اسلامسوال و جوابمذہب

کون سا مسافر اور مریض رمضان کا روزہ چھوڑ سکتا ہے؟

مسافر اور بیمار کی شریعت کی طے کردہ تعریف جاننا ضروری ہے، ایسا نہیں کہ ہر مسافر اور ہر بیمار شخص کو روزہ سے رخصت ہے۔

شریعت نے رمضان المبارک کا فرض روزہ رکھنے سے مسافر اور بیمار شخص کو رخصت دی ہے۔ لیکن یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہ کون سا مریض ہے یا وہ کون سا مسافر ہے جس کو رمضان کا روزہ چھوڑنے کی رخصت دی گئی ہے۔  

یعنیٰ کہ مسافر اور بیمار کی شریعت کی طے کردہ تعریف جاننا ضروری ہے، ایسا نہیں کہ ہر مسافر اور ہر بیمار شخص کو روزہ سے رخصت ہے۔

آئیے مفتی انعام اللہ شاہ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ شرعی طور پر مسافر اور بیمار شخص کونسا ہے اور کن کن حالتوں میں اسے روزے سے رخصت ہے۔

 

وہ مسافر جو روزہ چھوڑ سکتا ہے:

 

مسافر سے مراد وہ شخص ہے  جو کم از کم 77 کلو میٹر یا اس سے زائد سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ جس شہر یا گاؤں سے جا رہا ہے، جہاں بھی ہے، اسے کم از کم 77 کلو میٹر سفر کرنا ہو۔ اگر 77 کلو میٹر سے کم سفر کرنا ہے، مثلاً 60 یا 65 کلو میٹر، تو وہ شرعی مسافر نہیں کہلائے گا۔ ایسا شخص روزہ نہیں چھوڑ سکتا۔

دوسری بات یہ ہے کہ مسافر کو اس وقت روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے جب سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے شہر یا گاؤں کی حدود سے باہر نکل چکا ہو۔ یعنی جس شہر میں مکین ہے اس کی حدود کو کراس کر جائے، یا جس گاؤں میں ہے اس سے باہر نکل آئے اور سفر شروع ہو جائے۔

ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص سحری کے وقت اپنے گھر میں موجود ہو اور اس نے ایک یا دو گھنٹے بعد سفر کرنا ہو، تو یہ سمجھ کر کہ چونکہ مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ روزہ چھوڑ دے۔

بہت سے لوگ اس طرح روزہ چھوڑ دیتے ہیں کہ آج ہمیں سفر کرنا ہے اس لیے ہم روزہ نہیں رکھیں گے۔ ایسا درست نہیں ہے۔

بلکہ جب سحری کا وقت ختم ہو رہا ہو، اس وقت اس پر مسافر ہونے کی شرائط کا اطلاق ہونا ضروری ہے۔ یعنی وہ اس وقت مسافر کی تعریف میں آتا ہو۔ اور مسافر کی تعریف میں تب آئے گا جب وہ شہر کی مقررہ حدود سے باہر نکل چکا ہو ۔ مطلب یہ ہے کہ بلدیہ یا کمیٹی کی مقرر کردہ شہر کی حدود سے باہر نکل آئے، تو ایسے مسافر کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔

 

کس مریض کو رمضان کا روزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی؟

 

مریض سے مراد وہ بیمار شخص ہے جسے کسی ماہر اور دیندار ڈاکٹر نے یہ بتایا ہو، یا اس کا اپنا تجربہ ہو کہ اگر وہ روزہ رکھے گا تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی، یا وہ روزہ برداشت نہیں کر سکے گا، یا اس کی بیماری بڑھ جانے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں وہ مریض روزہ چھوڑ سکتا ہے۔

لیکن اگر ہلکی پھلکی بیماری ہو تو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے۔

مثلاً کوئی شوگر کا مریض ہے جو پورا روزہ نہیں رکھ سکتا، یا دمہ کا مریض ہے جسے دن کے وقت انہیلر لینا پڑتا ہے اور سانس پھول جاتی ہے، یا کوئی اور ایسا مریض جس کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہو اور اسے دوا لینا ضروری ہو، تو ایسے مریض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔

ہر مریض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے، جب تک کہ مذکورہ شرائط پوری نہ ہوں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button