
ایک دور تھا جب بلوچستان کے افغانستان سے متصل علاقوں اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز علاقوں میں پولیو کے کیسز رپورٹ ہوا کرتے تھے۔ ان کیسز کی بنیادی وجہ وہاں موجود لوگوں کا پولیو وائرس کی ویکسین بارے منفی رویہ تھا جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے تھا۔
تاہم اب اس وائرس نےوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے ۔قومی ادارہ صحت نے اسلام اباد کے یونین کونسل نمبر چار سے ایک بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں یہ پولیو کے سامنے آنے کے بعد رواں سال ملک بھر میں 17 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جس سے ملک کو مکمل طور پر پولیو فری بنانے کا خواب ایک بار پھر چکنا چور ہو گیا ہے۔
یہ کیس ایسے وقت میں سامنے آیا جب تین کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پھیلانے کی مہم ملک بھر میں شروع کی جا چکی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان میںخوفناک وبائی مرض کے کیسز میںاضافہ، پریشان کن خبر
واضح رہے کہ دنیا میں اب صرف پاکستان اور افغانستان ہی باقی ہے جہاں پر پولیو کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس سے قبل سال 2023 میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں پولیو وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کو پولیو فری بنانے کی کمپین پرانی نہیں ہے۔ یہ سال 1994 کی بات ہےجب اس وقت کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی بیٹی اصفہ کو پولیو سے بچاؤ کہ قطرے پلا کر انسداد پولیو مہہم کا آغاز کیا تو انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ملک کو جلد از جلد پولیو فری بنایا جائے گا ۔ تاہم 30 برس گزرنے کے بعد بھی پاکستان اس ہدف کو حاصل نہیں کر سکا۔
پاکستان کیلئے عالمی سطح پر بھی یہ شرمندگی کی بات ہے کہ خطے کے اہم ممالک میں صرف پاکستان ہی اس بیماری سے جامع چھڑانے سے قاصر ہے۔