پاکستانی فری لانسرز کو پی ٹی اے کا بڑا تحفہ
اس سے قبل وی پی این رجسٹر کرنے کے خواہشمند فری لانسرز کو سٹیٹک آئی پی ایڈریس (static IP address) فراہم کرنا پڑتا تھا،

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فری لانسرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک نئے عمل کا آغاز کیا ہے ، جس کے تحت وی پی این کی رجسٹریشن موبائل نمبرز کے ذریعے ممکن بنائی گئی ہے۔
پہلے، وی پی این رجسٹر کرنے کے خواہشمند فری لانسرز کو سٹیٹک آئی پی ایڈریس (static IP address) فراہم کرنا پڑتا تھا، جو کہ ایسے افراد کے لیے کافی مشکلات کا سبب بنتا تھا جن کے پاس سٹیٹک آئی پی ایڈریس کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔
پی ٹی اے کا فری لانسرز کو تحفہ:
پی ٹی اے کی جانب سے اس نئی اپ ڈیٹ کے ساتھ، وہ افراد جو سٹیٹک آئی پی ایڈریس نہیں رکھتے، اب اپنا وی پی این موبائل نمبر کے ذریعے رجسٹر کر سکتے ہیں، اور موبائل ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے وی پی این تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ اقدام آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ دینے اور انٹرنیٹ سیکیورٹی کے اقدامات کو مزید مربوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پی ٹی اے کے ترجمان کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا ہے تاکہ فری لانسرز کو تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے اپنے کام میں خلل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مزید پڑھیں:خبردار، پہلے رجسٹریشن کرائیں پھر وی پی این چلائیں
نئی رجسٹریشن سسٹم خاص طور پر فری لانسرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جو انہیں پی ٹی اے پورٹل پر اپنا موبائل نمبر رجسٹر کرنے اور وی پی این رجسٹریشن مکمل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
رجسٹریشن کے لیے پورٹل کا لنک [https://ipregistration.pta.gov.pk] ہے، جہاں صارفین کو اپنا موبائل نمبر اور دیگر ضروری تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی تاکہ یہ عمل مکمل ہو سکے۔
اس سسٹم کے آغاز کے بعد سے اب تک 31,000 سے زائد وی پی اینز پی ٹی اے کے ذریعے رجسٹر ہو چکے ہیں، جو اس نئی سہولت کی کامیابی اور طلب کو ظاہر کرتا ہے۔
وی پی این رجسٹریشن کا حکم نامہ:
اس سے قبل پی ٹی اے کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سافٹ ویئر ہاؤسز، کال سینٹرز اور غیر ملکی سفارت خانے اپنے آپریشن جاری رکھنے کیلئے وی پی این رجسٹریشن لازمی کروائیں۔
دوسری جانب پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش، سست سپیڈ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش اور آنکھ مچولی کے باعث صارفین بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ فیس بک اور حتیٰ کہ واٹس ایپ استعمال کرنے کیلئے بھی وی پی این سروسز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
کچھ صارفین کا یہ بھی شکوہ ہے کہ وہ وی پی این کے باعث اپنے ڈیٹا کی پرائیویسی بارے بھی فکر مند رہتے ہیں۔ لیکن حکومت کی جانب سے تعاون نہ ہونے کی صورت میں انہیں یہ کڑوا گھونٹ بھرنا پڑتا ہے۔