
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار میتوں کی مفت میت منتقلی سروس کے لیے "ڈیسیزڈ کیئر سروس” (Deceased Care Service) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کو ان مشکل لمحات میں مالی بوجھ سے بچانا ہے جب نجی ایمبولینس مالکان میت کی منتقلی کے لیے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس سروس کے لیے مختص گاڑیوں کی چابیاں حکام کے حوالے کیں اور فلیٹ کا معائنہ کیا۔
میت منتقلی سروس پراجیکٹ کے اہم خدوخال
اس سروس کو پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو 1122) کے زیر انتظام چلایا جائے گا۔ اس کے نمایاں نکات درج ذیل ہیں:
ابتدائی مرحلہ: پہلے مرحلے میں یہ سروس لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں شروع کی گئی ہے۔
صوبائی نیٹ ورک: حکومت کا ہدف ہے کہ جون 2026 تک اس سروس کو پنجاب کی تمام 216 تحصیلوں تک پھیلا دیا جائے۔
مفت سہولت: سرکاری ہسپتالوں سے میت کو گھر تک پہنچانے کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
اسمارٹ مانیٹرنگ: تمام ایمبولینسز کو "اسمارٹ مینجمنٹ سسٹم” سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور بروقت رسائی ممکن ہو۔
بین الاضلاعی منتقلی: منصوبے کے مطابق ایک شہر سے دوسرے شہر میت کی منتقلی کی سہولت بھی مرحلہ وار فراہم کی جائے گی۔
مفت سروس حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار
پنجاب حکومت نے اس سروس کے حصول کے لیے نہایت سادہ اور شفاف طریقہ کار وضع کیا ہے:
ہیلپ لائن (1122): میت کی منتقلی کے لیے متاثرہ خاندان کسی بھی وقت ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر کال کر سکتے ہیں۔
ہسپتال ڈیسک: تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں "ڈیسیزڈ کیئر سروس” کے خصوصی ڈیسک قائم کر دیے گئے ہیں جہاں موجود عملہ فوری گاڑی فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔
درکار معلومات: کالر کو صرف میت کا نام، ہسپتال کا نام اور منزل (گھر کا پتہ) بتانا ہوگا۔
کوئی فیس نہیں: یہ سروس سو فیصد مفت ہے؛ اگر کوئی اہلکار رقم کا مطالبہ کرے تو فوری طور پر 1122 یا ہسپتال انتظامیہ کو شکایت کی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ کا وژن: "دکھ کی گھڑی میں عوام کا ساتھ”
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ:
"یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا کہ اپنوں کے بچھڑنے کے غم میں نڈھال لوگ نجی ایمبولینسوں کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت کا مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر وہ عزت اور وقار دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔”
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق، اس سروس کے ذریعے نجی ایمبولینس مافیا کے استحصال کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
خلاصہ
اگر آپ یا آپ کے گردونواح میں کسی کو سرکاری ہسپتال سے میت گھر لے جانے کے لیے سواری کی ضرورت ہو، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ صرف 1122 ملائیں اور حکومتِ پنجاب کی اس مفت اور باعزت سروس سے فائدہ اٹھائیں۔



