اہم خبریںپاکستان

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس رکوانے حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حکومت کی جانب سے اس اہم کیس میں بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکی عدالت میں فریق بننے سے انکار کے بعد اب پاکستان میں جاری کیس کو بھی بند کرانے کی ٹھان لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل جون کے مہینے میں  اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے جاری کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کو بتایا کہ  حکومت نے امریکا میں جاری کیس میں کسی قسم کی معاونت کرنے یا فریق بننے سے انکار کر دیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اس کی کوئی قانونی یا آئینی بنیاد ہوتی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس بنیاد کے بغیر عدالت میں پیش ہونا قابل قبول نہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت 4 جولائی تک مؤخر کرتے ہوئے احکامات جاری کئے کہ آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ جمع کرائی جائے کہ یہ فیصلہ کس بنیاد پر لیا گیا ۔

تاہم حکومت کی جانب سے سماعت کے دوران کوئی جواب جمع نہ کرایا گیا ۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو میں پوری کابینہ کو طلب کیا جائے گا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیئے کہ کیوں ناں وزیراعظم سمیت تمام وفاقی وزراء کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے مزید پانچ دن کی استدعا کی۔

 

مزید پڑھیں: حکومت کا ڈاکٹر عافیہ کیس میں امریکی عدالت میں فریق بننے سے انکار

 

یہ استدعا بھی حکومت کی جانب سے کیس کو التواء میں ڈالنے کی وجہ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ اس کیس کو سننے والے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان آئندہ ہفتے سے سالانہ چھٹیوں پر جارہے ہیں۔

تاہم جج صاحب نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کر لی اور سماعت کو 21 مئی تک کیلئے مؤخر کر دیا۔

تاہم اب حکومت ڈاکٹر عافیہ کیس کی اس جاری سماعت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے۔

 

حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس رکوانے سپریم کورٹ پہنچ گئی:

 

کیس کے اہم فریق سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حکومت اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جاری سماعت رکوانے کیلئے سپریم کورٹ چلی گئی ہے۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر انہوں نے لکھا کہ "شہباز حکومت کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے خود رہائی کی کوششیں کرنا تو دور کی بات،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اپنی بہن کیلئے جاری عدالتی کوششوں کو بھی شہباز شریف بند کرنا چاہتا ہے”۔

سینیٹر مشتاق احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں شہباز حکومت کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹرعافیہ رہائی کیس کی سماعت ختم کرنے کی دائر حکومتی رٹ پٹیشن شرمناک ہے،یہ فوری طور پر واپس لی جائے،اور قوم کی بیٹی کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت ریاستی سطح پر کردار ادا کرے۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب حکومت کی جانب سے اس اہم کیس میں بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سابق امریکی صدر جوبائیڈن کے دورِ حکومت کے اختتام پر صدارتی معافی کیلئے سینیٹر مشتاق کی جانب سے حکومت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ خط لکھ کر امریکی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کرے۔

تاہم حکومت نے یہ موقع گنوا دیا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے پہلے امریکی عدالت میں کیس میں فریق بننے اور اب اسلام آباد ہائیکورٹ میں جاری کیس رکوانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button