سائنس اور ٹیکنالوجی

فائر وال سسٹم سوشل میڈیا کو کیسے کنٹرول کرتا ہے

حکومت نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور نقصان دہ مواد کی روک تھام کے لیے ایک جدید فائر وال سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا  ہے۔

پاکستان میں ان دنوں انٹرنیٹ کی سپیڈ کا کم رہنا اور سوشل میڈیا ایپس کا ڈاؤن رہنا معمول بن چکا ہے۔ ابتدائی طور پر تو حکومت یہ ساری معاملہ شارک پر ڈال کر غائب ہو جاتی تھی۔

وضاحت سامنے آتی تھی کہ سمندر میں انٹرنیٹ کی تار کسی شارک مچھلی نے کاٹ ڈالی ہے اور اب انٹرنیٹ بحال کرنےمیں کچھ دن لگ جائیں گے۔

لیکن آہستہ آہستہ سمجھ آنے لگا کہ یہ کوئی شارک مچھلی نہیں بلکہ بڑی آنکھوں والی حکومت کی کارستانی ہے۔ حکومتی اراکین اور پی ٹی اے کی جانب سے باضابطہ طور پر فائر وال لگانے کی تصدیق کی جانے لگی۔

جب حکومت کی یہ نیت سمجھ آئی تو ساتھی ہی سوال اٹھنے لگ گئے کہ یہ فائر وال کیا ہے اور یہ کیسی کام کرتی ہے۔ یعنی کہ اس سے سوشل میڈیا کیسے کنٹرول ہوتا ہے ؟

فائر وال کیسے کام کرتا ہے؟

 

حکومت نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور نقصان دہ مواد کی روک تھام کے لیے ایک جدید فائر وال سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا  ہے۔

یہ ایک ایسا نظام ہے جو صارفین کو نقصان دہ اور غیر قانونی مواد سے محفوظ رکھتا ہے۔فائر وال سسٹم انٹرنیٹ گیٹ ویز پر نصب کردیا جاتا ہے اور پھر یہ انٹرنیٹ اپ لنک اور ڈاؤن لنک کو فلٹر کرکے گمراہ کن، ناپسندیدہ، اور غیر قانونی مواد کو بلاک کردیتا ہے۔ جس کی مدد سے ایسی ویب سائٹس کو روکا جا سکتا ہے جو غیر اخلاقی مواد پھیلاتی ہیں۔

فائر وال سسٹم کی مدد سے کسی بھی مواد کی اصل، یعنی جہاں سے وہ کونٹینٹ پہلی بار پوسٹ ہوا ہو، اس کا آئی پی ایڈریس ٹریس کر کے مواد کے تخلیق کار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:اب آپ چیٹ جی پی ٹی کو واٹس ایپ میسجز بھی کرسکتے

ذرائع کے مطابق، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو فائر وال نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس کی کچھ قیمت حکومت ادا کرے گی اور باقی قیمت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں ادا کریں گی۔ا

س حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں غیر قانونی مواد کو روکنے کی پابند ہیں اور انہیں اپنے لائسنس کی شرائط کے مطابق اقدامات اٹھانے ہو گے۔

فائر وال سسٹم کی یہ خصوصیات اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کو محفوظ تجربہ فراہم کیا جا سکے اور انہیں گمراہ کن اور خطرناک مواد سے محفوظ رکھا جاسکیں۔

اس سسٹم کی مدد سے نہ صرف ناپسندیدہ کونٹینٹ کو روکا جا سکے گا بلکہ اس کے تخلیق کاروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکے گی۔

اس طرح حکومت اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں ایک ساتھ مل کر ایک محفوظ اور صحت مند ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنا سکیں گی۔

گمراہ کن مواد سے بچاؤ یا آزادی اظہار رائے پر قدغن:

 

حکومت اس کوشش کو گمراہ گن راستے سے بچانے کا راستہ بتا رہی ہے جبکہ اپوزیشن، ماہرین، عوام الناس اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے چند ایسے اقدامات دیکھنے کو ملےہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا مسئلہ گمراہ کن مواد پر پابندی نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کوشش ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button