رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر ڈرامہ ، فکری زوال اور حالیہ تنازعات
سب سے نمایاں اور متنازعہ رجحان مستند مذہبی اسکالرز کی جگہ معروف ٹی وی اداکاروں، فیشن ماڈلز، مارننگ شو کے میزبانوں اور سوشل میڈیا ٹک ٹاکرز کا بطور 'مذہبی میزبان' انتخاب ہے ۔

حالیہ برسوں بالخصوص 2024 اور 2025 کی رمضان ٹرانسمیشن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ان پروگراموں میں کئی غیر معمولی، حیران کن اور بعض اوقات مضحکہ خیز رجحانات نے جنم لیا ہے۔
سب سے نمایاں اور متنازعہ رجحان مستند مذہبی اسکالرز کی جگہ معروف ٹی وی اداکاروں، فیشن ماڈلز، مارننگ شو کے میزبانوں اور سوشل میڈیا ٹک ٹاکرز کا بطور ‘مذہبی میزبان’ انتخاب ہے ۔
یہ عناصر رمضان کے تقدس کو براہِ راست مجروح کرنے اور سنگین اخلاقی مسائل کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں، جس پر عوامی اور مذہبی حلقوں کیجانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے
گیم شوز کا غلبہ اور اسپورٹس لیگ کا ماڈل
ان نشریات میں ‘گیم شوز’ کا بے تحاشہ غلبہ ایک اور قابلِ ذکر اور تشویشناک پہلو ہے۔ نجی نیوز چینل پر فہد مصطفیٰ کی میزبانی میں نشر ہونے والا جیتو پاکستان اس کی سب سے بڑی اور واضح مثال ہے۔ اسے اب محض ایک گیم شو کے بجائے باقاعدہ ایک کرکٹ فرنچائز یا اسپورٹس لیگ کی طرز پر پیش کیا جاتا ہے ۔
ان شوز میں شرکاء اور حاضرینِ محفل قیمتی انعامات، گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور سونے کے زیورات کے حصول کے لیے بعض اوقات ایسی تضحیک آمیز اور غیر سنجیدہ حرکات کرتے دکھائی دیتے ہیں جو رمضان کی بنیادی روح اور مقاصد کے بالکل برعکس ہیں ۔
بچوں کی معصومیت کا تجارتی استحصال
نجی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشن میں ایک اور انتہائی غیر معمولی اور تشویشناک چیز ‘چائلڈ اسٹارز’ کا بے دریغ استعمال ہے۔ احمد شاہ جیسے چائلڈ اسٹارز اور شیرازی وی لاگر برادران (جو دیہاتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں) کو ریٹنگز کے حصول کے لیے پرائم ٹائم شوز کی مرکزی کشش بنایا گیا ہے ۔
بچوں کو ان کے قدرتی ماحول (پہاڑوں اور دیہاتوں) سے نکال کر کیمرے کی چکاچوند اور کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنا ان کی معصومیت کو بیچنے کے مترادف ہے ۔
اگرچہ میزبان اس تنقید کا اسٹریٹجک دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بچوں کے ساتھ فیملی ڈنر جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کی فلاح کا خیال رکھا جاتا ہے ، لیکن ابلاغیات اور ‘چائلڈ ڈویلپمنٹ’ (بچوں کی نفسیاتی نشوونما) کے ماہرین اس رجحان کو خطرناک قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک یہ چائلڈ لیبراور تعلیم و تفریح کے درمیان لکیر کو دھندلا کرنے کی ایک واضح شکل ہے، جہاں بچوں پر ایک تھوپی گئی معصومیت مسلط کی جاتی ہے تاکہ میڈیا مشینری کو ایندھن فراہم کیا جا سکے ۔
فضا علی کیس: نمائشی پرہیزگاری، ریٹنگ کی ہوس اور اخلاقی تضادات
ٹی آر پیز (TRPs) کی دوڑ میں انسانی رشتوں اور خاندانی تنازعات کو بھی بیچنے سے گریز نہیں کیا گیا۔ فضا علی کے شو میں ‘ڈاکٹر نبیہا’ کو مدعو کیا گیا، جو کہ ایک مشہور سوشل میڈیا انفلوئنسر (حارث کھوکھر) کی اہلیہ ہیں ۔
رمضان کی اس خصوصی افطار ٹرانسمیشن میں ڈاکٹر نبیہا نے روتے ہوئے اپنے شوہر اور سسرال پر سنگین الزامات عائد کیئے ۔۔
فضا علی نے کیمرے کے سامنے ڈاکٹر نبیہا کو روتے ہوئے گلے لگایا، ساتھ ہی ان کے شوہر کو جس طرح سے مخاطب کیا اور سامنے آکر بات کرنے کا کہا وہ لہجہ بذات خود دھمکی آمیزانہ تھا۔
فضا علی کے کیس کا سب سے تنقیدی اور چشم کشا پہلو ان کی آن اسکرین بناوٹی مذہبی شخصیت اور رمضان ختم ہونے کے فوری بعد کی ذاتی سرگرمیوں کے درمیان پایا جانے والا ہوش ربا تضاد تھا۔ پورے ماہِ رمضان کے دوران وہ ٹی وی اسکرین پر رو رو کر دعائیں مانگتی، ناظرین کو اخلاقیات کا درس دیتی اور اسلامی اقدار پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتی نظر آئیں ۔
تاہم، رمضان ختم ہوتے ہی ان کے اکاؤنٹ دوبارہ سے شوبز سرگرمیوں سے بھر جاتے جو کہ تضاد پیش کرتا ہے۔
نظریاتی و فکری تصادم: ساحل عدیم اور علامہ ہشام الہیٰ ظہیر کی علمی جنگ
رمضان نشریات کا ایک اور انتہائی پیچیدہ، سنگین اور معاشرتی سطح پر تقسیم پیدا کرنے والا پہلو وہ متنازعہ مباحثے ہیں جہاں جدید دور کے موٹیویشنل اسپیکرز (تحریکی مقررین) اور روایتی علمائے کرام کے درمیان براہ راست فکری اور نظریاتی تصادم دیکھنے کو ملتا ہے۔
احباب کی فرمائش پر پورا پروگرام پیش خدمت ہے
تمام احباب پورا پروگرام دیکھیں اور خود فیصلہ کریں ساحل عدیم جب علامہ صاحب کے دلائل کا مقابلہ نا کرسکا ذاتیات پر اتر آیا
نوجوان دین اور علماء سے دور کیوں
مکالمے کا موضوع تھا نوجوان دین سے دور کیوں؟؟
علامہ صاحب نے چار اداروں کو ذمہ دار… pic.twitter.com/0vDzgGuqxy— Hafiz Hisham Elahi Zaheer (@hishamelahi) February 22, 2026
نجی نیوز چینل پر نشر ہونے والے ‘پیغامِ رمضان’ اور دیگر شوز میں ساحل عدیم (جو کہ ایک لائف کوچ اور موٹیویشنل اسپیکر ہیں) اور معروف عالمِ دین علامہ ہشام الہیٰ ظہیر کے درمیان ہونے والی گرما گرم بحث اس نظریاتی کشمکش کی سب سے بڑی اور واضح مثال ہے ۔
موضوع نوجوانوں کے دینی طبقے سے دوری سے متعلق تھا لیکن اس میں دونوں مقررین نے جس طرح ذاتی حملے کیئے وہ نئی نسل کو مزید دور کرنے کا عمل معلوم ہوتا تھا۔
رمضان سپیشل ڈرامے
مضحکہ خیز طور پر چینلز نے اب رمضان سپیشل ڈراموں کے نام سےنئی سیریز شروع کر رکھی ہیں۔ یہ ڈرامے افطار کے بعد سے تروایح کے اوقات تک نشر ہوتے ہیں اور دن بھر بھی ان کی رونمائی کے ذریعے لوگوں کو وقت گزرانے کے طریقے کے طور پر بیچا جاتا ہے۔
رمضان میں تو وقت کے وقعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لیکن ان قیمتی گھڑیوں میں ایسے ڈرامے لانچ کر کے دینی فرائض سے غفلت کا سامان پیدا کیا جاتا ہے۔
حتمی تجزیہ اور اختتامی نتائج
پاکستانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی موجودہ رمضان ٹرانسمیشن کا یہ گہرا، عمیق اور کثیر الجہتی پوسٹ مارٹم غیر مبہم طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ نشریات اب اپنی اصل تاریخی، مذہبی، روحانی اور اخلاقی حیثیت کو تقریباً کھو چکی ہیں۔
ریٹنگز کے حصول، کارپوریٹ اسپانسرز کی خوشنودی اور اشتہارات کی مالی مجبوریوں نے ان باوقار پروگراموں کو ایسے کمرشل میلوں اور تماشوں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مذہب محض ایک بکنے والا برانڈ (Commodity) بن کر رہ گیا ہے۔
پاکستانی الیکٹرانک میڈیا اور اس کے ریگولیٹری اداروں کو اپنی ادارتی پالیسیوں، اخلاقی حدود اور سماجی ذمہ داریوں پر ہنگامی بنیادوں پر اور انتہائی سنجیدگی سے نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔



