آبنائے ہرمز کیا ہے اور اس کے متبادل ذرائع کتنے کارآمد ہیں؟
ایران نے ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملہ کیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دنیا کی سب سے اہم اور حساس آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک تنگ سمندری راستہ ہے جو خلیجِ فارس کو خلیجِ عمان اور بحرِ عرب سے ملاتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ آبنائے خلیج فارس کا واحد سمندری دروازہ ہے۔ اس کے بغیر سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ایران — یہ تمام ممالک اپنا تیل اور گیس بحری راستے سے باہر نہیں بھیج سکتے۔ اسی لیے اسے دنیا کا سب سے اہم آئل چوک پوائنٹ (Oil Chokepoint) کہا جاتا ہے۔
تیل کی ترسیل میں آبنائے ہرمز کی اہمیت
عالمی تیل کی سپلائی میں حصہ
امریکی محکمہ توانائی (EIA) کے اعداد و شمار کے مطابق سن2025 کی پہلی ششماہی میں روزانہ تقریباً 2 کروڑ9 لاکھ بیرل (20.9 million barrels per day) تیل اس آبنائے سے گزرتا رہا — یہ دنیا کی روزانہ کل تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔
صرف تیل ہی نہیں، دنیا کی قدرتی گیس (LNG) کی تجارت کا بھی 20 فیصد سے زائد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ قطر جو دنیا کے سب سے بڑے گیس برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، اپنی LNG برآمدات مکمل طور پر اسی راستے سے بھیجتا ہے۔
کون سے ممالک اس پر انحصار کرتے ہیں؟
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کا 80 فیصد سے زائد ایشیائی منڈیوں کو جاتا ہے۔ چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا اس تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ صرف چین اور بھارت مل کر اس تیل کا 44 فیصد خریدتے ہیں۔
پاکستان بھی اپنے تیل کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے جو اسی راستے سے گزر کر آتا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو پاکستان کی توانائی ضروریات پر فوری اور سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔
روزانہ کتنے جہاز گزرتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق عام دنوں میں روزانہ 80 سے 130 سے زیادہ جہاز اس آبنائے سے گزرتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر بہت بڑے تیل کے ٹینکر ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک میں دس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل ہوتا ہے۔
متبادل راستے — کتنے قابلِ عمل؟
اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو متبادل راستے انتہائی محدود ہیں۔ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس ایسی پائپ لائنیں ہیں جو آبنائے سے گزرے بغیر تیل پہنچا سکتی ہیں۔ لیکن ان کی مجموعی گنجائش صرف 35 سے 55 لاکھ بیرل فی دن ہے — جو کہ موجودہ ترسیل کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔
حالیہ جنگی بحران
جنگ کے پہلے ہفتوں میں ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر منظم حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ 12 مارچ تک ایران کی جانب سے 21سے زیادہ بحری جہازوں پر تصدیق شدہ حملے ہو چکے تھے۔ ٹینکر ٹریفک پہلے 70 فیصد کم ہوئی اور پھر عملاً صفر ہو گئی۔ 150 سے زیادہ جہاز آبنائے کے باہر لنگر انداز ہو کر انتظار کرتے رہے۔
چند اطلاعات آئیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں (Naval Mines) بچھانا شروع کر دی ہیں۔
ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ
22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایک انتہائی سخت پیغام لکھا جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
"اگر ایران نے ٹھیک ۴۸ گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بغیر کسی خطرے کے نہیں کھولا تو امریکہ ان کے مختلف بجلی گھروں کو تباہ و برباد کر دے گا — شروعات سب سے بڑے سے ہوگی!”
ٹرمپ نے یہ الٹی میٹم ایسے وقت دیا جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث امریکہ میں پیٹرول کی قیمت ایک ماہ میں ایک ڈالر فی گیلن سے زیادہ بڑھ چکی تھی اور عالمی تیل منڈیوں میں شدید اضطراب تھا۔
ایران کا جوابی ردعمل
ایران نے ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی اور آب رسانی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا کہ خلیجی خطے میں تمام اہم توانائی تنصیبات ہمارے نشانے پر ہوں گی۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے یہ بھی وارننگ دی کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو آبنائے ہرمز کو ‘مکمل طور پر’ بند کر دیا جائے گا۔
اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے بند رہے تو کیا ہوگا؟
عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر
آبنائے ہرمز کی چند ہفتوں کی بندش کے اثرات پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے بند رہے تو تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ ناگزیر ہے ۔
اس وقت دنیا کا اضافی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ تر سعودی عرب کے پاس ہے — اور سعودی عرب کا تیل بھی اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔ یعنی بحران کو کم کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ملک بھی خود اسی بحران میں پھنسا ہوا ہے۔
ایشیا پر سب سے زیادہ اثر
آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا جو اس تیل کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ چین اور بھارت جو دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی معیشتیں ہیں، اس بندش سے شدید متاثر ہوں گی۔
پاکستان کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش انتہائی تکلیف دہ صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ پاکستان اپنی توانائی ضروریات کا بہت بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو مزید بڑھائے گا، بجلی پیدا کرنے کی لاگت بڑھے گی، ٹرانسپورٹ اور زراعت متاثر ہوگی اور پہلے سے کمزور معیشت مزید دباؤ میں آئے گی۔
عالمی معیشت پر اثرات
عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کی طویل بندش سے عالمی GDP کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ یورپ کو اپنی توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش کرنی پڑے گی۔ قطر کی LNG برآمدات مکمل طور پر بند ہو جائیں گی جس سے عالمی گیس منڈی میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو جائے گا — جسے فوری طور پر پُر کرنا ناممکن ہوگا۔
نتیجہ — دنیا کا سانس اس گلے میں اٹکا ہوا ہے
آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں — یہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کا پانچواں حصہ تیل اور پانچواں حصہ قدرتی گیس اسی تنگ گزرگاہ سے گزر کر ارب ہا لوگوں کے گھروں، کارخانوں، گاڑیوں اور بجلی گھروں تک پہنچتی ہے۔
یہ بحران صرف ایران اور امریکہ کی جنگ نہیں — یہ ہر اس ملک کا مسئلہ ہے جو تیل درآمد کرتا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو قریب سے دیکھنا اور سمجھنا ہر پاکستانی کے لیے ضروری ہے کیونکہ اس کا سیدھا اثر ہمارے پٹرول، بجلی اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔



