کرکٹ بیٹ ہینڈل ٹھیک کر نے سے انٹرنیشنل کرکٹ کا سفر کرنے والا ساجد خان
یتیمی کے سائے میں پلتے ساجد خان نے ہر ممکن کوشش سے اپنے آپ کو کرکٹ سے جوڑے رکھا۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اس وقت دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلا جارہا ہے. پاکستان نے دوسری اننگز میں صرف 221 رنز بنائے اور مجموعی طور پر انگلینڈ کو جیت کیلئے 297 رنز کا ہدف دیا ہے.
ہدف کے تعاقب میں مہمان ٹیم 36 کے مجموعی سکور پر دو وکٹیں گنوا چکی ہے۔
یوں تو جیت کیلئے انگلینڈ ٹیم کیلئے بقیہ 261 رنز کوئی بڑا ہدف نہیں ہے لیکن ایک خطرہ ہے جو کہ مہمان ٹیم کے سر پر منڈلا رہا ہے اور وہ ہے ساجد خان کی تباہ کن باؤلنگ۔
پہلی اننگز میں انگلینڈ کے 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھانے والے ساجد خان دوسری اننگز میں بھی ایک کھلاڑی کو آؤٹ کر چکے ہیں اور انکے تیور پہلی اننگز والے ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
آج ہم ساجد خان کی کارکردگی دیکھ کر رشک کر رہے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم کھلاڑی ماضی میں کرکٹ بیٹ کے ہینڈل ٹھیک کر کے اپنی روزی روٹی کماتا رہے ہے۔
بیٹ ہینڈل درست کرنے سے انٹرنیشنل کرکٹ تک کا سفر کرنے والا ساجد خان:
ساجد خان کا انٹرنیشنل کرکٹ تک کا سفر بہت کٹھن راستوں سے ہوتا ہوا مکمل ہوا ہے۔ ساجد خان کی کہانی کی ایک ویڈیو سوشل ویڈیو پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ساجد اپنی آپ بیتی سنا رہے ہیں۔
ایک غریب فیملی سے تعلق رکھنے والے ساجد خان نے بچپن میں ہی اپنے والد کو گنوادیا۔ یتیمی کے سائے میں پلتے اس کھلاڑی نے ہر ممکن کوشش سے اپنے آپ کو کرکٹ سے جوڑے رکھا۔
ساجد خان بتاتے ہیں کہ کالج کے دنوں میں وہ سپورٹس کا کام کرتے تھے جس میں وہ کرکٹ بیٹ کے ہینڈل ٹھیک کرتے تھے۔
اس کے ساتھ وہ سیل فون لے کر آگے بیچ کر جتنی کمائی کر سکتے تھے ان سے اپنے لئے سپورٹس کا سامان خریدتے تھے۔
مزید پڑھیں:انڈین کھلاڑی ایشون کس پاکستان کرکٹر کے مداح نکلے
اس دوران کرکٹ کے کم مواقع ملنے کے دوران وہ کمانے کی غرض سے دبئی بھی گئے ۔ لیکن اپنی ماں کی خواہش پر وہ واپس آ گئے۔
یوں ایک دن ٹرائل کے دوران وہ کامیاب تو ہو گئے لیکن پہننے کو سپورٹس جوتے نہ تھے۔ ساجد نے عمران سینئر فاسٹ باؤلر نے انہیں جوتے دیئے۔
ڈومسیٹک کرکٹ سے انٹرنیشنل کرکٹ تک:
وہاں سے انہیں پشاور میں واپڈا کی ٹیم کے مخالف میچ کھیلنے کا موقع ملا اور انہوں نے 4 اوورز میں 6 آؤٹ کر دیئے اور یوں کیریئر کا آغاز ہوا۔
ساجد خان کہتے ہیں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بغیر سفارش کرکٹ میں موقع نہیں ملتا وہ 100 فیصد جھوٹ ہے۔ محنت کا پھل ملتا ہے۔ ساجد کہتے ہیں کہ وہ آج یہاں تک پہنچے ہیں تو بنا سفارش کے پہنچے ہیں۔
وہ اپنی کامیابی کاسہر اپنے ماں کے سر سجاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بھی مشکل وقت آیا ہے تو ان کی ماں سپورٹ ہوتی ہیں۔ اگر ماں نہ ہوتی تو میں کہیں اور ہوتا یا کوئی اور ہوتا۔
پی سی بی اب ساجد خان کی ذمہ داری لے:
ساجد خان نے بہت محنت کے بعد یہ مقام پایا ہے۔ وہ بڑی سے بڑی ٹیمز کے خلاف جس اعتماد سے باؤلنگ کر رہے ہیں یہ ان کے بہترین کیرئیر کی ضامن نظر آرہی ہے۔
پی سی بی کو چاہیے کہ ان پر محنت کریں۔ سینئر کرکٹرز بھی ان کے کمی کوتاہیوں پر کام کریں تا کہ یہاں تک محنت کےبل بوتے پر پہنچنے والا ساجد، اونچائی سے گرا نہ دیا جائے۔ جیسا کہ عموماً ہمارے ہاں دیکھنے کو ملتا ہےکہ کرکٹ ہیرو، فوراً زیرو کر دیا جاتا ہے۔