بارشیں، ڈیزل کی قیمت اور حکومتی پالیسیوں میں پستا ہوا پاکستانی کسان
گندم کی فصل کی کٹائی کا اہم مرحلہ جاری ہے، مگر غیر متوقع بارشیں، ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، اور حکومتی پالیسیوں کی کمزوریاں پاکستانی کسان کو دوہری نہیں بلکہ کئی گنا مشکلات میں دھکیل رہی ہیں۔

پاکستان کا زرعی شعبہ، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے۔
گندم کی فصل کی کٹائی کا اہم مرحلہ جاری ہے، مگر غیر متوقع بارشیں، ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، اور حکومتی پالیسیوں کی کمزوریاں پاکستانی کسان کو دوہری نہیں بلکہ کئی گنا مشکلات میں دھکیل رہی ہیں۔
بارشیں: تیار فصل پر قہر
حالیہ دنوں میں پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں اور ژالہ باری نے گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے علاقوں جیسے ملتان، مظفرگڑھ اور لیہ میں کھڑی فصلیں گر گئیں یا خراب ہو گئیں۔
ماہرین کے مطابق یہ بارشیں ایسے وقت پر ہوئیں جب گندم کٹائی کے لیے تیار تھی، جس سے نہ صرف پیداوار متاثر ہوتی ہے بلکہ دانے کے معیار میں بھی کمی آتی ہے۔
اگرچہ کچھ حکومتی حلقے نقصانات کو محدود قرار دے رہے ہیں، لیکن کسانوں کا مؤقف ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو نقصان میں مزید اضافہ ہوگا۔
ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ: لاگت میں دھماکہ
دوسری جانب، حالیہ دنوں میں پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 55 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے بعد قیمت 520 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
زرعی شعبہ چونکہ ٹریکٹر، ٹیوب ویل، تھریشر اور ہارویسٹرز کے لیے بڑی حد تک ڈیزل پر انحصار کرتا ہے، اس لیے اس اضافے نے کاشتکاری کی لاگت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
ماہرین اور کسان تنظیموں کے مطابق:
- فی ایکڑ کٹائی کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے
- نقل و حمل مہنگی ہونے سے منڈی تک رسائی مشکل ہو گئی
- کھاد، بیج اور دیگر زرعی اخراجات بھی بڑھ گئے
حکومتی پالیسیوں کی ناکامی
پاکستانی کسان کے مسائل صرف قدرتی آفات یا مہنگائی تک محدود نہیں۔ گزشتہ برس حکومت کی جانب سے گندم کی مناسب خریداری نہ ہونے کے باعث کسانوں کو اپنی فصل کم قیمت پر بیچنا پڑی۔
رپورٹس کے مطابق:
- کسانوں کو 2400 سے 2700 روپے فی 40 کلو گندم فروخت کرنا پڑی
- جبکہ پیداواری لاگت اس سے کہیں زیادہ تھی
- حکومتی سپورٹ پرائس کا فائدہ انہیں نہیں ملا
اس صورتحال نے کسانوں کو مالی طور پر کمزور کر دیا، جس کے اثرات اگلی فصلوں پر بھی پڑے۔
موسمیاتی تبدیلی: ایک بڑھتا ہوا خطرہ
پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی بھی ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ بے ترتیب بارشیں، شدید گرمی، اور غیر متوقع موسم زرعی نظام کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔
یہ تبدیلیاں نہ صرف پیداوار بلکہ کسانوں کی منصوبہ بندی کو بھی متاثر کرتی ہیں، جس سے زرعی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
نتیجہ: زرعی بحران کی سنگینی
پاکستانی کسان اس وقت تین بڑے محاذوں پر لڑ رہا ہے:
- قدرتی آفات (بارش، ژالہ باری)
- مہنگی توانائی (ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ)
- کمزور حکومتی پالیسیز (گندم کی خریداری کا فقدان)
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کسان کاشتکاری چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ملکی معیشت مزید دباؤ میں آ سکتی ہے
حالات کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور پر گندم کی منصفانہ خریداری یقینی بنائے، ڈیزل یا زرعی ان پٹس پر سبسڈی فراہم کرے، فصلوں کے نقصان پر فوری معاوضہ دے، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی حکمت عملی اپنائے۔
کسان صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ پاکستان کی غذائی سلامتی کا ضامن ہے۔ اگر کسان کمزور ہوگا تو ملک کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔



