
اربعین کے موقع پر ہر سال ہزاروں پاکستانی عراق اور ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کیلئے جاتے ہیں۔
رواں سال بھی ہزاروں لوگ اس کی تیاری میں مصروف تھے لیکن حکومت کی جانب اسے اچانک 27 مئی کو پالیسی میں تبدیلی کر دی گئی ۔
اس تبدیلی کے بعد سے حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور زیارات کیلئے جانے والوں کے لاکھوں روپے بھی ڈوبنے کا خدشہ ہے۔
اربعین کیلئے زائرین کے بذریعہ روڈ ایران اور عراق جانے پر پابندی عائد:
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے وزیر داخلہ محسن نقوی نے آگاہ کیا کہ رواں سال زیارات کیلئے عراق ، ایران جانے والوں کو زمینی راستے سے رسائی میسر نہیں آئے گی۔
اپنے ٹویٹ میں محسن نقوی نے لکھا کہ ” وزارت خارجہ، بلوچستان حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے وسیع مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ زائرین کو اس سال اربعین کے لیے سڑک کے ذریعے عراق اور ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ مشکل فیصلہ عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے مفاد میں کیا گیا۔”
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ آنے والے دنوں میں حجاج کرام کی سہولت کے لیے زیادہ سے زیادہ پروازوں کا انتظام کیا جائے۔
وزیر اعظم کے حکم کے بعد پی آئی اے نے فلائٹس آپریشن کا اعلان کر دیا۔ پی آئی اے کے مطابق زائرین کیلئے 8 سے 11 اگست تک پاکستان سے نجف (عراق) تک فلائٹس چلائی جائیں گیں۔
اسی طرح زائرین کی واپسی کیلئے بھی 18 اگست سے 23 اگست تک خصوصی پروازیں چلائی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی آئی اے نے اربعین فلائٹس کیلئے فی مسافر 675 ڈالر کرایہ مقرر کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہفتہ وار فلائٹس کی تعداد 6 سے بڑھا کر 15 کر دی گئی ہے جبکہ عراق جانے والے زائرین کیلئے 107 خصوصی پروازیں بھی چلائی جائیں گی۔
اس کے علاوہ حکومت نے آئندہ سال یکم جنوری 2026 سے زائرین منیجمنٹ پالیسی نافذ کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جس کے تحت زائرین کو صرف رجسٹرڈ منتظمین کے ذریعے ہی زیارات کیلئے جانے کی اجازت ہو گی۔
حکومتی فیصلے پر تنقید:
حکومت کے اس بے وقت فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب زائرین تمام تر انتظامات جیسا کہ ٹرانسپورٹ اور رہائش کا انتظام کر چکے ہیں، حکومتی فیصلے نے انہیں پھنسا کر رکھ دیا ہے۔
کچھ زائرین بلوچستان کے علاقوں میں بھی پہنچ چکےہیں اور وہ اس انتظار میں تھے کہ مقررہ وقت پر روانگی ہو لیکن اچانک حکومت کی جانب سے یہ تبدیلی سامنے آ گئی۔
زائرین اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے پر احتجاج کیا جارہا ہے۔
زائرین کا کہنا ہے کہ فضائی سفر ان کیلئے مہنگا ہے اور وہ اپنے انتظامات کر چکے تھے۔
ایسا فیصلہ لینے سے ان کے پیسے ڈوبنے کا خدشہ ہے جبکہ فضائی ٹکٹ تقریباً زائرین کی پہنچ سے دور ہے۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس،حکومت معاونت کرنے کی بجائے زخموں پر نمک چھڑکنے لگی
شیعہ علماء کونسل اور تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ نے حکومت کیجانب سے زمینی کی بجائے فضائی راستے سے زیارات تک جانے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔
ٹور آپریٹرز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں شیعہ علماء کونسل کے رہنماؤں ڈاکٹر علامہ شبیر حسن میسمی اور نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ وہ ایران اور عراق کے سفیروں سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ سفیروں کے مطابق ایران اور عراق میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شیعہ علماء کونسل کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اصل رکاوٹ پاکستان میں پیدا کی جارہی ہے۔
علامہ واحدی نے حکومتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ ریاست غریبوں کو ان کے مذہبی حقوق سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
صحافی سید ثمر عباس نے بھی حکومتی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پہ کہا کہ "محسن نقوی صاحب آپکے اس بے تکے فیصلے سے لاکھوں زائرین کےکروڑوں روپے ڈوب گئے، آپ سیکیورٹی نہیں دے سکتے تھے تو پہلے بتا دیتے اب لوگ ویزہ فیس ادا کر چکے ہیں جن میں کچھ بہت ہی غریب ہیں، ہوٹلوں کی بکنگ کروا چکے، ٹرانسپورٹرز ایڈوانس واپس نہیں کر رہے، آخری لمحے پراعلان بڑی زیادتی ہے۔”
کیا حکومتی فیصلہ درست ہے؟
اگر حکومتی فیصلے کی بات کر لی جائے تو موجودہ صورتحال میں بلوچستان کا سفر بہت مشکل ہورہا ہے۔
بالخصوص لوگوں کو گاڑیوں سے نکال کر شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد قتل کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حالات کشیدہ کر رکھے ہیں۔
ایسے میں بذریعہ روڈ سفر کرنا مشکل ہوجائےگا۔
اسی طرح ایران اسرائیل حالات بھی کشیدہ رہے ہیں اور اب عارضی طور پر اس میں ٹھہراؤ دیکھا گیا ہے۔ لیکن حالات کی خرابی کی صورت میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
یوں حکومت کا فیصلہ تو درست لیکن وقت غلط معلوم ہوتا ہے۔ یہ حالات کافی مہینے سے چل رہے ہیں۔
حکومت کو پہلے ہی ایسی حکمت عملی ترتیب دینا چاہیے تھی تا کہ زائرین کے کروڑوں روپے نہ ڈوبتے۔
حکومت کو اب اول تو متاثرین کو پیسے واپس دلوانے میں مدد کرنا چاہیے۔ دوسرا حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ زائرین کیلئے جہاز کی ٹکٹ میں مزید کمی کی جائے تا کہ زائرین کیلئے مسائل پیدا نہ ہوں۔