپیٹ میں
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کسی بھی بیماری کو "پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف انٹرنیشنل کنسرن” (PHEIC) قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ خطرہ مقامی نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی سرحدیں عبور کر سکتا ہے۔
اس نئی ایمرجنسی نے دنیا کو اپنے دائرے میں اس لیے لے لیا ہے کیونکہ آج کے گلوبلائزڈ دور میں بین الاقوامی سفر بہت عام ہے۔ ایک ملک کا وائرس چند گھنٹوں کی پرواز کے ذریعے دوسرے براعظم تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری اب خوف کے بجائے فوری اور مؤثر حکمت عملی پر زور دے رہی ہے۔
پاکستان کا بروقت اور سخت ردعمل
اس عالمی ہائی الرٹ کے بعد، پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) اور وزارتِ قومی صحت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ملک کے تمام بڑے ہوائی اڈوں—بشمول کراچی، لاہور، اور اسلام آباد—پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
ہوائی اڈوں پر اٹھائے گئے اہم اقدامات
تھرمل اسکیننگ: بیرون ملک، خاص طور پر متاثرہ ممالک سے آنے والے تمام مسافروں کے جسمانی درجہ حرارت کی جدید تھرمل کیمروں سے جانچ کی جا رہی ہے۔
ہیلتھ ڈیکلریشن فارم: مسافروں کے لیے اپنی سفری تاریخ اور صحت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں فارم پُر کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
آئسولیشن وارڈز کا قیام: اگر کسی مسافر میں مشکوک علامات پائی جاتی ہیں، تو اسے ہوائی اڈے پر ہی قائم کیے گئے خصوصی آئسولیشن رومز میں منتقل کر کے فوری طبی امداد اور ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
طبی عملے کی تعیناتی: ہوائی اڈوں پر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جو 24 گھنٹے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
نئی عالمی وباء تشویشناک
یہ نئی عالمی ایمرجنسی یقیناً ہم سب کے لیے ایک تشویشناک خبر ہے، لیکن گھبرانے یا خوف و ہراس پھیلانے کے بجائے احتیاط اور آگاہی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر اٹھائے گئے سخت اقدامات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ متعلقہ ادارے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے بیدار ہیں۔
بحیثیت شہری، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم حفظانِ صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں اور بین الاقوامی سفر کے دوران تمام حفاظتی ہدایات کو سنجیدگی سے لیں۔
خطرہ بڑا ضرور ہے، لیکن بروقت اور درست اقدامات سے اس کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔