اہم خبریںکھیل

پی ایس ایل تنازعہ در تنازعہ خبروں کی زینت بن گیا

ٹورنامنٹ کا پہلا ہی ہفتہ گزرا نہیں تھا کہ بال ٹیمپرنگ کا سکینڈل، ہوٹل سیکیورٹی کی خلاف ورزی اور سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹ نے لیگ کو کرکٹ کی خبروں سے نکال کر تنازعات کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا۔

پاکستان سپر لیگ 2026 کا آغاز جس طرح ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا۔ ٹورنامنٹ کا پہلا ہی ہفتہ گزرا نہیں تھا کہ بال ٹیمپرنگ کا سکینڈل، ہوٹل سیکیورٹی کی خلاف ورزی اور سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹ نے لیگ کو کرکٹ کی خبروں سے نکال کر تنازعات کی سرخیوں میں لا کھڑا کیا۔

 

نسیم شاہ اور تاریخی جرمانہ

 

لیگ کے ابتدائی دنوں میں ایک  طوفان اٹھا جب نسیم شاہ کے ایکس اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز پر تنقید کی گئی تھی۔

بعد میں یہ پوسٹ ہٹا کر دعویٰ کیا گیا کہ اکاؤنٹ ہیک ہوا تھا — تاہم پی سی بی نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے نسیم شاہ پر پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ 2 کروڑ روپے عائد کر دیا۔ یوں آغاز ہی تنازعات سے ہوا۔

بال ٹیمپرنگ کا الزام : ایک خوفناک پی ایس ایل تنازعہ

 

29 مارچ کو قذفی اسٹیڈیم لاہور میں ایک بڑا پی ایس ایل تنازعہ خبر بنا جب لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان کم اسکورنگ مقابلے میں آخری اوور سے عین قبل امپائر کو گیند کی حالت مشکوک لگی۔ پی ایس ایل کی کھیل کی شرائط کے  تحت، امپائر وقتاً فوقتاً گیند کا معائنہ کر سکتے ہیں اور اگر انہیں گیند سے چھیڑ چھاڑ کا شبہ ہو تو فوری معائنہ لازمی ہے۔

شاہین آفریدی کے ہاتھ سے فخر زمان کے ہاتھ میں گیند جانے کے فوراً بعد امپائر نے گیند چیک کی اور اسے بدل دیا ۔ پانچ پینلٹی رنز کراچی کنگز کو دیئے گئے۔ کراچی کو آخری اوور میں 14 رنز درکار تھے جو سزا کے بعد9ہو گئے اور انہوں نے صرف تین گیندوں میں یہ ہدف حاصل کر لیا۔

میچ ریفری نے فخر زمان کو لیول 3 خلاف ورزری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے دو میچوں کی معطلی  کی سزا سنائی ۔ لیکن فخر نے الزام مسترد کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی ۔ تاہم بورڈ نے ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے میچ ریفری کی پابندی کو برقرار رکھا۔

سیکیورٹی اسکینڈل

 

اسی میچ سے پہلے ایک اور سنگین معاملہ سامنے آیا۔ پنجاب پولیس نے پی ایس ایل سی ای او سلمان ناصر کو خط لکھ کر بتایا کہ شاہین آفریدی اور سکندر رضا نے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہدایات نظرانداز کرتے ہوئے چار غیر مجاز افراد کو کھلاڑیوں کی محفوظ فلور پر لے گئے۔ یہ افراد وہاں تین گھنٹے تک موجود رہے۔

قلندرز کے ٹیم لائزن آفیسر نے پہلے پی سی بی کی سیکیورٹی انتظامیہ سے اجازت مانگی جو مسترد ہو گئی۔ قلندرز کے مالک سمین رانا نے خود پی ایس ایل سی ای او سے درخواست کی جو بھی رد کر دی گئی — مگر اس کے باوجود یہ افراد کھلاڑیوں کی فلور پر پہنچ گئے۔ پولیس نے اسے "قائم شدہ سیکیورٹی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی” قرار دیا۔

بعدازاں شاہین شاہ آفریدی کو 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ یوں ایک اور پی ایس ایل تنازعہ خبر بن گیا۔

نتیجہ

یہ واقعات محض ایک لیگ کے تنازعات نہیں  یہ پاکستان کرکٹ کے نظم و ضبط، قیادت اور سیکیورٹی نظام پر گہرے سوالات اٹھاتے ہیں۔ فخر زمان کی اپیل ابھی زیر سماعت ہے، شاہین آفریدی اور سکندر رضا کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

پی سی بی کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ نہ صرف تادیبی کارروائی کرے بلکہ ایک ایسا نظام بھی استوار کرے جو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کر سکے۔کیونکہ پی ایس ایل کا وقار پاکستان کرکٹ کا وقار ہے

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button