عثمان طارق کی ہیٹ ٹرک ؛ پاکستان ٹرائی نیشن سیریز فائنل میں پہنچ گیا
عثمان طارق جیسے نئے اور ابھرتے ہوئے اسپنرز کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس نہ صرف اسٹار کھلاڑی بلکہ ایسے کھلاڑی جو فیصلہ کن لمحات میں میچ پلٹ سکتے ہیں۔

پاکستان کے “مِسٹری” اسپنر عثمان طارق نے زِمبابوے کے خلاف ہیٹ ٹرک کرتے ہوئے قومی ٹیم 69 رن کی شاندار فتح دلائی۔
ان کا 18 رنز کے عوض 4 وکٹیں لینے کا باؤلنگ سپیل مہمان ٹیم کیلئے تباہ کن ثابت ہوا اور یہی کارکردگی پاکستان کو ٹرائی نیشن سیریز کے فائنل تک لے گئی۔
عثمان طارق کی ہیٹ ٹرک — میچ کا موڑ
زِمبابوے کیلئے 196 رنز کا ٹارگٹ کسے چیلنج سے کم نہ تھا۔ زمبابوے ٹیم 9 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 60 رنز بنا کر موجود تھی جب عثمان طارق نے میچ کی کایا پلٹی۔
10ویں اوور میں لگاتار تین گیندوں میں ٹونی منیوگا، تاشنگا موسی کیوا اور ویلنگٹن مساکاڈزا کو آؤٹ کر کے عثمان طارق کی ہیٹ ٹرک نے زِمبابوے کو 60 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ پر پہنچا دیا تک پہنچا دیا۔
بعد میں انہوں نے ٹنوتندا مپوسا کو بھی آوٹ کیا، اور ان کا اسپیل 4-18 رہا — جو ان کی کیریئر کی بہترین بولنگ تھی۔
اس کارکردگی کی بدولت وہ میچ کا بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ بھی لے اڑے۔
بیٹنگ اور ٹیم کی مکمل کارکردگی
- پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 195/5 رنز بنائے، جس میں بابر اعظم نے 74 رنز کی کلاسک اننگز کھیلی اور صاحبزادہ فرحان نے تیز رفتار 63 رنز بنائے۔
- آخری اوور میں فخر زمان کا دھواں دار بلے بازی بھی دیکھنے کو ملی جس میں انہوں نے صرف25 رنز کی اننگز کھیلی ، جس میں تین چھکّے شامل تھے۔
- بولنگ میں، عثمان طارق کے علاوہ محمد نواز، نسیم شاہ، محمد وسیم جونئیر اور فہیم اشرف نے بھی زبردست تعاون دیا۔
ٹی ٹونٹی میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پاکستانی باؤلرز :
عثمان طارق اب چوتھے پاکستانی بولر بن گئے ہیں جنہوں نے T20 بین الاقوامی میچ میں ہیٹ ٹرک بنائی ہے۔
ان سے پہلے یہ کامیابیاں درج ذیل بولرز نے حاصل کی تھیں:
- فہیم اشرف (سری لنکا کے خلاف)
- محمد حسنین (سری لنکا کے خلاف)
- محمد نواز (افغانستان کے خلاف)
تسلسل اور ٹیم کی بحالی — کیا پاکستان ایک نئے عروج پر ہے؟
- یہ فتح پاکستان کی ٹرائی سیریز میں تیسری مسلسل جیت تھی، جو ٹیم کو اعتماد اور رفتار دونوں فراہم کر رہی ہے۔
- عثمان طارق جیسے نئے اور ابھرتے ہوئے اسپنرز کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس نہ صرف اسٹار کھلاڑی بلکہ ایسے کھلاڑی جو فیصلہ کن لمحات میں میچ پلٹ سکتے ہیں۔
- بیٹنگ اور بولنگ کا توازن بہتر ہو رہا ہے: مضبوط اوپنرز، درمیانی اننگز، اور اختتامی بلے باز + متنوع بولنگ یونٹ — یہ سب مل کر ٹیم کو زیادہ پائیدار بنا رہے ہیں۔
- اس جیت کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف ٹرائی سیریز میں اپنی پوزیشن کنفرم کی ہے بلکہ ایک مثبت سمت میں اپنے T20 کی شبیہہ بنا رہی ہے۔
نتیجہ — ایک نیا آغاز؟
عثمان طارق کی ہیٹ ٹرک محض ذاتی کارنامہ نہیں تھی، بلکہ ایک بیانیہ کا نقطہ آغاز ہے: پاکستان کی T20 ٹیم اب محض انفرادی صلاحیتوں پر انحصار نہیں کر رہی۔ وہ ایک ایسی ٹیم بنتی جا رہی ہے جو گہرائی، حکمتِ عملی اور نِئے ٹیلنٹ کے ساتھ بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ لمحہ امید کی کرن ہے — اگر یہ ٹیم اسی جذبے اور توازن کے ساتھ آگے بڑھے، تو یہ بحالی صرف وقتی نہیں، بلکہ دیرپا ہو سکتی ہے۔



