
پاکستان ایک بار پھر ایک سنگین فیصلے کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی قیمتوں کو ایک سو ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا ہے، تو دوسری طرف وفاقی حکومت ہفتہ وار دو روزہ "اسمارٹ لاک ڈاؤن” نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ وہ فیصلہ ہے جس کے گہرے اثرات پاکستان ہوں گے۔
اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا ہے؟
اسمارٹ لاک ڈاؤن وہ ہدفی پابندیاں ہیں جو کوویڈ-19 وبا کے دوران پہلی بار پاکستان میں متعارف کروائی گئی تھیں، جن کے ذریعے مکمل بندش کی بجائے مخصوص علاقوں یا اوقات میں سرگرمیاں روکی جاتی ہیں۔
موجودہ تجویز کے مطابق ہفتے کی دوپہر سے اتوار کی آدھی رات تک تمام بازار، دفاتر، شادی ہال اور غیر ضروری خدمات بند رکھی جائیں گی، جبکہ ہسپتال، فارمیسی، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کرتی رہیں گی۔
یشت، محنت کش طبقے، اور ملک کی تجارتی سرگرمیوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
حکومت کا موقف
وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق یہ تجویز صوبائی حکومتوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھیج دی گئی ہے اور تمام فریقین کی رائے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ سندھ کے وزیرِ بلدیات ناصر حسین شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات ہرگز معمول کے نہیں اور اگر مشرقِ وسطیٰ کی جنگ طول پکڑتی رہی تو اس کے نتائج "خوفناک” ہوں گے۔
صوبائی حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے تیل کے الاؤنس میں پہلے ہی ساٹھ فیصد کمی کر دی ہے۔
پاکستان کو کیسے نقصان پہنچ رہا ہے؟
معیشت پر ضرب
پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت معاشی بحالی کی کوشش میں ہے۔ ہفتہ وار دو دن کی مکمل تجارتی بندش کا مطلب ہے کہ سال میں تقریباً ایک سو چار دن کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں گی۔ تاجر برادری پہلے ہی پریشان ہے کہ یہ پابندی ان کی آمدنی، درآمد و برآمد کے توازن، اور جی ڈی پی پر منفی اثر ڈالے گی۔
روزانہ اجرت پر گزارہ کرنے والوں کی تباہی
پاکستان کی بہت بڑی آبادی یومیہ اجرت پر زندہ ہے — رکشہ ڈرائیور، ریڑھی بان، دکاندار، مزدور۔ ہر لاک ڈاؤن ان کے لیے ایک دن کی بھوک ہے۔ مہنگائی پہلے ہی 25 سے 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اوپر سے یہ بندش انہیں معاشی دلدل میں مزید دھنسا دے گی۔
کاروباری اعتماد کا خاتمہ
غیر ملکی سرمایہ کار اور مقامی صنعتکار ایک مستحکم، قابلِ پیشگوئی ماحول چاہتے ہیں۔ بار بار کی پابندیاں اور حکومتی فیصلوں میں عدم یقینی سرمایہ کاری کو نا ممکن بنا دیتی ہے۔ کراچی کے صنعتکاروں نے اگرچہ توانائی کے تحفظ کی حمایت کی ہے، لیکن مکمل بندش پر سنگین تحفظات موجود ہیں۔
افواہوں کا طوفان اور قومی بے یقینی
ابھی تک کوئی باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا، لیکن خبریں اس طرح پھیل چکی ہیں جیسے لاک ڈاؤن ہو گیا ہو۔ یہ معلوماتی انتشار (Information Chaos) خود ایک مسئلہ ہے — بازار ڈوبتے ہیں، صارف خریداری بند کر دیتے ہیں، اور معیشت مزید سکڑ جاتی ہے۔
تعلیم اور معمولاتِ زندگی کا بحران
تعلیمی ادارے پہلے ہی مکمل طور پر بند ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو بچوں کے تعلیمی سال پر بہت برا اثر ہوگا۔
اختتامیہ — مشکل راستے کا انتخاب
اسمارٹ لاک ڈاؤن کا خیال خالی خزانے اور مہنگے تیل کی چکی میں پسے ایک ملک کی بے بسی کی داستان ہے۔ حکومت کا ارادہ ایندھن اور توانائی بچانا ہے، لیکن اس پالیسی کی قیمت سب سے زیادہ وہ لوگ ادا کریں گے جو پہلے ہی سب سے کم وسائل رکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فیصلے جلد بازی میں نہیں بلکہ ماہرینِ معیشت، صوبائی حکومتوں اور تاجر برادری کی مشاورت سے کیے جائیں۔
سب سے بڑھ کر، جو قانون بنے اس پر اشرافیہ سمیت سب پر یکساں عمل ہو۔ ورنہ یہ "اسمارٹ” لاک ڈاؤن، پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اور زخم بن جائے گا۔



