اہم خبریںدنیا

یونان میں سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون کیا پاکستان میں اپنایا جاسکتا ہے؟

یونان سوشل میڈیا پر پابندی کے اس میدان میں پہلا ملک نہیں ہے۔ آسٹریلیا نے  16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا بند کر کے دنیا کو پہلی مرتبہ ایک نئی راہ دکھائی۔

آج کی ڈیجیٹل دنیا میں سوشل میڈیا نوجوان نسل کی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک اور اسنیپ چیٹ جیسے پلیٹ فارم بچوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے یونان نے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے جو پوری دنیا میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

یونان کے وزیراعظم کیریاکوس متسوتاکیس نے 8 اپریل 2026 کو ایک ویڈیو پیغام ( جو خود ٹک ٹاک پر نشر کیا گیا) کے ذریعے اعلان کیا کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کو انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک اور اسنیپ چیٹ تک رسائی پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔ یہ قانون یکم جنوری 2027 سے نافذ العمل ہوگا۔

وزیراعظم نے خود نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ”میں جانتا ہوں تم میں سے کچھ مجھ سے ناراض ہوں گے، لیکن ان ایپس کا لت لگانے والا ڈیزائن اور منافع کا ماڈل جو تمہاری توجہ پر قائم ہے، ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہی تھا۔”

یونان کے ڈیجیٹل گورننس کے وزیر نے وضاحت کی کہ عمر کی تصدیق "Kids Wallet” نامی ایک سرکاری ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے کی جائے گی جو والدین کو بچے کے موبائل فون پر مکمل کنٹرول دیتی ہے۔ نابالغ بچوں کو والدین کی رضامندی سے بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

دنیا میں یہ رجحان کہاں سے شروع ہوا؟

 

یونان سوشل میڈیا پر پابندی کے اس میدان میں پہلا ملک نہیں ہے۔ آسٹریلیا نے  16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا بند کر کے دنیا کو پہلی مرتبہ ایک نئی راہ دکھائی۔

اب یونان نے یہ حد 15  سال پر مقرر کی ہے اور یورپی یونین کے سربراہ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ پورا یورپ 2026 کے آخر تک ایک متحدہ "ڈیجیٹل رسائی کی عمر” کا فریم ورک اپنائے۔

یہ پابندی کیوں ضروری ہے؟ سائنس کیا کہتی ہے؟

 

وزیراعظم متسوتاکیس نے کہا کہ انہوں نے بہت سے والدین سے بات کی جن کے بچے رات کو سو نہیں پاتے، معمولی باتوں پر بے چین ہوجاتے ہیں اور گھنٹوں اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ انہوں نے کہا ko سائنس بالکل واضح ہے۔  جب بچہ گھنٹوں اسکرین پر رہتا ہے تو اس کا دماغ آرام نہیں کر پاتا۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر مسلسل دوسروں سے موازنہ، منفی تبصرے اور لائکس کا نشہ بچوں میں اعتماد کی کمی، تنہائی اور ڈپریشن کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر پابندی ممکن؟

 

پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 12 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ دیہی علاقوں تک سستے اسمارٹ فون اور سستے ڈیٹا پیکجز کی وجہ سے بچے بہت چھوٹی عمر میں سوشل میڈیا تک پہنچ جاتے ہیں۔

والدین اکثر اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کا 10  یا 12 سالہ بچہ کون سا مواد دیکھ رہا ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل خواندگی کی کمی، اور حکومتی اداروں کی  محدود صلاحیت اور بڑے پیمانے پر وی پی این کا استعمال یہ مسئلہ مزید پیچیدہ بناتا ہے۔

پاکستان میں اس پابندی کو نافذ کرنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے جس کیلئے حکومتی اور عوامی سطح پر بہت کام کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button