
لاہور کے تاریخی بھاٹی گیٹ کے باہر 28 جنوری 2026 کی شام داتا دربار سے متصل پرندہ بازار کے پاس ایک افسوس ناک حادثہ پیش آیا۔ حکام کے مطابق 24 سالہ سعدیہ اپنے شوہر اور والدہ کے ساتھ مندرجہ بالا مقام پر پہنچیں اور رکشہ لینے کی کوشش میں تھیں۔
اندھیرے اور تعمیراتی کام کے باعث کھلے مین ہول کو نہ دیکھ سکیں جس میں ان کی دس ماہ کی بیٹی ردا فاطمہ گر گئی۔ ماں نے بچی کو بچانے کیلئے چھلانگ لگائی لیکن تیز پانی اور تنگ سیوریج لائن کے باعث دونوں بہہ گئیں۔
مین ہول میں ماں بچی گرنے کا واقعہ ایک نظر میں واقعات:
| وقت/عمل | تفصیل |
|---|---|
| 7:32 شام | متاثرہ خاندان کے شوہر نے ریسکیو 1122 کو اطلاع دی کہ بیوی اور بچی کھلے مین ہول میں گر گئیں۔ |
| تین کلومیٹر دور | چند گھنٹے بعد عورت کی لاش آؤٹ فال روڈ کے ڈسپوزل اسٹیشن سے ملی۔ |
| 17 گھنٹے بعد | بچی کی لاش سِگیاں کے علاقے سے ملی۔ |
| متاثرہ خاندان کا مؤقف | خاندان نے پولیس کو بتایا کہ واقعہ حقیقی ہے اور کسی نے جعلسازی نہیں کی۔ پولیس نے تین افراد (شوہر و دو رشتہ دار) کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا لیکن بعد میں رہا کر دیا۔ |
ابتدائی تحقیقات اور متضاد بیانات
مین ہول میں ماں بچی گرنے کا واقعہ کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں اور مقامی انتظامیہ میں اختلافی بیانات سامنے آئے۔
بعض اہلکاروں کا کہنا تھا کہ سیوریج لائن میں پانی صرف دو فٹ تھا اور وہاں کسی کے ڈوبنے کا امکان نہیں؛ اسی بنا پر کچھ حکام نے کال کو مشکوک قرار دے کر متاثرہ خاندان کے افراد کو حراست میں لے لیا۔
دیگر حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تیز بہاؤ اور اندھیرے نے امدادی کارروائی کو مشکل بنا دیا۔ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (ڈی آئی جی) فیصل کامران نے کہا کہ ابتدائی طور پر شواہد کم تھے لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج اور واٹر فلور میں فرق کو دیکھ کر ریسکیو ٹیموں نے مسلسل سرچ آپریشن جاری رکھا۔
متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس نے ان کے گھر والوں پر شک کرکے وقت ضائع کیا، حالانکہ شوہر نے خود ریسکیو کو اطلاع دی تھی۔
حکومتی اقدامات – تحقیقات اور معطلیاں
سانحے کی خبر پر پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے سخت نوٹس لیا۔ جیو نیوز کے مطابق انہوں نے بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس بلایا اور واقعے کی غیر جانبدار تحقیق کیلئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
اہم حکومتی اقدامات:
داتا دربار منصوبہ معطل: لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے ڈائریکٹر جنرل نے پوری ٹیم کو معطل کیا اور منصوبہ منیجر، سیفٹی اِنچارج اور سائٹ اِنچارج کے خلاف کارروائی شروع کی۔
ٹھیکیدار اور نیسپاک انجینئر کو شوکاز نوٹس: حکام نے تعمیراتی کمپنی اور مقامی کنسلٹنٹ (نیسپاک) کے انجینئر کو حفاظتی اقدامات نہ کرنے پر نوٹس جاری کئے۔
حقائق جانچنے والی کمیٹی: کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹریز اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل شامل ہیں اور اسے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔
فوجداری مقدمہ: مرنے والی عورت کے والد نے بھاٹی گیٹ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی جس میں منصوبے کے منیجر اور سائٹ انچارج کو غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
ڈپٹی اسپیکر کا ’فیک نیوز‘ بیان
واقعہ سامنے آنے کے بعد حکومت اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار صحافیوں نے مین ہول میں ماں بچی گرنے کا واقعہ فیک نیوز قرار دیا۔ لیکن جب لاش مل گئی تب بھی حکومتی رویہ افسوسناک حدوں کو چھونے لگا۔
سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں۔
جب صحافی علی وقار نے ان سے پوچھا کہ بھاٹی گیٹ کے باہر ماں‑بچی کے گرنے کا واقعہ آیا ہے، تو انہوں نے دو بار کہا کہ یہ ’فیک نیوز‘ ہے اور انہوں نے خود پتہ کروایا ہے۔ صحافیوں نے بتایا کہ لاشیں مل چکی ہیں لیکن ڈپٹی اسپیکر اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
ماں بیٹی دونوں کی لاشیں مل چکی ہیں ویڈیوز موجود ہیں مگر لیگی رہنما اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ اب بھی واقعہ کو فیک نیوز قرار دے رہے ہیں۔ pic.twitter.com/pf8UXUOFv1
— Muhammad Umair (@MohUmair87) January 29, 2026
یہ بیان اس لیے قابلِ تنقید ہے کہ اس وقت تک ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نے میڈیا کے سامنے تصدیق کر دی تھی کہ ماں کی لاش مل گئی ہے اور بچی کی تلاش جاری ہے۔ سرکاری نمائندے کی طرف سے اسے ’فیک نیوز‘ قرار دینا نہ صرف متاثرہ خاندان کے دکھ کا مذاق تھا بلکہ حکومتی اداروں کے بیانیے کو بھی مشکوک بنا گیا۔
عوامی غصہ اور سوشل میڈیا کے تبصرے
حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غصہ دیکھنے میں آیا۔ مختلف پلیٹ فارمز پر عوام واقعہ پر صدمے میں اور حکومت بیانات پر سخت برہم دکھائی دی۔
ایک صارف نے لکھا، “تصور کریں اس خاندان کی اذیت کہ آنکھوں کے سامنے دو پیارے گٹر میں گرے اور حکومت ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے انہی سے تفتیش کر رہی ہے”۔
ایک اور تبصرہ تھا، “یہ پنجاب کی فیک فارم 47 حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے”۔
کئی لوگوں نے حکومت کی ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے لوگوں کیلئے پیدل چلنے والی جگہوں پر روشنی اور حفاظتی نشانات نہیں، لیکن پارکوں اور یادگاروں پر روشنیوں کا انتظام ہے۔
بعض نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے دعوے پر طنز کیا کہ وہ رات کو کھلے مین ہول چیک کرتی ہیں؛ ایک ردعمل میں کہا گیا کہ “کیا یہ سب ڈرامہ تھا؟”۔
ایک اور صارف نے پیشگوئی کی کہ “شاید چند عہدیداروں کو معطل کر کے معاملہ ختم کر دیا جائے گا اور عوام اسی طرح مرتے رہیں گے”۔
سوشل میڈیا کے کچھ صارفین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ حکومتی مشینری اور چند صحافی کیوں واقعے کو جھوٹ قرار دینے میں اتنی تیز تھیں جبکہ ریسکیو اہلکاروں کی تفتیشی آڈیو میں بھی شک ظاہر کیا گیا تھا۔
اختتامیہ
لاہور کے داتا دربار کے قریب کھلے مین ہول میں ماں بچی گرنے کا واقعہ ہولناک ہے۔ واقعے کی حقیقت اور بعد ازاں حکومتی بیانیے میں تضادات نے کئی سوالات جنم دیے۔
ریسکیو ٹیموں نے بروقت اطلاع کے باوجود شروع میں شک کیا اور پولیس نے متاثرہ خاندان کو حراست میں لے کر حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے اسے ’فیک نیوز‘ قرار دینا سرکاری غیر سنجیدگی کا مظہر ہے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کو شفاف اور موثر بنائے، معطلیوں اور کمیٹیوں کے بعد عملی اصلاحات کرے اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دے۔ ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کو تلاش کریں اور حکام کو جوابدہ بنائیں۔ اس سانحے نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جب حقیقت کو مشکوک بنا دیا جائے تو انسان کی جان کی قیمت صرف ایک بیانیہ رہ جاتی ہے۔



