
فیفا ورلڈکپ 2026 11 جون کو شروع ہونے والا ہے اور اسے امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا مشترکہ طور پر میزبانی کر رہے ہیں۔
ٹورنامنٹ کی تیاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری اور مارچ 2026 میں ایران پر وسیع فضائی حملے کیے۔
ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ عسکری رہنما مارے گئے، جبکہ ایران کے ریڈ کریسنٹ کے مطابق ملک بھر میں 787 افراد ہلاک ہوئے اور 165 لڑکیوں اور عملے کی ہلاکت ایک اسکول پر حملے میں ہوئی۔ یہ جنگ خطے میں شدید بحران اور عوامی مظاہروں کا باعث بنی ہے۔
ٹرمپ کو فیفا پیس پرائز
دسمبر 2025 میں واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی 2026 ورلڈ کپ قرعہ اندازی کے دوران فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلا فیفا پیس پرائز دیا اور انہیں "دنیا میں امن اور اتحاد کے فروغ میں غیر معمولی خدمات” کا حامل قرار دیا۔
ٹرمپ نے اسے زندگی کے عظیم اعزازات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا کو محفوظ بنایا ہے۔ تاہم حقوق انسانی کے گروپ فیر اسکوائر اور ہیومن رائٹس واچ نے اس انعام کو فیفا کی سیاسی غیر جانب داری کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فیفا کے اخلاقی کمیٹی میں شکایت دائر کی۔
اس شکایت میں کہا گیا ہے کہ کسی سیاسی رہنما کو ایوارڈ دینا فیفا کے اصولوں کی "واضح خلاف ورزی” ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق فیفا نے روس پر 2021 کے یوکرین حملے کے بعد پابندی عائد کی تھی مگر اسرائیل کے خلاف کارروائی نہیں کی، جس سے فیفا کی دوہرے معیار کی سیاست سامنے آتی ہے۔
ٹرمپ کا بیان اور فیفا کی تذبذب
12 مارچ 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ "ایران کی قومی فٹبال ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے خوش آمدید ہے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان کیلئے وہاں موجود ہونا مناسب ہے، ان کی جان اور حفاظت کے لیے”۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری جنگ اور سکیورٹی خطرات کے پیش نظر ٹیم کا آنا ان کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ بیان اس وقت آیا جب فیفا کے صدر انفانٹینو نے دو دن قبل بتایا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ایرانی ٹیم کو امریکہ میں خوش آمدید کہا جائے گا۔
ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹوں بعد انہوں نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ 2026 کا ورلڈ کپ "تاریخ کا سب سے محفوظ اور عظیم الشان کھیلوں کا ایونٹ” ہوگا اور تمام کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کو ستاروں کی طرح عزت ملے گی۔
ایرانی ردِّعمل
ایرانی قومی ٹیم نے انسٹاگرام پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ ایک تاریخی اور بین الاقوامی ایونٹ ہے اور اس کا نگران فیفا ہے، نہ کہ کوئی ملک” ٹیم نے امریکی صدر کی سکیورٹی ناکامی پر سوال اٹھایا اور لکھا کہ "کسی بھی ملک کو ایران کی قومی ٹیم کو خارج کرنے کا اختیار نہیں۔ صرف وہی میزبان ملک خارج ہو سکتا ہے جو شرکا کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام ہو”۔
ایران کے وزیرِ کھیل اور نوجوانان احمد دونیامالی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کا ورلڈ کپ میں حصہ لینا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: "چونکہ اس بدعنوان حکومت نے ہمارے رہبر کو شہید کر دیا ہے، ہم کسی صورت ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتے”۔
اسی طرح ایرانی فٹبال فیڈریشن نے کہا کہ اگر امریکہ ٹیموں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا تو وہ میزبان ہونے کا حق کھو دیتا ہے اور ٹورنامنٹ کہیں اور منتقل ہونا چاہیے۔
فیفا ورلڈکپ 2026 کا شیڈول اور ممکنہ صورتیں
فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 11 جون سے ہوگا۔ ایران گروپ G میں بیلجیئم، مصر اور نیوزی لینڈ کے ساتھ شامل ہے؛ ان کے میچز لاس اینجلس کے علاقے اور سیئٹل میں مقرر تھے۔
اگر ایران جنگ اور سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹورنامنٹ سے باضابطہ طور پر دستبردار ہو جاتا ہے تو یہ جدید دور میں پہلی بار ہوگا کہ کوئی ٹیم ورلڈ کپ سے نکل جائے۔ فیفا کے قوانین کے مطابق اگر کوئی رکن ٹیم دستبردار ہو یا خارج کی جائے تو فیفا کے پاس اختیار ہے کہ کسی اور ٹیم کو شامل کرے یا گروپ کو تین ٹیموں تک محدود کر دے۔
عموماً امکان ہے کہ ایشیا کی سب سے زیادہ رینکنگ رکھنے والی وہ ٹیم جو کوالیفائی نہ کر سکی ہو، ایران کی جگہ لے سکتی ہے۔
کھیل اور سیاست کا ملاپ – ممکنہ نتائج
ایران کی ممکنہ عدم شرکت نہ صرف ورلڈ کپ کے شیڈول کو متاثر کرے گی بلکہ کھیل اور بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے گی۔ ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں آیا جب انہیں فیفا کا "امن انعام” مل چکا ہے، مگر ان کے دور میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کر کے اس کے سپریم لیڈر کو قتل کیا اور سینکڑوں شہریوں کی جان لی۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور فیفا کے ناقدین کا کہنا ہے کہ فیفا نے روس کو یوکرین جنگ پر معطل کیا مگر اسرائیل اور امریکہ کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا، جس سے عالمی کھیلوں کی ساکھ اور غیر جانب داری متاثر ہوئی ہے۔
اگر ایران ٹورنامنٹ سے باہر رہتا ہے تو فیفا کو وقت کم ہونے کے باوجود متبادل ٹیم چننے یا گروپ نظام تبدیل کرنے کا چیلنج درپیش ہوگا۔ ایران کی غیر موجودگی سے دیگر ایشیائی ٹیموں کو فائدہ ہو سکتا ہے، مگر اس سے خطے کی کشیدگی بڑھنے کا خطرہ بھی ہے کیونکہ بعض مبصرین امریکہ کو میزبان کے طور پر نااہل قرار دینے کی مہم چلا سکتے ہیں۔
نتیجہ
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں ہونے والا فیفا ورلڈکپ 2026 اپنی نوعیت میں سب سے بڑا ایونٹ ہوگا، مگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور سیاسی کشیدگی نے کھیل پر سایہ ڈال دیا ہے۔
ٹرمپ کا بیان، ایران کا غصہ اور فیفا کے فیصلے اس بات کی یاددہانی ہیں کہ عالمی کھیلوں کے ایونٹس مکمل طور پر سیاست سے الگ نہیں رہ سکتے۔ مستقبل کا منظرنامہ ابھی غیر یقینی ہے؛ تاہم یہ واضح ہے کہ کھیل، امن اور جیوپولیٹکس کے درمیان توازن قائم کرنا فیفا اور دنیا کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔



