
لاہور ڈیفنس پولیس نے ایک ایسی خاتون کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر جانوروں کو بے دردی سے قتل کر کے ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرتی تھی۔
جانوروں کو اذیت دے کر قتل کرنے والی خاتون گرفتار:
جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے جے ایف کے اینیمل ریسکیو اینڈ شیلٹر نامی (JFK Animal and Rescue ) نامی ادارے نے پولیس کو رپورٹ کیا کہ ایک انسٹا گرام چینل سے ہولناک ویڈیوز دیکھنے میں آرہی ہیں۔
جانوروں کی فلاح کیلئے کام کرنے والے ادارے نے پولیس کو بتایا کہ ایک انسٹا گرام انفلوائنسر کو جانوروں جیسا کہ بلی، خرگوش وغیرہ کو خوفناک طریقے سے مارتے اور اسے شیئر کرتے دیکھا گیا ہے۔
پولیس نے اے ایس پی شہربانو نقوی کی ہدایت پر ڈیفنس میں واقعہ خاتون کے گھر پر چھاپا مارا تو حالات ناقبل بیان تھے۔
ہرطرف سگریٹ، جانوروں کی لاشیں او رخون موجود تھا۔
پولیس نے موقع پر پہنچ کر دیکھا تو جانوروں کو اذیت دے کر مارنے والی یہ خاتون موجود تھی اور ہنس رہی تھی جبکہ اس کے والد کی جانب سے سب چھپانے کی کوشش کی جارہی تھی۔
خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ خاتون یہ حرکات کسی روحانی یا شیطانی عمل کیلئے کر رہی تھی یا ممکنہ طور پر وہ ذہنی مریضہ تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کو ذہنی مریضوں کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے خاتون کے قبضے سے متعدد جانوروں جیسا کہ خرگوش، بلی ، عقاب وغیرہ کو ریسکیو کر لیا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس رکوانے حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی
اے ایس پی شہر بانو نقوی کا ویڈیو بیان جاری:
اے ایس پی شہربانو نقوی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ خاتون ذہنی مسائل سے دوچار تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس نے جانوروں جیسا کہ بلی ، خرگوش اور دیگر کو انتہائی بری حالت میں رکھا ہوا تھا۔
اے ایس پی شہربانو کا کہنا تھا کہ خاتون جانوروں پر تشدد کر کے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال رہی تھی۔
انہوں نے لوگوں سے گزارش کی کہ اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہوں جو ذہنی امراض کا شکار ہو تو اسے پالتو جانور بطور تحفہ نہ دیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے گزارش کی کہ جانوروں پر ہونے والے ظلم کی خلاف آواز اٹھانا شروع کریں کیونکہ یہ بچوں اور کمزور طبقات پر ظلم کی راہ ہموار کرتا ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔
کیا پاکستان میں جانوروں کے تحفظ کا قانون موجود ہے؟
جانوروں کے تحفظ کیلئے 2023 میں لاہور میں پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر ( پی اے آر سی) کا قیام عمل میں لایا گیا۔
یہ ادارہ جانورں پر ہونے والے ظلم کے خلاف کام کرتا ہے اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اپنے قیام کے بعد سے پی اے آر سی نے 1130 جانوروں کو بحفاظت تحفظ مراکز منتقل کیا ہے۔
پاکستان میں جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق کوئی واضح قانون موجود نہیں ہے۔
پریوینشن آف کرویلٹی ٹو اینیملز ایکٹ (1890) واحد قانون ہے جو کہ نوآبادیاتی دور سے چلا آرہا ہے لیکن دورِ جدید کیلئے یہ ناکافی ہے۔
یوں اب اس امر کی مانگ کی جارہی ہےکہ نئے قوانین ترتیب دیئے جائیں تا کہ جانوروں کے خلاف ہونے والے جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔
تاہم یہ بات ایک تازہ ہوا کا جھونکا ضرور ہے کہ جانوروں کے فلاح و بہبود سے متعلق اب مختلف ادارے کام کر رہے ہیں ۔
حالیہ کیس میں بھی ایک تنظیم کی جانب سے پولیس کے نوٹس میں لائے جانے کےبعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔