
9 مئی کے کیسز میں برق رفتار سزاؤں کے بعد پنجاب اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پی ٹی آئی رہنماؤں کی نااہلی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں سینئر صحافی غریدہ فاروقی کا مشہور جملہ یاد آرہا ہے کہ "پی ٹی آئی ختم شد”۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کی نااہلی کے بعد فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمر ایوب اور سینیٹر شبلی فراز کو بھی سزا سنادی۔
یوں سینیٹ ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی سے پی ٹی آئی اپوزیشن کا وجود ختم ہونے لگا ہے، یعنی کہ پی ٹی آئی ختم شد۔
اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت کا جانے میں بھی زیادہ وقت دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ علی امین گنڈا پور پر بھی نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔
نااہلیوں ، سزاؤں سے پارلیمانی سیاست سے پی ٹی آئی ختم شد:
پی ٹی آئی رہنماؤں کی نااہلیوں اور سزاؤں سے پارٹی کی پارلیمانی سیاست کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سینیٹ سے اعجاز چوہدری اور شبلی فراز کی نااہلی کے بعد خلاء پیدا ہوگیا۔ جبکہ قومی اسمبلی میں عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل ، عبد اللطیف چترالی اور احمد چھٹہ نا اہل ہوئے ۔
پنجاب اسمبلی سے ملک احمد خان بھچر ، جنید افضل ساہی، رائے مرتضیٰ اور انصر اقبال ہرل کو بھی سزا سنا دی گئی ہے۔
اسی طرح جعلی ڈگری کیس میں جمشید دستی بھی نااہل قرار دے دیئے گئے۔ حماد اظہر کے والد میاں اظہر کی وفات کے بعد بھی پی ٹی آئی کی نشست خالی ہوگئی۔
پی ٹی آئی کا سزاؤں پر رد عمل:
سزاؤں کے بعد ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی جمہوریت کیلئے ایک افسوسناک دن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ جمہوریت چلے، ایوان چلے ، لوگوں کے حقوق کا تحفظ ہو اور عدلہ آزاد ہو۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ ہمارے لیڈر کو دو سال ہونے کو ہوں ناحق جیل میں رکھا گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیڈر کو پانچ دن میں تین سزائیں سنائی گئیں اور انہیں 45 سال کی سزا سنائی گئی۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کی اہلیہ جو کہ گھریلو خاتون ہین کو سزا سنائی گئی تا کہ عمران خان پر پریشر بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سب چیزوں کے باوجود ہم سسٹم کا حصہ رہے، ایوان میں رہے، بائیکاٹ نہیں کیا، دھرنا نہیں دیا، ایوان کے باہر اسمبلی نہیں لگائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ناانصافی اور غیر مساوی سلوک ختم نہ ہوسکا۔ آج ہمارے 6 ایم این ایز، 3 ایم پی ایز اور ایک سینیٹر کو سزا ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کو سزا سنائی ہوئی۔ ان میں سے ہمارے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو سزا ہوئی۔
بیرسٹر گوہر نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، آپ انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی اب پارلیمان میں واپس جائے گی یا نہیں اس کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کرے گی اور عمران خان کے سامنے بھی رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: سینیٹر مراد سعید کا منتخب ہونے کے بعد پہلا بیان
صاحبزادہ حامد رضا کا رد عمل:
پاکستان تحریک انصاف کے بڑی اتحادی اور سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا نے سزا کے بعد اپنے ایکس اکاؤنٹ سے رد عمل دیتے ہوئے لکھا کہ ” آج ریاست پاکستان نے میری پارٹی میرے والد اور میری ، دہشت گردی فرقہ واریت و انتہاء پسندی کے خلاف کردار ادا کرنے پر پزیرائی کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے ذریعہ دس سال قید کی سنائی ہے ۔ میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں ۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ ” عمران خان اور اپنے حلقہ کی عوام کا مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد کا مظاہرہ کیا اور میرا ضمیر مطمئن ہے کہ میں نے اپنے حلقہ کی عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی ۔ مشکلات زندگی کا حصہ ہیں ۔ محدث اعظم کا پوتا اور صاحبزادہ فضل کریم کا بیٹا آج سرخرو ہوا اور اپنے باپ دادا پر آنچ نہیں آنے دی الحمداللہ۔”
عم ایوب اور چیف جسٹس میں خط و کتابت، نتیجہ صفر:
اس سے قبل اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کی جانب سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک خط لکھا گیا تھا جس میں انہوں نے مؤقف اپنایا کہ 9 مئی کے مقدمات میں عدالتی کارروائیاں سیاسی انتقام، بدنیتی، جلد بازی اور دباؤ کے تحت ہورہی ہیں۔
اسی طرح سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے بھی 9 مئی کے مقدمات میں ٹرائل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس کو خط لکھا۔
چیف جسٹس نے عمر ایوب کے خط کا نوٹس لیتے ہوئے انہیں ملاقات کیلئے بلایا۔ لیکن اپوزیشن لیڈر نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ اسلام آباد میں ملاقات نہیں کر سکتے ۔
ذرائع کے مطابق عمرایوب نے چیف جسٹس سے پشاور میں ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس جمعہ کے روز پشاور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کریں گے۔
تاہم آج کے فیصلے کے بعد یہ ملاقات کھٹائی میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس ملاقات کے حوالے سے صحافی علینہ شگری نے نجی نیوز چینل پر ایک پروگرام کے دوران انکشاف کیا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو ملنے کا کہا تو عمرایوب نے کہا پنڈی سے سرگودھا تک ان کے وارنٹ ہیں گرفتاری ہو سکتی ہے۔
علینہ شگری کے مطابق یحیی آفریدی کے نمائندے نے کہا ہم گارنٹی دیتے ہیں آپ کو گرفتار نہیں کیا جاۓ گا تو ان کو جواب ملا کہ آپ کی گارنٹی کی کوئی وقعت نہیں ہے۔