
حکومت نے آئینی ترامیم کیلئے نمبر گیم پوری کرنے کیلئے نیا پتا کھیل دیا۔ سپیکر ایاز صادق نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ ڈالا۔ سپیکر نے مؤقف اختیار کیا کہ ایکٹ میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کا 12جولائی کا فیصلہ قابل عمل نہیں رہا۔ پارٹی وابستگی کاسرٹیفکیٹ دینے والے اب پارٹی تبدیل نہیں کرسکتے۔الیکشن کمیشن قوانین کی پاسداری کرے۔مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں۔
صحافی عمران وسیم کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا چیف الیکشن کمشنر کو خط ،سپیکر نے پارلیمانی بالادستی خودمختاری اور مخصوص نشستوں کا معاملہ اٹھایا ۔ سپیکر نے مخصوص نشستوں سے متعلق پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کا بھی حوالہ دیا۔
عمران وسیم کے مطابق سپیکر نے لکھا کہ یہ الیکشن کمیشن کا آئینی فرض ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کا احترام کرے۔ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قانون سازی کی گئی۔ الیکشن ایکٹ دوسری ترمیم پر الیکشن کمیشن مکمل عمل درآمد یقینی بنائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے بعد ایک اور وضاحت جس میں فیصلہ پر عملدرآمد نہ کرنے پر کارروائی بارے متنبہ کیا گیا تھا سامنے آچکی ہےلیکن الیکشن کمیشن نے اب تک فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا ہے۔
مزید پڑھیں:آئینی ترامیم کی رات بلاول بھٹو کی خوفناک گفتگو سامنے آگئی
دوسری جانب سپریم کورٹ سے اب تک 12 جولائی کے فیصلی کا تفصیلی حکم نامہ بھی جاری نہیں ہوسکا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے 39 اراکین کو تحریک انصاف کا تسلیم کیا تھا جبکہ بقیہ 41 کو پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے کیلئے 15 دن کی مہلت دی تھی۔
حکومت کو اس وقت آئینی ترمیم کیلئے ہر صورت یہ سیٹیں چاہیں۔ حکومت اگر مولانا فضل الرحمان کو نہ منا سکی تو حکمران اتحاد کا یہ نیا ایکشن ہو سکتا ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن سے ایک بار پھر حکمران اتحاد کے حق میں فیصلہ ہونے سے نمبر گیم پوری ہو سکتی ہے۔
لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیا قانون سامنے آیا ہے۔ کیا نئے قانون کا اطلاق ماضی سے ہوسکتا ہے؟ اس بارے معاملہ عدالت جا سکتا ہے۔