
لاہور میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج (FJMC) کی ایک 22 سالہ فائنل ائیر ایم بی بی ایس طالبہ 17 فروری 2026 کو ہاسٹل کی تیسری منزل سے گرنے کے بعد جانبر نہ ہو سکیں۔
پولیس کے مطابق لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کیا گیا اور اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی، جبکہ واقعے کے یہ پہلو زیرِ تفتیش ہیں کہ یہ حادثہ تھا، کسی نے دھکا دیا، یا خودکشی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے حقائق جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی گئی جسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی، اور ادارے نے اس افسوسناک واقعے کے بعد 18 تا 24 فروری 2026 تک کلاسز بند اور امتحانات مؤخر کرنے کے نوٹیفکیشنز بھی جاری کیے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ مہینوں میں مختلف جامعات/کالجوں میں طلبہ کی اموات، مبینہ خودکشیوں اور خودکشی کی کوششوں کی خبریں بار بار رپورٹ ہو رہی ہیں۔ اس سے یہ سوال دوبارہ ابھرتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے ذہنی دباؤ، ہراسگی، مالی و خاندانی پریشانیوں اور مدد لینے کے گرد جڑے سماجی “داغ” (stigma) سے نمٹنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔
لاہور میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ کی موت
17 فروری 2026 کو فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی 22 سالہ طالبہ—جو ایم بی بی ایس فائنل ائیر میں زیرِ تعلیم تھیں اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھتی تھیں—ہاسٹل کی تیسری منزل سے گرنے کے بعد انتقال کر گئیں۔
اسی رپورٹ میں رجسٹرار فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے حوالے سے بتایا گیا کہ واقعہ شام تقریباً سوا سات بجے پیش آیا، طالبہ کو ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں، جبکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے کر 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق لاش پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دی گئی اور اہلِ خانہ کو اطلاع دے دی گئی؛ پولیس یہ جانچ رہی ہے کہ آیا طالبہ خود گری، اسے دھکا دیا گیا، یا یہ خودکشی کا واقعہ تھا۔
یعنی اس مرحلے پر وجہ/محرکات کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا—اور اسی لیے کسی بھی قسم کی “یقینی رائے” یا سوشل میڈیا پر چلنے والی غیر مصدقہ باتوں کو رپورٹنگ کا حصہ بنانا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان میں اسی نوعیت کے حالیہ واقعات اور تقابلی جدول
گزشتہ کچھ عرصے میں مختلف اداروں میں طلبہ کی اموات/مبینہ خودکشیوں اور خودکشی کی کوششوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر کیس کے اپنے حالات ہوتے ہیں، مگر تسلسل کے ساتھ آنے والی خبروں نے والدین اور طالب علموں کے اندر اضطراب بڑھایا ہے کہ کہیں ہم ذہنی صحت کے بحران کو “معمول” سمجھ کر نظر انداز تو نہیں کر رہے۔
| تاریخ | ادارہ / شہر | |
| 19 دسمبر 2025 | نجی یونیورسٹی، لاہور | ایک نوجوان نے یونیورسٹی کی چھت سے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا جس کی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی۔ |
| جنوری 2026 (ابتدائی ہفتہ) | نجی یونیورسٹی، لاہور (رائے ونڈ روڈ) | طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش؛ جسے بعدازاں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں حالت میں بہتری آئی۔ |
| 13 اکتوبر 2024 | پنجاب یونیورسٹی، لاہور | گرلز ہاسٹل میں طالبہ کی موت/مبینہ خودکشی؛ واقعے کی پولیس انکوائری، بعد ازاں والد نے قانونی کارروائی سے انکار کی خبر۔ |
ممکنہ اسباب پر ماہرین کی رائے اور کیا چیز “شواہد” میں آتی ہے
فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ کے کیس میں پولیس/یونیورسٹی کے مطابق ابھی تحقیقات جاری ہیں، اس لیے اس سانحے کی “وجہ” یا “محرک” کے بارے میں عمومی مفروضے باندھنا درست نہیں۔
البتہ مجموعی طور پر پاکستان میں طلبہ (خاص طور پر میڈیکل/پروفیشنل تعلیم) کے تناظر میں ماہرین اور تحقیق کچھ ایسے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا—اور انہی کی بنیاد پر ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت بنتی ہے۔
ایسے عوامل جن کا ذکر تو بہت ہوتا ہے، مگر ہر کیس میں ثبوت لازماً نہیں ہوتے
ہراسگی/ہراسانی، ریگنگ، یا ادارہ جاتی بدسلوکی کے الزامات بعض کیسز میں سامنے آتے ہیں، مگر انہیں تحقیقات اور شواہد کے بغیر کسی مخصوص واقعے سے جوڑنا درست نہیں۔
سوشل میڈیا کے اثرات (آن لائن شرمندگی، سائبر بُلیئنگ، “کامیابی” کے غیر حقیقی معیارات، یا خودکشی سے متعلق مواد کی وائرلٹی) عالمی بحث میں بار بار آتے ہیں—اور WHO کی میڈیا گائیڈ لائنز اسی لیے ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر زور دیتی ہیں کہ عوامی بیانیہ خود ایک رسک فیکٹر بن سکتا ہے۔ مگر کسی ایک کیس میں سوشل میڈیا کا کردار تبھی کہا جا سکتا ہے جب تفتیش/شواہد سامنے آئیں۔
اداروں اور پالیسی سازوں کے لیے روک تھام کے عملی اقدامات
یہ رپورٹ کسی ایک واقعے کی وجہ “طے” نہیں کرتی—لیکن یہ ضرور کہتی ہے کہ جب ایک ادارہ طالب علم کھو دے، تو محض تعزیتی بیانات کافی نہیں ہوتے: سسٹم کی سطح پر حفاظتی اور مددگار ڈھانچے ضروری ہیں۔ WHO کی LIVE LIFE حکمتِ عملی خودکشی کی روک تھام کو صرف صحت کے شعبے تک محدود نہیں رکھتی بلکہ تعلیم، میڈیا، اور سماجی شعبوں سمیت متعدد سیکٹرز کے اشتراک پر زور دیتی ہے۔
تعلیمی اداروں کے لیے ترجیحی اقدامات میں یہ شامل ہو سکتے ہیں:
اداروں میں تربیت یافتہ کونسلرز/کلینیکل سائیکالوجسٹس کی دستیابی، طلبہ کے لیے خفیہ اور آسان رسائی والے “کاؤنسلنگ سینٹرز”، اور ہائی رسک طلبہ کی early identification کے لیے فیکلٹی/ہاسٹل اسٹاف کی بنیادی تربیت—یہ وہ اصول ہیں جنہیں WHO کی گائیڈز سمیت عالمی پبلک ہیلتھ فریم ورکس بار بار نمایاں کرتے ہیں۔
پالیسی سازوں کے لیے اہم نکات میں ذہنی صحت کی خدمات کی فنڈنگ، نوجوانوں کے لیے اسکول/کالج سطح پر socio-emotional life skills پروگرامز، اور بحران کے وقت مدد کے قابلِ عمل راستوں (referral pathways) کی تشکیل شامل ہے۔ WHO خاص طور پر نوجوانوں میں socio-emotional skills کی ترویج اور بروقت اسسمنٹ/فالو اپ کو روک تھام کا کلیدی جزو قرار دیتا ہے۔
میڈیا اور ادارہ جاتی کمیونیکیشن کے لیے بھی ایک ضروری “سیفٹی فیکٹر” موجود ہے: WHO کے مطابق سنسنی خیزی، طریقۂ کار کی تفصیل، یا شناختی معلومات کی غیر ضروری تشہیر نقصان دہ ہو سکتی ہے؛ اس کے برعکس مدد کے وسائل، امید افزا بیانیہ، اور ذمہ دار زبان عوامی سطح پر خطرہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ہیلپ لائنز اور فوری مدد
اگر آپ یا آپ کے جاننے والوں میں کوئی شدید ذہنی دباؤ، خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات، یا فوری خطرے میں ہو تو اکیلے نہ رہیں—فوراً کسی قابلِ اعتماد فرد کو ساتھ ملائیں اور مدد لیں۔
ایمرجنسی کی صورت میں قریبی ہسپتال/ایمرجنسی روم جائیں، یا پولیس/ریسکیو سروسز سے رابطہ کریں (پاکستان میں “15” اور “1122” عام طور پر ایمرجنسی نمبرز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں)۔
پاکستان میں چند دستیاب مدد کے ذرائع (نمبروں/اوقات کی تصدیق متعلقہ ادارے کی ویب سائٹ سے کر لیں):
Umang (24/7): 0311 7786264
Taskeen Helpline/Support: +92 316 827 5336
Rozan (تصدیق شدہ ڈائریکٹری کے مطابق): 0800-22444 (Mon–Sat، 10am–6pm) اور موبائل نمبرز بھی درج ہیں
Cyber Harassment Helpline (Digital Rights Foundation): 0800-39393 (Mon–Fri، 9am–5pm)
نتیجہ:
اگر آپ بطور طالبعلم خود متاثرہ ہیں یا آپ کا بچہ جو کسی تعلیمی ادارے میں ہے اور وہ ذہنی طور پر متاثر ہو رہا ہے تو اسکی کاؤنسلنگ کیلئے دیر نہ کریں۔ اس کے گرد چھائے شرمندگی والے عوامل کی بھی نفی کی جائے تا کہ قیمتی جانوں کو ضیاع سے بچایا جا سکے۔



