واٹس ایپ میسج کا نیا شارٹ کٹ فیچرکیا ہے
اس نئے شارٹ کٹ فیچر کے ذریعے، صارفین ویڈیو پیغامات کے برابر میں موجود ایک بٹن کو دباکر فوری طور پر ویڈیو ریکارڈ کر کے جواب بھیج سکتے ہیں۔

واٹس ایپ اپنے صارفین کی سہولت کے لیے مسلسل نئے فیچرز متعارف کرواتا رہتا ہے تاکہ ان کی سہولت اور آسانی میں اضافہ ہو سکے۔
حال ہی میں،واٹس ایپ کی جانب سے ایک نیا شارٹ کٹ فیچر متعارف کرایا گیا ہے جس سے ویڈیو پیغامات کا فوری جواب دینا مزید آسان ہوجائے گا۔ یہ فیچر واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن 2.24.14.5 میں شامل کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق چند روز قبل ہی واٹس ایپ کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا یہ فیچر چند دن بعد سامنے آیا جب یہ انکشاف ہوا کہ وہ کالز ٹیب کے لئے ایک نئے ان ایپ ڈائلر پر بھی کام کر رہا ہے۔
گزشتہ سال، واٹس ایپ نے فوری ویڈیو نوٹسز متعارف کرائے تھے جس کی بدولت صارفین 60 سیکنڈ تک کے ویڈیو پیغامات براہ راست چیٹ میں ریکارڈ کر کے با آسانی بھیج سکتے تھے۔ اب واٹس ایپ اس فیچر کو مزید بہتر بنا رہا ہے تاکہ ویڈیو پیغامات کے فوری جوابات دیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:ایلون مسک کی ٹیکنالوجی نے 8 سال سے مفلوج نوجوان کی زندگی کیسے بدلی
اس نئے شارٹ کٹ فیچر کے ذریعے، صارفین ویڈیو پیغامات کے برابر میں موجود ایک بٹن کو دباکر فوری طور پر ویڈیو ریکارڈ کر کے جواب بھیج سکتے ہیں۔
اس طرح، صارفین متعدد مینو آئٹمز کی طرف جانے سے بچ سکیں گے اور ان کا قیمتی وقت بھی ضائع نہیں ہوگا۔
یہ نئی اپ ڈیٹ واٹس ایپ کے اندر ویڈیو رابطے کو آسان بنانے میں ایک بڑا قدم ہے۔ صارفین اب زیادہ موثر اور تیز تر طریقے سے ویڈیو پیغامات کا جواب دے سکیں گے، جو کہ کہ خصوصاً ان مواقع پر مفید ہوگا جب فوری جواب کی ضرورت ہو۔
اس نئے فیچر کے متعارف ہونے سے واٹس ایپ صارفین کے لئے چیٹ کا تجربہ مزید بہتر ہو جائے گا اور وہ اپنے دوستوں اور فیملی میمبرز کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے رابطے میں رہ سکیں گے،امید کی جارہی ہے کہ یہ نیا فیچر واٹس ایپ صارفین کے لئے ایک بہترین آپشن ثابت ہوگا۔
پاکستان میں صارفین کو واٹس ایپ کے استعمال میں مشکلات:
دوسری جانب پاکستانی اس نئے فیچر کو استعمال کرنے سے ابھی محروم رہیں گے کیونکہ انٹرنیٹ کی سست سپیڈ کے باعث صارفین پہلے سے موجود فیچرز کو ہی استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔
صارفین میسج بھیجنے کیلئے کافی دیر انتظار کرنے پر مجبور ہیں جب کہ دوسری جانب مختلف وجوہات کی بنا پر صارفین میڈیا فائلز جیسا کہ وائس نوٹ، ڈاکیومنٹ ، تصاویر وغیرہ شیئر کرنے پر بھی قاصر ہیں کیونکہ یہ میسج ڈلیور ہی نہیں ہو پارہے۔
صارفین ایک بار پھر ان کاموں کیلئے ای میل کے دور میں واپس چلے گئے ہیں۔ ممکنہ طور پر حکومت فائر وال لگانے کا ارادہ رکھتی ہے تا کہ سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ حکومت خفیہ طور پر فائر وال انسٹال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس پر کام آخری مراحل میں ہے۔
واٹس ایپ سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپس کے استعمال میں دقت اور انٹرنیٹ کی سست سپیڈ کو بھی فائر والی کی تنصیب سے جوڑا جارہا ہے۔